Updated: June 23, 2026, 5:06 PM IST
| New Delhi
ہندوستان میں نیٹ (NEET) امتحان کے پرچہ لیک اسکینڈل کے بعد عائد کی گئی عارضی پابندی ختم ہونے پر ٹیلی گرام کی سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔ تاہم، کئی صارفین کو اب بھی ایپ اور ویب ورژن تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
انسٹنٹ میسجنگ پلیٹ فارم ٹیلی گرام منگل کی صبح ہندوستان میں بعض موجودہ صارفین کیلئے دوبارہ فعال ہونا شروع ہوگیا جبکہ گوگل نے بھی سرکاری پابندی کی مدت ختم ہونے کے بعد اس ایپ کو اپنے پلے اسٹور پر بحال کر دیا۔ یہ پابندی ۲۲؍جون کی رات بارہ بجے ختم ہوئی تھی۔ ایپ گوگل پلے اسٹور پر واپسی سے پہلے ہی کچھ صارفین کیلئے قابلِ رسائی ہو چکی تھی، تاہم، صبح تقریباً۱۰؍ بجے تک ایپل کے ایپ اسٹور پر ٹیلی گرام دستیاب نہیں تھا۔ ایپل سے اس حوالے سے رابطہ کیا گیا، مگر فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی میں نئے اندراج والے رائے دہندگان میں مسلمانوں کی حصہ داری ۳۵؍ فیصد ہونے کا شوشہ
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری کردہ پابندی کے حکم میں نہ تو کوئی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی اس میں توسیع کی گئی ہے۔ حکومت نے یہ عارضی پابندی اس وجہ سے عائد کی تھی کہ ٹیلی گرام نیٹ (NEET) امتحان کے جعلی پرچوں کی گردش، گمراہ کن معلومات کی ترسیل اور دیگر دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام رہا تھا، جس سے امتحانی عمل متاثر ہوا۔ پابندی سے قبل۳؍ جون کو حکومتی حکام نے ٹیلی گرام کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی اور ان تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔ بعد ازاں حکومت نے ٹیلی گرام، اس کے ویب لنکس اور ویب ورژن کو۲۲؍ جون تک بلاک کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت نے ٹیلی گرام کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ وہ اپنے پیغام میں ترمیم (Message Editing) کے فیچر کو ۳۰؍ جون تک معطل رکھے۔ ۲۱؍جون کو نیٹ کا دوبارہ امتحان منعقد کیا گیا اور اب تک کسی نئی دھوکہ دہی یا جعل سازی کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امراوتی : میل گھاٹ میں پانی کے مسئلے سے دوچار بوردھا گاؤں والوں نے بورویل خود کھدوالیا
کیا ٹیلی گرام پر پابندی واقعی ختم ہو گئی ہے؟
اب تک حکومت کی جانب سے پابندی ختم کئے جانے کا کوئی باضابطہ اعلان جاری نہیں کیا گیا، تاہم، متعدد رپورٹس کے مطابق پابندی صرف۲۲؍ جون تک نافذ تھی اور اب ختم ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود مختلف ذرائع میں متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ۲۳؍ جون کو دوپہر۱۲؍ بجے کی صورتحال کے مطابق ٹیلی گرام ایپل ایپ اسٹور پر دستیاب نہیں تھا جبکہ گوگل پلے اسٹور پر بعض صارفین صرف موجودہ ایپ کو اپ ڈیٹ کر سکتے تھے، نئے ڈاؤن لوڈ کی سہولت ہر صارف کیلئے دستیاب نہیں تھی۔ امتحانی تیاری کرنے والی بہار کی۲۵؍ سالہ طالبہ میگھنا مشرا نے کہا کہ پابندی کا سب سے زیادہ نقصان طلبہ کو ہوا ہے، کیونکہ بہت سے امیدوار مفت مطالعاتی مواد اور موک ٹیسٹ کیلئے ٹیلی گرام چینلز پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک ہفتہ بھی مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والوں کیلئے بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اسی طرح دہلی کے کرول باغ سے تعلق رکھنے والے یو پی ایس سی امیدوار انکت سرکار نے کہا:’’حکومت جانتی ہے کہ پابندی سے مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوتا، کیونکہ وی پی این ایپس آسانی سے دستیاب ہیں۔ اگر طلبہ مطالعے کیلئے وی پی این استعمال کر سکتے ہیں تو ہیکرز اور جرائم پیشہ عناصر بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ ‘‘