Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر آرٹی آئی قوانین کی ترامیم واپس نہ لینے پربھوک ہڑتال: انا ہزارے

Updated: June 23, 2026, 5:06 PM IST | Mumbai

اناہزارے نے مہاراشٹر آرٹی آئی قوانین کی ترامیم واپس نہ لینے پر ۵؍ جولائی سے بھوک ہڑتال کی دھمکی دی ہے،انھوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ ترامیم وہ شفافیت کے قانون کو کمزور کرنے والی ہیں۔

Renowned social activist Anna Hazare. Photo: INN
معروف سماجی کارکن انا ہزارے۔ تصویر: آئی این این

معروف سماجی کارکن انا ہزارے نے مہاراشٹر رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) قوانین۲۰۲۶ء کی مخالفت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر ریاستی حکومت نے ان ترامیم کو واپس نہ لیا جنہیں وہ شفافیت کے قانون کو کمزور کرنے والا قرار دیتے ہیں، تو وہ۵؍ جولائی سے غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کر دیں گے۔ہزارے کا الزام ہے کہ نئے قوانین کے تحت متعارف کرائی گئی متعدد دفعات معلومات کے حق کے قانون کی روح کو مجروح کرتی ہیں اور شہریوں کے لیے سرکاری اداروں سے معلومات حاصل کرنا مزید مشکل بنا دیتی ہیں۔منگل کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر۲۴؍ جون کو بات چیت طے ہے اور اس کے بعد کارروائی کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ہزارے نے کہا، ’’تمام فیصلے پرسوں شام ۴؍ بجے لیے جائیں گے۔ اگر قانون کو کمزور کرنے کا ارادہ نہ ہوتا تو ایسے مضحکہ خیز قوانین کیوں بنائے جاتے؟ میں نے ۱۹۹۸ء، ۲۰۰۱ء، ۲۰۰۴ء اور ۲۰۰۶ءمیں آر ٹی آئی پر تحریکیں چلائیں... اگر پرسوں کی گفتگو میں ہمارے مسائل کا حل نکل آیا تو ہڑتال منسوخ کر دی جائے گی؛ بصورت دیگر تحریک ہوگی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں پر کانگریس کی مرکز پر شدید تنقید

ا نا ہزارے کی جن دفعات کی مخالفت ہے ان میں آر ٹی آئی درخواست کی فیس کو۱۰؍ روپے سے بڑھا کر۳۰؍ روپے کرنا بھی شامل ہے۔وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس کو لکھے گئے خط میں، سماجی کارکن نے فیس میں اضافے کے پیچھے منطق پر سوال اٹھایا اور استدلال کیا اگر۲۰؍ سال بعد فیس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو معلومات دینے سے انکار کرنے والے افسران پر جرمانے بھی بڑھائے جائیں۔اس کے علاوہ ہزارے نے آر ٹی آئی درخواست دیتے وقت درخواست گزاروں کے لیے شناختی ثبوت جمع کروانا لازمی قرار دینے کی شرط پر بھی اعتراض کیا ہے۔ان کے مطابق، یہ شق آر ٹی آئی قانون کے مقصد کے خلاف ہے، جس کے تحت شہریوں کو اپنی ذاتی تفصیلات ظاہر کرنے یا یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ معلومات کیوں حاصل کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی شرائط مخبروں اور کارکنوں کو ممکنہ خطرات سے دوچار کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: باغیو ں نے ممتا بنرجی کو چیئرمین کے عہدہ سے ہٹا دیا

علاوہ ازیں سماجی کارکن نے مہاراشٹر آر ٹی آئی قوانین۲۰۲۶ء کے تحت متعارف کرائی گئی کئی دیگر دفعات پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ان میں ایک موضوع، ایک درخواست کا اصول، آر ٹی آئی درخواستوں کے لیے لفظوں کی حد، اور درخواست گزار کی وفات کی صورت میں درخواستوں کو بند کرنے کی اجازت دینے والی دفعات شامل ہیں۔ہزارے نے ان قوانین پر بھی تنقید کی ہے جو سماعتوں کے دوران درخواست گزاروں کی غیر موجودگی میں اپیلیں مسترد کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور ان دفعات پر جو انفارمیشن کمیشن کے سامنے قانونی نمائندگی کو محدود کرتی ہیں۔انہوں نے بار بار درخواست دینے سے متعلق اقدامات کی بھی مخالفت کی، یہ استدلال کرتے ہوئے کہ یہ شہریوں کو اپ ڈیٹ یا مکمل معلومات حاصل کرنے سے روک سکتے ہیں۔ہزارے کے مطابق، ترامیم شہریوں پر اضافی بوجھ ڈالتی ہیں بجائے اس کے کہ شفافیت کے قوانین کے نفاذ میں خامیوں کو دور کیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: مسلمانوں کوسماجی،سیاسی طورپرالگ تھلگ کرنےکیخلاف مسلم پرسنل لاء بورڈ نےملک گیر تحریک کااعلان کیا

بعد ازاں اپنے خط میں، ہزارے نے آر ٹی آئی تحریک کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی اور گزشتہ تین دہائیوں کے دوران چلائی گئی مہموں کو اجاگر کیا۔ہزارے نے ریاستی حکومت کی جانب سے عوامی مشاورت کے بغیر ترامیم متعارف کرانے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حکام کو اس کے بجائے آر ٹی آئی قانون کی دفعہ ۴؍ کے تحت فعال انکشاف کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ساتھ ہی عمل کو مزید تکنیکی، مہنگا اور انتظامیہ پر مرکوز بنانے پر تنقید کی۔ مزید برآں حتمی انتباہ جاری کرتے ہوئے، ہزارے نے کہا کہ اگر قوانین کو واپس نہ لیا گیا تو وہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر چلے جائیں گے۔تاہم مہاراشٹر حکومت نے ابھی تک ترمیم شدہ آر ٹی آئی قوانین کو واپس لینے کے ہزارے کے حالیہ مطالبے پر عوامی سطح پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK