• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نئے پرانے چراغ: مہاراشٹر کی اُردو محفلوں کو نئی روشنی کی ضرورت

Updated: September 28, 2026, 4:20 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

دہلی اردو اکادمی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا پانچ روزہ ادبی اجتماع ’’نئے پرانے چراغ‘‘ ایک قابل قدر کوشش ہے نئی نسل کے ادیبوںکو اپنی پیش رو نسل کے تجربات سے سیکھنے کا موقع دینے کی ، یہ سلسلہ مہاراشٹرکی ادبی تنظیمیں بھی شروع کرسکتی ہیں جس میں نئی نسل اور سینئر ادباء کو ایک ساتھ لایا جائے اور نوجوانوں کو ان سے کچھ سیکھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

Dr. Qamar-ul-Hasan, Professor Kausar Mazhari, Lekh Raj (Secretary, Urdu Academy), Dr. Parvez Shahryar, and Dr. Shadab Shamim can be seen (from right) at the creative session of the Delhi Urdu Academy’s program, "Naye Purane Chiragh." Photo: INN
دہلی اردو اکیڈمی کے پروگرام ’’نئے پرانے چراغ‘‘  کےتخلیقی اجلاس میں دائیں سے ڈاکٹر قمرالحسن، پروفیسر کوثر مظہری، لیکھ راج(سیکریٹری اردو اکیڈمی )، ڈاکٹر پرویز شہریار اور ڈاکٹر شاداب شمیم دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

ادب کا رشتہ صرف کتاب اور قاری کا رشتہ نہیں، یہ نسلوں کے درمیان قائم ایک ایسا زندہ رابطہ بھی ہے جس کے ذریعے ایک عہد کا تجربہ دوسرے عہد تک پہنچتا ہے۔ بزرگ اہل قلم اپنے ساتھ ایک پوری ادبی روایت، مطالعے کی وسعت، زندگی کے تجربات اور زبان کے نشیب و فراز کی آگہی لے کر چلتے ہیں جبکہ نئی نسل اپنے ساتھ نئے سوالات، نئی حسیت، نئے موضوعات اور بدلتے ہوئے زمانے کا شعور لاتی ہے۔ ادب کی بقا اسی وقت ممکن ہے جب یہ دونوں ایک دوسرے سے ہم کلام رہیں۔ روایت نئی نسل سے جڑتی رہے اور نئی نسل روایت سے اپنا رشتہ برقرار رکھتے ہوئے اپنے عہد کی آواز بننے کی کوشش کرے۔اسی حوالے سے دہلی اردو اکادمی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا پانچ روزہ ادبی اجتماع ’’نئے پرانے چراغ‘‘ خاص توجہ کا مستحق ہے۔ یہ محض ایک ادبی تقریب نہیں بلکہ ایک ایسے تصور کی عملی صورت ہے جس کی آج اردو کی تمام ادبی بستیوں کو ضرورت ہے۔ اس  پروگرام میں ایک طرف اردو ادب کے سینئر اہل علم اور تجربہ کار ادیب موجود تھے تو دوسری طرف یونیورسٹیوں کے ریسرچ اسکالرس اور نئی نسل کے قلم کاروں کو اپنی تحقیقی، تنقیدی اور تخلیقی صلاحیت پیش کرنے کا موقع ملا۔یہی وہ پہلو ہے جس پر مہاراشٹر کے اردو ادبی حلقوں کو بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے:مجروح (سلطانپوری) منفرد شاعر، کامیاب نغمہ نگار اور عمدہ شخصیت

مہاراشٹر اردو زبان و ادب کی کوئی معمولی سرزمین نہیں ہے۔ ممبئی سے لے کر اورنگ آباد، ناندیڑ، پربھنی، مالیگاؤں، جلگاؤں، بھیونڈی اور دیگر کئی شہروں تک اردو نے اپنے تہذیبی اور ادبی نقوش چھوڑے ہیں۔ یہاں اردو صحافت کی ایک تاریخ ہے، شاعری کی بہت مضبوط روایت ہے، افسانہ اور تحقیق  میں کئی اہم  نام ہیں، جامعات میں اردو کے شعبے ہیں، ادبی انجمنیں ہیں، مشاعرے ہوتے ہیں اور ایسے بے شمار اہل قلم ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اردو کی خدمت میں صرف کی ہے۔ اس کے باوجود ایک سوال بار بار سامنے آتا ہے، کیا ہماری یہ تمام ادبی قوتیں ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑ پاتی ہیں جس طرح جڑنا چاہئے؟ ہماری ادبی محفلیں کم نہیں، لیکن شاید ان محفلوں کی نوعیت پر اب نئے سرے سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ریاست میں اردو کیلئے کئی طرح کے پروگرام ہوتے ہیں لیکن نئی نسل اور پرانی نسل کے درمیان وہ مسلسل اور بامعنی مکالمہ کم دکھائی دیتا ہے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ نوجوان ریسرچ اسکالرس اپنی تحقیق کر رہے ہیں، نئی نسل کے شاعر اور افسانہ نگار لکھ رہے ہیں، سوشل میڈیا پر اردو میں اظہار بھی ہو رہا ہے، لیکن ان کی ادبی تربیت، ان کی تخلیقات پر سنجیدہ گفتگو اور تجربہ کار اہل قلم سے براہِ راست استفادہ کے مواقع محدود ہیں۔ دہلی اردو اکیڈمی کا ’’نئے پرانے چراغ‘‘ اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک قابلِ ذکر کوشش ہے۔اس پروگرام کی سرگرمیوں پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ نوجوان محققین نے اردو ناول، افسانے، انشائیے، ترجمہ، فلمی صحافت، بچوں کی نفسیات، ڈیجیٹل عہد اور دیگر متنوع موضوعات پر تحقیقی و تنقیدی مقالات پیش  کئے۔ ان مقالات پر سینئر  ادباء نے گفتگو کی، خامیوں کی نشاندہی کی، تحقیق کے تقاضوں کی طرف توجہ دلائی اور نوجوان اسکالرس کو وسیع مطالعے کا مشورہ دیا۔ کسی نوجوان محقق کے لئے اس سے بہتر موقع کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی محنت کو ایسے افرادکے سامنے پیش کرے جنہوں نے اپنی زندگیاں ادب کے مطالعے اور تحقیق میں گزاری ہوں۔یہی دراصل ادبی تربیت ہے۔ نوجوان قلم کار اگر صرف تعریف سنیں گے تو شاید اپنی کمزوریوں سے کبھی واقف نہ ہوسکیں۔ انہیں ایسے بزرگوں کی ضرورت ہے جو محبت کے ساتھ ان کی غلطیوں کی نشاندہی کریں اور انہیں بتائیں کہ ایک اچھی تحریر اور ایک معمولی تحریر میں فرق کہاں پیدا ہوتا ہے۔دہلی  اردو اکیڈمی کے پروگرام میں تحقیقی مقالہ اور مضمون کے فرق کی طرف پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے اہم باتوں پر توجہ دلائی ، اکیڈمک رائٹنگ کی اہمیت واضح کی  اور نوجوان محققین کو دوسری زبانوں میں موجود معیاری تحقیقی کام کے مطالعے کا بھی مشورہ دیا۔ یہ باتیں بظاہر معمولی محسوس ہوسکتی ہیں، مگر نئی نسل کی ادبی تربیت میں ان کی بہت اہمیت ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:انتقال کے ۲۰۰؍ سال بعد بھی میر، میر ہیں تو کیوں ہیں؟

مہاراشٹر میں بھی اگر اسی طرح کے ادبی اجتماعات منعقد ہوں تو ایسے پروگراموں میں نوجوانوں کو مرکز میں جگہ دی جائے۔ انہیں اپنے  مقالات پیش کرنے کا موقع ملے، ان کی تخلیقات سنی جائیں، سینئر ادیب ان پر گفتگو کریں اور کھلے دل سے رہنمائی کریں۔ اس کے ساتھ زبان، اسلوب، تلفظ، تحقیق، حوالہ، ترجمہ اور تنقید کے عملی پہلوؤں پر ورکشاپس بھی منعقد  کئے جاسکتے ہیں۔ کیوں نہ مہاراشٹر میں بھی ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کے نام سے یا کسی دوسرے موزوں عنوان کے ساتھ  ادبی  سلسلہ شروع کیا جائے؟یہ سلسلہ صرف ممبئی یا بھیونڈی تک محدود رہنے کے بجائے پورے مہاراشٹر میںجاری رہے۔  ایک مرتبہ ممبئی میں پھر پونے، ناندیڑ، اکولہ، اورنگ آباد، مالیگائوں، بھیونڈی ،شولاپور یا کسی دوسرے اہم اردو مرکز میں۔ اس طرح  نئی نسل کو یہ احساس بھی ہوگا کہ اردو کا ادبی منظرنامہ کسی ایک شہر یا چند معروف ناموں تک محدود نہیں ہے۔

اس طرح کے اجتماع میں ایک اور اہم کام ہوسکتا ہے، مہاراشٹر کی ادبی تاریخ سے نئی نسل کا تعارف۔کتنے شاعر، افسانہ نگار، صحافی، محقق، مترجم اور استاد ایسے ہیں جن کی خدمات ہماری ادبی تاریخ کا حصہ ہیں مگر ان کا ذکر اب صرف پرانی کتابوں یا چند بزرگوں کی یادوں میں باقی ہے۔ ضرورت ہے کہ ان شخصیات پر خصوصی نشستیں ہوں، ان کی کتابیں دوبارہ زیر بحث آئیںاور نئی نسل کو بتایا جائے کہ آج کی ادبی زمین کن محنتوں سے تیار ہوئی ہے۔دوسری طرف نوجوانوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ جدید ہونے کا مطلب روایت سے بے نیاز ہوجانا نہیں ہے۔ نئی نسل اگر بزرگوں کے تجربے سے فائدہ اٹھائے اور بزرگ نئی نسل کے جوش و جذبے کو راہ دیں تو اردو کا ادبی مستقبل زیادہ روشن ہوسکتا ہے۔یہ ذمہ داری صرف ادیبوں کی نہیں، ادبی تنظیموں کی بھی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK