جنہوں نے فکر کی سب کی اب اُن کی فکر کے دن ہیں

Updated: September 12, 2020, 10:31 AM IST | Shahid Latif | Mumbai

کورونا کے اس وبائی دور میں معمر افراد پہلے سے زیادہ توجہ کے مستحق ہیں کیونکہ یہ وباء اُنہی پر زیادہ اثرانداز ہورہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا سماج اس کی فکر کررہا ہے؟ مَیں ایک ایسے بزرگ کو جانتا ہوں جو اپنے جواں سال بیٹے کو اپنے کمسن بیٹے (پوتے) سے بے پناہ محبت کرتا ہوا دیکھتے ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور اس خوشی میں اکثر بھول جاتے ہیں کہ اُن کا بیٹا، جتنا اپنے بیٹے کو چاہتا ہے، اُتنا ہی وہ اپنے بیٹے کو اُس کے بچپن میں چاہتے تھے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

مَیں ایک ایسے بزرگ کو جانتا ہوں جو اپنے جواں سال بیٹے کو اپنے کمسن بیٹے (پوتے) سے بے پناہ محبت کرتا ہوا دیکھتے ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور اس خوشی میں اکثر بھول جاتے ہیں کہ اُن کا بیٹا، جتنا اپنے بیٹے کو چاہتا ہے، اُتنا ہی وہ اپنے بیٹے کو اُس کے بچپن میں چاہتے تھے اور اس کی ہر فرمائش کو پورا کرتے تھے مگر بڑاہونے کے بعد بیٹا تغافل آشنا ہوگیا، وہ باپ کی اُتنی فکر نہیں کی جتنا اس کی فکر کی گئی تھی۔ بچے اگر کسی سماج کا آنے والا کل ہیں تو بزرگ اسی سماج کا گزرا ہوا کل۔ انسان نہ تو آنے والے کل سے بے پروا ہوسکتا ہے نہ ہی گزرے ہوئے کل سے ناطہ توڑ سکتا ہے۔ بچے اگر اس کی اُمید ہیں تو بزرگ اس کا اثاثہ۔ چونکہ سماج عموماً بچوں ، بڑوں اور بزرگوں ہی پر مشتمل ہوتا ہے (اور اگر بزرگوں کے بھی بزرگ موجود ہوں تو یہ اُن گھروں کی خوش قسمتی ہے) اس لئے جتنی ضروری بچوں کی فکر ہے اُتنی ہی ضروری بزرگوں کی قدرو منزلت ہے۔ لیکن، اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ بچوں کی دیکھ بھال اور فکر میں کوتاہی نہیں کرتے مگر بزرگوں کے بارے میں شاید یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حضرات اپنا وقت گزار چکے ہیں ۔ ایسا کرتے وقت وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جو وقت گزر گیا اُس کا گزرنا اتنا مشکل نہیں تھا مگر اب جو وقت ہے (ضعف کی وجہ سے) اس کا گزرنا ازحد مشکل ہے۔ موجودہ حالات میں جبکہ کورونا وائرس نے پوری دُنیا کو اور دُنیا کے ہر سماج کو بُری طرح پریشان کررکھا ہے اور اس وباء کے پیش نظر معمر افراد ہی زیادہ حساس بن کر سامنے آرہے ہیں ، موت کی آغوش میں پہنچنے والوں میں بھی انہی کی تعداد زیادہ ہے، اس لئے اہل خانہ اور سماج کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ 
 یہ وطن عزیز کی خوش نصیبی ہے کہ یہاں نوجوانوں کی آبادی زیادہ اور بزرگوں کی آبادی کم ہے۔ اس کے برخلاف جاپان، اٹلی، فرانس اور بلغاریہ وغیرہ میں یہ آبادی خاصی (۲۰؍ تا ۲۸؍ فیصد) ہے۔ ہندوستان میں آبادیٔ بزرگاں کم ضرور ہے مگر چونکہ ہماری مجموعی آبادی زیادہ ہے اس لئے بزرگوں کی آبادی کو کم نہیں کہا جاسکتا۔ ورلڈ پاپولیشن رپورٹ ۲۰۱۹ء کے مطابق ہندوستان میں ۶۵؍ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی آبادی، مجموعی آبادی کا ۶؍ فیصد ہے۔ چونکہ حالات بدلتے جارہے ہیں ،مشترکہ خاندانی نظام شکست و ریخت کے عمل سے گزر رہا ہے، چھوٹے خاندانوں کو ترجیح دی جانے لگی ہے اور بڑی حد تک ’’یا شیخ اپنی اپنی دیکھ‘‘ کا رجحان صاف نظر آرہا ہے اس لئے یہ آبادی ہم سب کی توجہ کی مستحق ہے بالخصوص اس حقیقت پر توجہ مرکوز رکھنا ازحد ضروری ہے کہ وقت جو تیزی سے گزرتا ہے وہ ہر نوجوانوں کو روزانہ بڑھاپے کی طرف کھینچتا ہے چنانچہ آج جو نوجوان ہے اُسے کل بزرگوں کی فہرست میں شامل ہونا ہی ہے، اس سے مفر نہیں ہے۔ آج بزرگوں کی فکر اور خدمت کے رجحان کو تقویت بخشی گئی تو کل یہی رجحان اُن کے کام آئے گا اور اُنہیں فائدہ پہنچائے گا۔ 
  ہمارا آپ کا مشاہدہ ہے کہ بزرگوں کے معاملے میں سماج تین طبقات میں بٹا ہوا ہے۔ ایک وہ طبقہ ہے جو بزرگوں کی خدمت کو سعادت سمجھتا ہے اور اُن کی دیکھ بھال میں کوتاہی نہیں کرتا۔ دوسرا وہ طبقہ جو کوتاہی تو نہیں کرتا لیکن دل سے آمادہ بھی نہیں ہوتا۔ اس طبقے کے لوگ بزرگوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اس کے باوجود ’’نباہ‘‘ کرتے ہیں کیونکہ ڈرتے ہیں کہ سماج کیا کہے گا، یا اس احساس کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں کہ اب یہ کہاں جائینگے یا ہمارے علاوہ ان کا کون ہے۔ تیسرے طبقے میں وہ افراد ہیں جو بزرگوں سے بے وفائی میں تردد نہیں کرتے۔ ان کے ساتھ بدسلوکی اور بدزبانی کرنا، کھانے پینے اور علاج معالجہ سے اُنہیں محروم رکھنا، اُن کی دولت ہتھیا لینا اور اُنہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا وغیرہ اس طبقے کے لوگوں کا وطیرہ ہے۔ مہذب اور بااخلاق معاشرہ میں پہلے طبقہ کے لوگوں کی اکثریت ہوتی ہے جبکہ دوسرے طبقے کے لوگ مٹھی بھر اور تیسرے طبقے کے لوگ بالکل نہیں یا بہت کم ہوتے لیکن کسی معاشرہ میں اگر تیسرے طبقے کے لوگوں کی تعداد بڑھ جائے تو اسے انسانیت سے عاری معاشرہ سمجھا جائیگا۔
  جہاں تک ہندوستانی معاشرہ کا تعلق ہے، اسے اپنے مہذب ہونے پر ناز ہے مگر جیسے جیسے دُنیا ترقی کی نت نئی منازل طے کررہی ہے، تہذیب کے دامن میں بدتہذیبی اور انسانیت دوستی کے سائے میں انسانیت دشمنی سر اُبھارنے لگی ہے۔ مغرب بزرگوں کو ’’بڑی شرافت کے ساتھ‘‘ اولڈ ایج ہوم پہنچا دیتا ہے اور اُن کی دیکھ بھال کا ’’چارج‘‘ ادا کرکے نام نہاد انسان دوستی کی مثال قائم کرتا ہے۔ ہم اب تک اپنے بزرگوں کے تئیں کافی ذمہ دار واقع ہوئے تھے لیکن اب ہم بھی مغرب کے راستے پر چل پڑے ہیں جس کا ثبوت ہمارے اپنے ملک میں اولڈ ایج ہومس کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔ 
  مذکورہ تین طبقات کے علاوہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اپنے بزرگوں کو نہ تو اولڈ ایج ہوم جانے دیتا ہے کہ اس کی وجہ سے بدنامی ہوگی نہ ہی اُن کے ساتھ منصفانہ سلوک کرتا ہے کہ یہ اس کی ذمہ داری ہے۔اسی طبقے کے لوگ اپنے بزرگوں کو گھر پر تکلیف پہنچاتے ہیں اور اُنہیں اپنے خراب سلوک کے اذیت ناک مراحل سے گزارتے ہیں ۔ ہرش مندر نے چند سال قبل اپنے ایک مضمون میں ہیلپ ایج انڈیا نامی تنظیم کی ایک رپورٹ کے حوالے سے لکھا تھا کہ ہندوستانی معاشرہ میں ، جہاں بزرگوں کی آبادی ۱۰۰؍ ملین کے قریب ہے، ہر ۱۰؍ میں سے۴؍ بزرگوں کا کہنا ہے کہ اہل خانہ اُن کے ساتھ گالی گلوج کرتے ہیں جبکہ ۳؍ کا کہنا ہے کہ اُنہیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ وہ ماں باپ جو اپنے بچوں کو دل و جان سے چاہتے اور پال پوس کر بڑا کرتے ہیں ، کس دل سے حالات کا یہ جبر دیکھتے ہوں گے کہ اُن کے اپنے جو سلوک اُن کے ساتھ کرتے ہیں ویسے سلوک میں غیروں کو بھی تکلف ہوگا۔ موجودہ وبائی دور میں سماج کے معمر افراد زیادہ توجہ کے مستحق ہیں یہ بات کسی کو نہیں بھولنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK