Inquilab Logo Happiest Places to Work

این آر سی نما ایس آئی آر: ۶؍ کروڑ نام حذف، ہر ووٹر مشکوک اور ہر شہری فکرمند

Updated: July 11, 2026, 5:26 PM IST | Asim Jalal | Mumbai

ملک کا ہر شہری ’’کاغذ دکھانے‘‘ پر مجبور کردیاگیا ہے، اس کے بعد بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ اس کا نام ووٹر لسٹ سے نہیں  کٹےگا کیوں  کہ’’منطقی تضاد‘‘ کا عفریت منہ پھاڑے کھڑا ہے اور اگر نام کٹا تو حکومتیں  شہری حقوق سے محروم کرنے کیلئے تیار بیٹھی ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

مودی سرکار نے۲۰۱۹ء میں  جب شہریت ترمیمی ایکٹ متعارف کرایا تھا تب وزیرداخلہ امیت شاہ کے بنگال میں  دیئے گئے ’’کرونولوجی‘‘ والے بیان سے یہ اندیشہ پیدا ہواتھا کہ کسی بھی وقت ملک گیر این آر سی کروا کر لوگوں  کو شہریت ثابت کرنے پر مجبور کیا جاسکتاہے اور پھر وہ لوگ جو خاطر خواہ دستاویزات نہیں  دکھا سکیں گے، شہریت سے محروم ہوسکتے ہیں۔ امیت شاہ نے اپنے مذکورہ بیان سے یہ اشارہ پہلے ہی دے دیا تھا کہ شہریت سے محروم ہونے پر کن لوگوں کو شہریت ترمیمی ایکٹ کے ذریعہ دوبارہ ملک کا شہری بنا دیاجائےگا اور کون محروم ہوں گے۔ اسی بنیاد پر احتجاج صرف شہریت ترمیمی ایکٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں  این آر سی کو بھی شامل کیاگیا اور ’’کاغذ نہیں  دکھائیں گے‘‘ کا نعرہ بلند کیاگیا۔ اس احتجاج میں پیش پیش رہنےوالےکچھ لوگ اپنے نا کردہ گناہوں  کی سزا آج تک بھگت رہے ہیں۔ کچھ برسوں جیل میں  گزارنے کے بعد اب تاریخوں پر عدالتوں  میں  حاضری دینے پر مجبور ہیں  تو کچھ ۶؍ سال بعد بھی قید وبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ 
دوسری طرف این آر سی نہ سہی ایس آئی آر کے نام پر ملک کا ہر شہری ’’کاغذ دکھانے‘‘ پر مجبور کردیاگیا ہے، اس کےباوجود کوئی گارنٹی نہیں  کہ اس کا نام ووٹر لسٹ سے نہیں  کٹےگااور پھر وہ شہری حقوق سے محروم نہیں  ہوگا۔ اس لئے کہ ’’منطقی تضاد‘‘ کے نام پر جب ٹیلی گراف جیسےبین الاقوامی شہرت کے حامل انگریزی اخبار کے ایڈیٹر کا نام کٹ سکتا ہے اور وہ پاسپورٹ کی تجدید سے محروم ہو سکتے ہیں تو ہماشما کس قطار میں  ہیں۔ ۲۴؍ جون ۲۰۲۵ء کو اسمبلی الیکشن سے عین قبل بہار میں انتہائی جلد بازی میں شروع کئے گئے ایس آئی آر کے سلسلے کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے۔ ا س ایک سال میں جن ریاستوں  میں یہ عمل مکمل ہوا ان میں  خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی ایک تازہ رپورٹ کےمطابق ۶؍ کروڑ نام کٹ چکے ہیں۔ بہار، یوپی، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، راجستھان، گجرات، چھتیس گڑھ، کیرالا، گوا، تمل ناڈو، انڈومان نکوبار اورپڈو چیری میں  ایس آئی آر سے پہلے ووٹرلسٹ میں  ناموں  کی مجموعی تعداد ۵۰ء۹۹؍کروڑ تھی جوگھٹ کر ۴۵ء۸۱؍ کروڑ رہ گئی ہے۔ ان میں  سے ۶۷؍ لاکھ نام ایسے ووٹرس کے تھے جو مر چکے ہیں جبکہ ۶۳ء۱۶؍ لاکھ نام ایسے ہیں جن کی ووٹر لسٹ میں شمولیت پر اعتراض کیاگیا اور وہ اس اعتراض کو غلط ثابت نہیں  کرسکے۔ اب تیسرے مرحلے میں  مہاراشٹر سمیت ۱۶؍ ریاستوں  اور مرکز کے زیر انتظام ۳؍ علاقوں (یونین ٹیریٹریز) میں  ایس آئی آر جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یہ دلیل کہ پاسپورٹ یا ووٹر کارڈجعلی بن سکتے ہیں، کمزور اور غیر معقول ہے

بہار میں انتخابی فہرستوں  کو ’’صاف‘‘ کرنے کے نام سے شروع کی گئی ایس آئی آر کی کارروائی وقت کے ساتھ زیادہ سنگین اور ملک کے ہر شہری کیلئے فکر مندی کا باعث اس لئے بن گئی ہے کہ سپریم کورٹ کی اس وضاحت کے باوجود کہ ایس آئی آر میں  نام نہ آنا شہری نہ ہونے کی تصدیق نہیں  ہے، بی جے پی کی ریاستی حکومتیں  اسے شہریت کی تصدیق کے طو رپر ہی دیکھ رہی ہیں۔ وہ اُن افراد کو شہری حقوق سے محروم کررہی ہیں  جن کے نام ایس آئی آر میں  نہیں  آئے۔ ان کے راشن کارڈ منسوخ کئے جارہے ہیں   اور انہیں  سرکاری اسکیموں  سے فائدہ اٹھانے سے محروم کیا جارہاہے۔ اس لئے یہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی سے آگے بڑھ کر بالواسطہ طور پر شہریت کی جانچ بنتی جا رہی ہے۔ یعنی اس وقت   ہم ایسے دور میں داخل ہو گئے ہیں جہاں ہر شہری ’’مشکوک‘‘ ہے اور ایس آئی آر میں  نام آنے کے بعد ہی بطور شہری اس کی حیثیت تسلیم کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد صرف رائے دہندگان کی فہرستوں  کو درست کرنا، فرضی اندراجات ختم کرنا اور غیر اہل افراد کے نام نکالنا ہے۔ بظاہر اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا لیکن جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے وہ کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔ بنیادی سوال یہی ہے کہ ۲۰۰۲ء کی جس انتخابی فہرست کو بنیاد بنا کر ایس آئی آر کیا جارہا ہے، کیا الیکشن کمیشن حلف نامہ دے سکتا ہے کہ اس میں کوئی غلطی نہیں  ہوئی۔ کیا وہ اس بات کی تصدیق کرسکتاہے کہ مذکورہ فہرست میں ووٹرس کے ناموں  کے اندراج میں  اس کے اہلکاروں سے غلطی نہیں  ہوئی، اور اگر ہوئی ہے تو آج کسی ووٹر کا یا اس کے والدین میں سے کسی کا نام ۲۰۰۲ء کی فہرست میں درج نام سے املے کے لحاظ سے مختلف ہے تو اسے ’’منطقی تضاد‘‘ کے نام پر کیسے ووٹر لسٹ سے خارج کیا جاسکتا ہے لیکن مغربی بنگال میں  ایسا ہوا ہے اور اندیشہ ہے کہ مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں  میں  بھی ایسا ہوسکتاہے۔ یعنی ۲۰۰۲ء میں  اگر الیکشن کمیشن اوراس کے اہلکاروں نے کوئی غلطی کی ہے تو اس کی قیمت عام شہری اپنی شہریت کو مشکوک کر کے ادا کرےگا؟

یہ بھی پڑھئے: سنیل تٹکرے نے ایساہی ٹویٹ کبھی سنگرام جگتاپ کے بیان پر کیوں نہیں کیا؟

یہ اس لئےزیادہ تشویشناک ہے کہ ہندوستان میں کروڑوں افراد ایسے ہیں جن کے پاس پیدائش کا سرٹیفکیٹ، آبائی زمین کے کاغذات یا کئی دہائیوں پرانے سرکاری ریکارڈ موجود نہیں ہیں۔ دیہی علاقوں، مزدور طبقے، خواتین، دلتوں، آدی واسیوں اور غریب شہریوں کیلئے ان دستاویزات کا حاصل کرنا آسان نہیں۔ اگر شہریت کا عملی معیار کاغذات کو بنا دیا جائے گا تو سب سے زیادہ نقصان انہی طبقات کو ہوگا جو پہلے ہی سماجی اور معاشی طور پر کمزور ہیں۔ آسام میں  ہونے والی این آر سی کا تجربہ ابھی زیادہ پرانا نہیں ہوا۔ لاکھوں افراد برسوں تک اپنی شہریت ثابت کرنےکی قانونی جنگ لڑتے رہے۔ خاندان تقسیم ہوئے، عدالتیں مصروف رہیں اور ہزاروں لوگ غیر یقینی کیفیت میں زندگی گزارتے رہے اورا ب بھی گزار رہے ہیں۔ اب ویسے ہی معاملات ایس آئی آر کے حوالے سے بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں کے دوران مختلف ریاستوں میں متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جن میں کئی پشتوں   سے ایک ہی مقام پر رہنے والے افراد کے نام ایس آئی آر میں  ووٹر لسٹ سے خارج ہوگئے، کبھی ۲۰۰۲ء کی فہرست میں  نام نہ ملنے کی بنا پر کبھی ’’منطقی تضاد‘‘ کے نام پر تو کبھی اس لئے کہ ان کے نام کی شمولیت پر باقاعدہ اعتراض کیاگیا اور وہ اس اعتراض کو غلط ثابت نہیں  کرسکے۔ نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر امرتیہ سین تک کو نوٹس جاری ہونا اوران سے ثبوت طلب کیا جانا یا پھر نیتاجی سبھاش چندر بوس کے پڑپوتےچندر کمار بوس کی طلبی اس کی مثالیں ہیں  کہ کس طرح ملک کے حقیقی شہری اس عمل کا شکار ہورہے ہیں۔ ٹیلی گراف کے ایڈیٹر آرراج گوپال کا نام ایس آئی آرمیں  نہ آنا جتنا حیرت انگیز ہے، اس سے زیادہ حیرت انگیز ان کے پاسپورٹ کی تجدید نہ ہونا ہے۔ یعنی حکومتی عملہ کی نظر میں  وہ ہندوستانی شہری ہی نہیں  رہ گئے۔ ایس آئی آر کا معاملہ آدھار کے لازم و ملزوم کئے جانے جیسا ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ  میں   حکومت نے یہ یقین دہانی کرائی کہ اس کا بنوانا لازمی نہیں  ہے مگر ہر ہر قدم پر اس کو پیش کیا جانا اس قدر ناگزیر کردیاگیا کہ اسے بنوانا لازمی ہوگیا۔ بالکل اسی طرح  سپریم کورٹ یہ کہتا تو ہے کہ الیکشن کمیشن یہ طے نہیں  کرسکتا کہ کون شہری ہے اور کون نہیں  اور ایس آئی آر میں نام کا نہ آنا شہریت سے محرومی پر مہر نہیں  ہے مگر حکومتیں  اسے شہریت کے تصدیق نامہ کے طو رپر ہی دیکھ رہی ہیں  اور نام نہ آنے پر شہری حقوق سے محروم کررہی ہیں۔ بعید نہیں  کہ ریاستی حکومتوں   کے اس عمل کو چیلنج کیا جائے تو ملک کی سب سے بڑی عدالت یہ حکم سنادے کہ ایسے تمام افراد کے معاملات کی شنوائی وزارت داخلہ کرے جن کے نام ایس آئی آر میں  نہیں  آئے کیوں  کہ کسی کے شہری ہونے یا نہ ہونےکی حتمی تصدیق کا اختیار اسی کے پاس ہے اور اس طرح  جولوگ ایس آئی آر میں اپنے نام کی شمولیت کیلئے خاطر خواہ ثبوت پیش نہیں  کرسکے وہ شہریت ثابت کرنے کیلئے کیا ہی ثبوت پیش کرسکیں  گے۔ مجموعی طور پر الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے ذریعہ ہر ووٹر کو مشکوک اور ہر شہری کو فکرمند کردیاہے۔ اس فکر مندی کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان اس وقت ’’مشکوک شہریوں ‘‘ کا ملک بن کر رہ گیا ہے جہاں  نہ پاسپورٹ شہریت کا ثبوت ہے نہ آدھار کارڈ، نہ راشن کارڈ اور نہ ہی پین کارڈ۔ عالم یہ ہے کہ ملک میں   شہریت کے معاملے کو تماشہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے مگر اس تماشہ میں خود کو محفوظ رکھنے کیلئے ضروری ہےکہ ایس آئی آر کے عمل کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ہر ممکن کوشش کی جائے کہ ایس آئی آر کےبعد نئی انتخابی فہرست سے نام خارج نہ ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK