اگر تیل ۲۰؍ ویں صدی کی معیشت کا ایندھن تھا تو اہم معدنیات ۲۱؍ ویں صدی کی ترقی کا خام مال ہیں۔
EPAPER
Updated: July 11, 2026, 5:24 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
اگر تیل ۲۰؍ ویں صدی کی معیشت کا ایندھن تھا تو اہم معدنیات ۲۱؍ ویں صدی کی ترقی کا خام مال ہیں۔
چند دہائیوں قبل تک تیل جدید معیشت کی شہ رگ تھا لیکن اب دنیا ایسے دور میں داخل ہوگئی ہے جہاں لیتھیم، کوبالٹ، نکل، تانبا اور دیگر کم یاب (ریئر) معدنیات نئی معیشت کے بنیادی ستون ہیں۔ برقی گاڑیاں ہوں، شمسی توانائی پر چلنے والا نظام ہو یا پھر اے آئی مراکز، جدید دفاعی سازوسامان یا ڈجیٹل معیشت ہو، تقریباً ہر شعبہ معدنیات پر منحصر ہے اس لئے دنیا بھر میں ایک نئی ’’معدنی دوڑ‘‘ شروع ہو چکی ہے۔ حکومتیں، سرمایہ کار اور بڑی کمپنیاں سبھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔ لیکن اس سے ایک بنیادی سوال پیدا ہو رہا ہے: کیا پائیداری کے وہ اصول، جو روایتی کان کنی کے دور میں بنائے گئے تھے، آج کی تیز رفتار اور جغرافیائی سیاست سے متاثر نئی معدنی معیشت کیلئے کافی ہیں ؟
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ٹوکن میکسنگ: مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک نئی دوڑ
آج دنیا میں ایک عجیب تضاد ہے۔ ایک طرف موسمی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے صاف توانائی کی طرف منتقلی اہم ہے تو دوسری طرف اسی منتقلی کیلئے درکار معدنیات کی کان کنی ماحولیات، آبی وسائل اور مقامی آبادیوں کیلئے خطرہ پیدا کر رہی ہے۔ پہلے کمپنیوں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ زمین کی زرخیزی برقرار رکھیں، آلودگی کم رکھیں، مقامی آبادیوں کے حقوق کا احترام کریں اور قدرتی وسائل کے استعمال میں احتیاط برتیں مگر آج صورتحال زیادہ پیچیدہ ہے۔ اب سوال صرف ایک کان یا ایک منصوبہ کا نہیں بلکہ پوری عالمی رسد کی زنجیر (گلوبل سپلائی چین) کا ہے، مثلاً مبینہ ماحول دوست برقی گاڑی کی بیٹری کیلئے لیتھیم کہاں سے آیا؟ اس کے حصول میں کتنے آبی وسائل استعمال ہوئے؟ مقامی آبادی پر اس کے کیا اثرات ہوئے؟ معدنیات کی صفائی اور پروسیسنگ کس ملک میں ہوئی؟ یہ تمام سوال اب پائیداری کی بحث کا حصہ ہیں۔
ہندوستان کیلئے اس بحث کی اہمیت نسبتاً زیادہ ہے۔ ملک صاف توانائی، برقی گاڑیوں اور جدید صنعتوں کی طرف بڑھنا چاہتا ہے مگر اسے اپنی معدنی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے نئے ذرائع تلاش کرنے ہونگے۔ یہ معدنیات مستقبل کی صنعتی ترقی کیلئے ناگزیر سمجھی جا رہی ہیں تاہم، چیلنج یہ ہے کہ کیا ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکتا ہے؟ عالمی سطح پر کان کنی قومی سلامتی اور جغرافیائی سیاست کا مسئلہ بن چکی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اہم معدنیات کی رسد محفوظ بنانے کیلئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ چند مخصوص ممالک پر ان کا انحصار کم ہوسکے۔
اس صورتحال نے ایک نئی سوچ کو جنم دیا ہے۔ ماضی میں سرمایہ کار معدنی ذخائر کی مقدار اور ممکنہ منافع پر نظر رکھتے تھے۔ اب وہ ماحولی اور سماجی خطرات کو بھی سرمایہ کاری کا بنیادی معیار کہنے لگے ہیں۔ بیشتر مالیاتی ادارے واضح کر چکے ہیں کہ مستقبل میں ان معدنی منصوبوں کو سرمایہ دیا جائے گا جو ماحولیاتی اور سماجی معیارات کو اپنے بنیادی ڈھانچے کا حصہ بنائینگے۔ اس کے باوجود ماہرین کہہ رہے ہیں کہ پائیداری کے موجودہ اصول نئی معدنی معیشت کی رفتار کا ساتھ دینے سے قاصر ہیں۔ ان اصولوں کی تشکیل تب ہوئی تھی جب کان کنی کا بنیادی مقصد صنعتی پیداوار تھا جبکہ آج اس کے ساتھ توانائی کی منتقلی، ٹیکنالوجی کی دوڑ، قومی سلامتی اور عالمی سیاست جیسے عوامل بھی جڑ چکے ہیں، مثلاً اگر کسی ملک کے پاس لیتھیم یا کوبالٹ کے ذخائر ہیں تو اس پر عالمی دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ جلد از جلد پیداوار شروع کرے۔ ایسے میں یہ خطرہ پیدا ہوسکتا ہے کہ ماحولیاتی جائزے، مقامی مشاورت اور طویل مدتی منصوبہ بندی کو ثانوی حیثیت ملے۔ ایسی صورت میں پرانے اصول کمزور پڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: تنہا ہیں ؟ اب دوست سے بات کرنا بن گیا ہے’’سیلف کیئر‘‘!
اس بحث کا ایک اور اہم پہلو ’’مدوّر (دائروی) معیشت‘‘ یا Circular Economy سے منسلک ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مستقبل کی پائیداری صرف نئی کانوں کی دریافت میں نہیں بلکہ استعمال شدہ مصنوعات سے معدنیات کی بازیافت میں بھی پوشیدہ ہے۔ اگر بیٹریوں، الیکٹرانک آلات اور صنعتی فضلے سے قیمتی معدنیات دوبارہ حاصل کی جائیں تو نئی کان کنی کی ضرورت کسی حد تک کم ہو سکتی ہے۔ اس لئے آج پائیداری کا تصور صرف ’’کم نقصان پہنچانے‘‘ تک محدود نہیں رہا بلکہ ’’وسائل کے دائروی تصور‘‘ کو سمجھنے سے جڑ گیا ہے۔ بالفاظ دیگر سوال صرف یہ نہیں کہ معدنیات کہاں سے نکالی جا رہی ہیں، یہ بھی ہے کہ ان کا استعمال، دوبارہ استعمال اور بازیافت کیسے ہو رہی ہے۔
ہندوستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے یہ موقع بھی ہے اور آزمائش بھی۔ اہم معدنیات روزگار، سرمایہ کاری، برآمدات اور صنعتی ترقی کے نئے دروازے کھول سکتی ہیں لیکن اگر ان وسائل کا انتظام احتیاط سے نہ کیا گیا تو وہی معدنیات ماحولیات، پانی اور مقامی آبادیوں کیلئے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ ۲۱؍ ویں صدی کی کان کنی کو صرف معدنیات کی کان کنی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ دراصل توانائی، معیشت، ماحولیات اور سماجی انصاف کے سنگم پر کھڑا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پائیداری کے پرانے اصول غلط ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک مختلف دنیا کیلئے بنائے گئے تھے۔ آج کی دنیا میں، جہاں ایک بیٹری کا تعلق عالمی سیاست، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ ہو چکا ہے، پائیداری کو بھی نئے سرے سے سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر تیل ۲۰؍ ویں صدی کی معیشت کا ایندھن تھا تو اہم معدنیات اکیسویں صدی کی ترقی کا خام مال ہیں۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی دنیا کسی نئے خام مال کے پیچھے دوڑتی ہے، اصل امتحان پیداوار کا نہیں، ذمہ داری کا ہوتا ہے۔