فٹ بال ورلڈ کپ میں کئی ایسے ممالک کی ٹیمیں کھیل رہی ہیں جن کی آبادی لاکھوں یا کچھ کروڑ میں ہےمگر ایک ارب سے زیادہ آبادی والے ہندوستان کی ٹیم نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: July 11, 2026, 5:25 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai
فٹ بال ورلڈ کپ میں کئی ایسے ممالک کی ٹیمیں کھیل رہی ہیں جن کی آبادی لاکھوں یا کچھ کروڑ میں ہےمگر ایک ارب سے زیادہ آبادی والے ہندوستان کی ٹیم نہیں ہے۔
جمعرات کوفیفا ورلڈ کپ کے راؤنڈ میں ۳۲؍ میں سینگال اوربلجیم کے درمیان رونگٹے کھڑے کردینے والے ایک مقابلے میں بلجیم کو۲-۳؍سےجیت ملی۔ اس میچ کی خاص بات بلجیم کی جیت نہیں تھی بلکہ خاص وہ ٹیم تھی جسے۲۴؍ سال پہلے ہی فیفا ورلڈکپ میں داخلہ ملا۔ سینیگال نے پہلا ورلڈ کپ ۲۰۰۲ء میں کھیلا تھا اوراسی میں کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے کا کارنامہ بھی انجام دیا تھا۔ اب ۲۴؍ سال بعد اس نے راؤنڈ آف ۳۲؍ میں بلجیم جیسی ٹیم کے دانت کھٹے کردئیے۔ چلئے اسے بھی ہم کوئی بہت خاص بات نہ مانیں لیکن یہ ضرور پیش نظررکھنا ہوگا کہ سینیگال براعظم افریقہ کا ایک غریب ملک ہے جس کی آبادی تقریباً۲۰؍ملین یعنی صرف۲؍ کروڑ ہے۔ یہ ٹیم ۲۰۰۲ء کے بعد ۲۰۱۸ء اور۲۰۲۲ء میں بھی ورلڈ کپ میں شامل رہی جبکہ درمیان کے کچھ سال کوالیفائی نہیں کرسکی۔ اس کے علاوہ ایک اوردلچسپ مقابلہ گزشتہ روز ہی کیپ ورڈےاور ا رجنٹائنا کے درمیان ہوا۔ ورلڈکپ کی فیوریٹ ٹیم ارجنٹائنا نے میچ اپنے نام کیا لیکن خلاف توقع پہلی بار ورلڈ کپ کھیلنے والی کیپ ورڈے نے وہ کھیل پیش کیا جوشائقین کو برسوں کو یادرہے گا۔ ٹیم نے میسی جیسے لیجنڈ کےسامنے ۲؍گول کئے اورمیچ ایکسٹرا ٹائم تک چلا۔ کیپ ورڈے مغربی افریقہ کا ۱۱؍ جزائر پرمشتمل ایک چھوٹا ملک ہے جس کی آبادی تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دھرم کی بنیاد پر جرم کا دفاع، دراصل قانون کو سبوتاژ کرنا ہے
ان دوممالک کے علاوہ دیگر کئی چھوٹے ملک ہیں جوامسال فیفا عالمی کپ کھیل رہے ہیں۔ مثال کے طورعراق رواں ورلڈ کپ کاحصہ رہاجس کی آبادی تقریباً۵؍ کروڑ رہے۔ مصر کی آبادی جس نے گزشتہ روز آسٹریلیا کوشکست دی، کم وبیش ۱۲؍ کروڑ ہے۔ چمپئن ارجنٹائناکی آبادی۵؍ کروڑ سے بھی کم ہے۔ ایسےمتعدد ممالک ہیں جوغریب ہیں، ترقی یافتہ نہیں ہیں، جن کی آبادی ۵؍ کروڑ سے کم ہے، بلکہ کئی کی تو کچھ لاکھ تک ہی محدود ہوگی، لیکن یہ ممالک ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں اور اس سے اہم یہ ممالک فٹ بال کھیلتے ہیں جسے دنیاکا قومی کھیل قراردینا غلط نہیں ہوگامگراس کھیل کے عالمی پلیٹ فارم پر اگر کوئی ملک نظر نہیں آتاتو وہ ہندوستان ہے۔
تقریباًایک ارب۴۰؍ کروڑ کی آبادی والا ملک ہندوستان کرکٹ کا بادشاہ ہے۔ اس ملک کی کرکٹ ٹیم سے ماضی سے اب تک سنیل گواسکر، کپل دیو، محمد اظہر الدین، سچن تنڈولکر، مہندر سنگھ دھونی، وراٹ کوہلی، روہت شرما جیسے کھلاڑیوں کے نام جڑتے آئے ہیں مگراس ملک کا عالمی فٹ بال میں کوئی نامور نمائندہ نہیں ہےاور اگر ہے تو اس کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم نے سنیل چھیتری اوربائیچنگ بھوٹیا کا نام سنا ہے۔ انہیں ہم ملک کے بہترین فٹ بالر کے طورپر جانتے ہیں لیکن ان کے ریکارڈ کے بارے میں اتنا نہیں جانتے جتناکرکٹ کے مذکورہ کھلاڑیوں کے بارے میں جانتے ہیں۔ ۴۱؍ سالہ سنیل چھیتری کی ہی مثال لے لیں۔ ان کے بارے میں تلاش کرنے پرخوشگوار حیرت کا احساس ہوا کہ پروفیشنل کلب اورکنٹری کریئر میں ان کے ۲۷۴؍ گول ہیں اورہندوستانی قومی ٹیم کیلئے ان کے ۹۵؍ گول ہیں۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہےکہ اپنی قومی ٹیموں کیلئے سب سے زیادہ گول کرنے والےبین الاقوامی کھلاڑیوں میں وہ کرسٹیانو رونالڈو(پرتگال- ۱۴۶)، لیونل میسی (ارجنٹائنا-۱۲۴ )، علی داعی (ایران-۱۰۸) کے بعدچوتھے نمبر پر ہیں۔ سنیل چھیتری نے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کیلئے ۱۵۷؍ میچوں میں شرکت کی ہے۔ فٹ بال کو اگراس ملک میں کرکٹ کی طرح اہمیت دی جاتی اوراس کی برانڈنگ واشتہارات کیلئےاتنا خرچ کیاجاتا جتنا کرکٹ پر کیاجاتا ہے تو یقیناً سنیل چھیتری، وراٹ کوہلی، دھونی اورروہت کے ہم پلہ سمجھےجاتے جو کہ وہ ہیں بھی۔ فرق کھیل اور کھیل کی برانڈنگ کا ہے۔ سنیل چھیتری اپنے اسی ریکارڈ کے ساتھ فٹ بال سے ریٹائر ہوچکے ہیں، اسلئے کرکٹ کے غلبےوالے اس ملک میں ان کا ذکر بہت کم ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تعلیم کو عام کرنے کا زبانی دعویٰ اور تعلیمی شعبےکی حقیقی صورتحال
بائیچنگ بھوٹیا ملک کے سابق اسٹرائیکررہے ہیں۔ انہوں نے قومی سطح پر ایسٹ بنگال اورموہن بگان جیسی ٹیموں کی نمائندگی کی ہے اور مجموعی طورپر۱۲۳؍گول کئے ہیں جبکہ کئی ایشیائی اور بین الاقوامی مقابلوں میں ہندوستانی ٹیم کیلئے بھی کھیلا ہے۔ بائیچنگ بھوٹیا بھی اب ریٹائر ہوچکے ہیں لیکن کسی کرکٹ لیجنڈ کی طرح ملک میں انہیں یاد نہیں کیاجاتا۔ یہ دوکھلاڑی ملک میں فٹ بال کے نمائندے نظر آتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہےکہ صرف انہی دو کھلاڑیوں پر ملک کے فٹ بال کا دارومداررہا ہے، ملک کی پوری ٹیم ہے جو فٹ بال کھیلتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہےکہ دکھائی نہیں دیتی۔ کرکٹ کےتینوں فارمیٹ کی ہندوستانی ٹیم کا اسکواڈ بہت سوں کو یادہوگا لیکن فٹ بال ٹیم کے بارے میں کہا جاسکتا ہےکہ کوئی نہیں جانتا۔ سچ کہوں تو یہ مضمون لکھتے لکھتے سرچ کرنا پڑاکہ ہندوستانی قومی فٹ بال ٹیم کا موجودہ کپتان کون ہے؟ تلاش کرنے معلوم ہوا کہ گرپریت سندھ سندھو ہیں جو ٹیم کے گول کیپر بھی ہیں۔ ملک میں کرکٹ لیگ آئی پی ایل کی طرح فٹ بال میں آئی ایس ایل بھی کھیلی جاتی ہے جس میں ۱۴؍ کلب شرکت کرتے ہیں۔ آئی پی ایل میں ہم نے کبھی کسی معاہدہ کے ختم ہونے کے بارے میں نہیں سنا کیونکہ یہ امیر لیگ ہے، اس میں یہ نوبت ہی نہیں آتی، اس میں کمپنیاں اور ایجنسیاں خود آگے بڑھ کرمعاہدہ کا حصہ بنتی ہیں ۔ آئی ایس ایل امسال مختلف کلبوں کے ساتھ کھلاڑیوں کے معاہدہ اورآل انڈیا فٹ بال فیڈریشن (اے آئی ایف ایف)کے فٹ بال اسپورٹس ڈیولپمنٹ کے ساتھ ایگریمنٹ کے ختم ہونے نتیجے میں بحران کاشکاررہا، حالانکہ یہ لیگ بہت کامیاب ثابت ہوسکتی ہےاوراس سے فٹ بال کونئی شناخت مل سکتی ہے۔ اے آئی ایف ایف کا سالانہ بجٹ صرف ۱۰۰؍ کروڑ ہے جبکہ بی سی سی آئی کا بجٹ تقریباً۹؍ ہزار کروڑ۔ یہ فرق ملک میں کرکٹ اور فٹ بال کی اہمیت اورمستقبل پرایک ہلکی سی روشنی ڈالنے کیلئے کافی ہے۔ ایک ارب سے زائد آبادی والے ملک کی قومی ٹیم فیفا میں ۱۳۸؍ ویں رینک کی حامل ہے۔ یہ قابل افسوس نہیں ہےبلکہ قابل افسوس وہ حالات ہیں جو ملک میں فٹ بال کوپنپنے نہیں دے رہے ہیں۔ فٹ بال کیلئے ملک میں حالات سازگار ہونے پرقومی ٹیم ۱۳۸؍ ویں سے ۳۸؍ ویں نمبر پر بھی آسکتی ہے لیکن اس پر توجہ تو دی جائے، عالمی سطح کا انفراسٹرکچر تو تیار کیاجائے۔ فٹ بال بنگال کا پسندیدہ کھیل ہے۔ موہن بگان ملک کا معروف اور تاریخی فٹ بال کلب ہےجس کے بارے میں جب ذکر ہوتا ہے تومحسوس ہوتا ہےکہ اس ملک میں فٹ بال کی صلاحیتیں کم نہیں ہیں لیکن آج تک ملک کی قومی ٹیم کےفیفا ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی نہ کرپانے پر ایک قلق ضرور محسوس ہوتا ہے۔