• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۷؍ سال میں قرض داروں کی تعداد ۱۲؍ سے ۲۸؍کروڑ ہوگئی، کانگریس کی شدید تنقید

Updated: September 08, 2026, 4:16 PM IST | Agency | New Delhi

ایک گرافکس کے ذریعہ کانگریس نے مودی حکومت کو نشانہ بنایا ، کہا کہ ’’مودی ہے تو ممکن ہے، اس حکومت میں لوگ تیزی کے ساتھ قرض دار بنے ہیں۔‘‘

Prime Minister Narendra Modi. Picture: INN
وزیر اعظم نریندر مودی۔ تصویر: آئی این این

ملک میں قرض داروں کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ اس کی جانکاری مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا میں بھی دی گئی تھی۔ اس معاملہ میں کانگریس نے ایک گرافکس کے ذریعہ مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ’ایکس‘ پر شیئر کردہ گرافکس میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت میں قرض دار بنے لوگ۔‘‘ اس کے ساتھ گرافکس میں دکھایا گیا ہے کہ ۲۰۱۸ءمیں جہاں ۸ء۱۲؍ کروڑلوگ قرض میں ڈوبے ہوئے تھے وہیں ۲۰۲۵ء میں قرضداروں کی تعداد بڑھ کر ۲۸ء۳؍ کروڑ ہو گئی ہے۔ یعنی ۷؍ سال میں ملک میں قرضداروں کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس پوسٹ کے ساتھ کانگریس نے طنزیہ انداز میں یہ کیپشن بھی لگایا ہے کہ ’’مودی ہے تو ممکن ہے۔‘‘قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا کے مانسون اجلاس میں وزیر مملکت پنکج چودھری نے ایک رپورٹ پیش کی تھی جس سے ان اعداد و شمار کی تصدیق ہو تی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بِلس کلب: آرام، فٹنس اور فیشن کو ایک ساتھ جوڑنے والا ہندوستانی برانڈ

اس کے ساتھ ہی  جون ۲۰۲۶ء میںجاری آر بی آئی کی فائنانشیل اسٹیبلٹی رپورٹ (ایف ایس آر) کے مطابق ہندوستان کے گھریلو سیکٹر کا قرض لگاتار بڑھ رہا ہے۔ اب یہ جی ڈی پی کا ۵ء۴۵؍ فیصد ہو گیا ہے۔ اس میں خاص طور سے غیر رہائشی خوردہ قرضوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اب یہ مجموعی گھریلو قرض کا۵۸؍ فیصد ہیں، جو رہائش، زراعت و کمرشیل قرضوں کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔آر بی آئی کے مطابق کریڈٹ انفارمیشن کمپنی ’ٹرانس یونین سبل‘ کو کریڈٹ اداروں کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق مارچ۲۰۱۸ء میں ۱۲؍کروڑ قرض لینے والوں پر مجموعی ۴۳؍ لاکھ ۶۱؍ ہزار کروڑ سے زائد کا بقایہ قرض تھا جو  مارچ۲۰۲۵ء میں بڑھ کر۱۳۵؍ لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ اس دوران قرض لینے والوں کی تعداد اور ان کا اوسط قرض، دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ظہران ممدانی کا روڈی جیولیانی کو جواب، ۱۱؍ ستمبر یادگاری تقریب میں شرکت کریں گے

 قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں لوگ روزمرہ کے خرچ پورے کرنے کیلئے بھی قرض لے رہے ہیں۔ یعنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے ای ایم آئی کے چکر میں پھنستے جا رہے ہیں۔ بیشتر معاملوں میں تو پرانے قرض ادا کرنے کیلئے بھی نئے قرض لئے جا رہے ہیں۔ اس درمیان ’پیو ریسرچ سینٹر‘ کا ایک تجزیہ سامنے آیا ہے، جس کے مطابق ہندوستان کی تقریباً ۸۴؍ فیصد آبادی یعنی  ۱۱۶؍ کروڑلوگ کم آمدنی والے زمرہ میں آتے ہیں۔ صرف ۴ء۸؍فیصد آبادی یعنی ۶؍ کروڑ ۶۰؍ لاکھ لوگ  مڈل انکم زمرے میں آتے ہیں۔
  ۲۰۴۷ء تک ہندوستان کی مڈل کلاس آبادی مجموعی آبادی کا تقریباً ۶۱؍ فیصد ہونے کی امید ہےلیکن کانگریس کا سوال ہے کہ اگر قرض لینے کا یہی حال رہا تو مڈل بھی لوور کلاس میں شمار ہونے لگے گی۔کانگریس نے کہا کہ مودی حکومت کی بے سرپیر کی معاشی پالیسی کے سبب یہ حالت ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK