• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’آل اِنڈیا ریڈیو کی اُردو نشریات کا انتظار رہتا تھا ‘‘

Updated: October 19, 2026, 4:50 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

ریڈیو کے پروگرام آفیسرس اور اس میں شرکت کرنے والے ادباء کے مطابق ان نشریات نے ایک عرصے تک زبان و ادب کی ترویج کا کام کیا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

آل انڈیا ریڈیو پر اردو نشریات کی اہمیت محض ایک زبان کی ترویج تک محدود نہیں بلکہ یہ ہندوستان کی تہذیبی، ادبی اور مشترکہ ثقافتی وراثت کی حفاظت کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ اردو اپنی شیرینی، شائستگی اور ادبی عظمت کے باعث عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ آل انڈیا ریڈیو نے برسوں اردو زبان و ادب، شاعری، افسانہ، ڈرامے، خبریں اور ادبی پروگراموں کے ذریعے اس زبان کو عوام سے جوڑے رکھا۔ موجودہ دور میں آل انڈیا ریڈیو پر اردو نشریات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ مہاراشٹر میں ممبئی ، جلگائوں ، اورنگ آباد کے ریڈیو اسٹیشنوں سے نشر ہونے والے اردو کے پروگراموں نے اپنی شناخت قائم کی تھی۔  ان پروگراموں میں ماضی کے کئی نامور ادباءو شعراء نے شرکت کی اور اپنی آواز کو ریڈیو کے ذریعے بھی عوام تک پہنچایا۔اس سلسلے میں ہم نے آل ریڈیو پر اردو پروگرام نشر کرنے والے اہم ادباء و افسران اور ان میںشرکت کرنے والےادباء سے گفتگو کی۔

یہ بھی پڑھئے:وہ لوگ جو چلے گئے...

آل انڈیا ریڈیو جلگائوں کے سابق نشریاتی افسر  جاوید انصاری  نے بتایا کہ’’آل انڈیا ریڈیو کے اردو پروگرام اب بھی ہو رہے ہیں لیکن پہلے جو ہفتہ واری ہوتے تھے وہ اب ماہانہ ہو گئے ہیں۔ یہ ہر ماہ تیسرے جمعرات کو صبح ۱۰؍ بجے نشر ہوتے ہیں۔ ‘‘ جاوید انصاری کے مطابق کچھ برس پہلے تک مہاراشٹر میں تقریباً ہراہم ضلع میں آل انڈیا ریڈیو کے اسٹیشن سےاردو پروگرام نشر ہوتے تھے لیکن اب ممبئی ، پونے اور ناگپور سے ہی سب کچھ ہو رہا ہے۔یہ بھی غنیمت ہے ورنہ جیسے حالات ہیں ان سےتو کوئی امید نہیں کی جاسکتی ۔جاوید انصاری نے اپنے دور میں جلگائوں کےآل انڈیا ریڈیو اسٹیشن کواردو زبان و ادب کے فروغ او ر ادباء و شعراء کوایک پلیٹ فارم مہیا کرنے میں نہایت متحرک و فعال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اپنے اسٹیشن سےاردو کے متعددادبی و ثقافتی پروگرام، افسانے، شاعری، مشاعرے، غزلیں، نظمیں، گفتگو ،انٹر ویو ، مختلف تہواروں پر فیچرس جیسے رمضان المبارک اور عید میلاد النبیؐ پر خصوصی فیچر نشر کئے۔ یہ پروگرام ۱۰؍ منٹ سے ۳۰؍ منٹ تک کے ہوتے تھے۔ ان کے ذریعے مقامی شعراء و ادباء کو  پلیٹ فارم مہیا ہوتا تھا۔جاوید انصاری کے مطابق ماضی کے مقابلے میں اب آل انڈیا ریڈیو پرسار بھارتی کے تحت چلاگیا جس کی وجہ سے اب تمام کام کانٹریکٹ کی بنیادوں پر ہو رہا ہے جس سے اردو کے پروگرام کوآرڈینیٹرملنادشوار ہو گیا ہے ورنہ اب بھی اگر اسے باقاعدگی سے ترتیب دیا جائے تو اردو پروگرام سننے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

معروف صحافی ، افسانہ نگار اور یوٹیوبر مشتاق کریمی  نے بتایا کہ’’ آکاشوانی جلگاؤں کے قیام کو ۵۰؍ برس مکمل ہوچکے ہیں۔ یہاں سے ماہانہ اُردو پروگرام ’’گلفشاں‘‘  نشر ہوتا ہے۔ بچپن میں جب بھی اس کی خوبصورت عمارت کے قریب سے گزرتا تو دل میں یہ خیال ضرور آتا کہ کیا کبھی میں اُردو پروگرام میں شرکت کر پاؤں گا؟ پھر الحمدللہ وہ دن بھی آیا جب باقاعدہ دعوت ملنے گی۔ صرف اِتنا ہی نہیں بلکہ مجھے غیرحاضر شاعر، ادیب یا ناظم کے متبادل کے طور پر فوری بھی مدعو کیا جاتا ۔‘‘ مشتاق کریمی کے مطابق گلفشاں کے اُردو آفیسر کے طور پر رجب عمر، جاوید انصاری و دیگر نے اہم خدمات  انجام دیں مگر جو مقبولیت گلفشاں کو جاوید انصاری  کے زمانے میں ملی اس کی بات ہی کچھ اور تھی۔ اُردو اخبارات میں باقاعدہ مراسلات شائع  کئے جاتے تھے کہ اس ماہ کس تاریخ کو، کتنے بجے کون سے قلمکار  پروگرام میں شریک ہو رہے ہیں۔ گلفشاں کے چاہنے والے  رات کا انتظار کرتے۔ پھر ریڈیو پر اس پروگرام کو سن کر اپنے تاثرات بھی دیتے۔ یہ پروگرام ہوتے ہی بڑے متنوع تھے۔ ادبی، تعلیمی، سماجی، معاشرتی، تہذیبی ۔ مشتاق کریمی نے بتایا کہ گلفشاں تو اب بھی جاری ہے مگر اب اس کی مقبولیت ماند پڑچکی ہے۔ سرکاری پالیسیاں،  ڈیجیٹل دنیا کی رنگینیاں اور اردو افسر کی غیر موجودگی نے گلفشاں کے نت نئے رنگ پھیکے کردیے ہیں۔ جاوید انصاری صاحب ملازمت سے سبکدوش ہوچکے ہیں اوراب زیادہ تر ریکارڈیڈ پروگرام ہی نشر کر د ئیے جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے سرے سے گلفشاں کو مزین کیا جائے۔ اسٹیشن ڈائریکٹر  اگر اس جانب توجہ دیں تو پرانے دن پھر لوٹ کر آسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: زندگی کے اس پار

سینئر افسانہ نگار و ادیب اور آل انڈیا ریڈیو اورنگ آباد اسٹیشن کے اہم ذمہ دار افسر اور انائونسر نورالحسنین  نے بتایا کہ ’’اردو پروگرام کا  سلسلہ ماند پڑگیا ہے لیکن ۱۹۷۷ء سے ۲۰۲۲ء تک ہمارے اسٹیشن سے روزانہ کی بنیاد پر اردو پروگرام نشر ہوتے تھے۔ ‘‘ نورالحسنین  کے مطابق ہم نے دن مقرر کر رکھے تھے۔ اتوار کو بچوں کا پروگرام کھلتی کلیاں نشر ہوتا تھا۔ پیر کو ادبی  و ثقافتی موضوع پر گفتگو  کے بعد غزلیں نشر ہوتی تھیں۔ منگل کو اردو ڈراما ، بدھ کو ’’باتوںباتوں میں‘‘فیملی سیرئیل نشر ہوتا تھا جس کے ذریعے حکومت کی اسکیموں کی معلومات اور ان میں آنے والی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں پر سننے والوں کی رہنمائی کی جاتی تھی ۔ جمعرات کو نوجوانوں کیلئے نئے چراغ نام سے پروگرام ہوتا تھا جس میں کبھی مباحثہ ،تقریریں یا پھر مشاعرہ ہوتا تھا۔ جمعہ کو آپ اور ہم کے عنوان سے خطوط کے دلچسپ جواب دئیے جاتے تھے۔ ساتھ ہی ہمارے صوفیوں کے تعلق سے ایک ۱۵؍ منٹ کا پروگرام بھی ہوتا تھا ۔ سنیچر کو بزم خواتین جو ہر ۱۵؍ دن میں منعقد ہوتی تھی ۔ ساتھ ہی جنرل اردو پروگرام بھی کیا جاتا تھا ۔   نور الحسنین نے کہا کہ سرکاری ترجیحات تبدیل ہو گئی ہیں ورنہ اردو پروگراموں کیلئے اب بھی بڑی گنجائش ہے کیوں کہ اس کے سننے والوں میں تمام طبقہ فکر کے لوگ شامل ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK