صبح کی اذان ختم نہیں ہوئی تھی کہ حامد صاحب نے کھڑکی کھول دی ، سامنے وہی گلی تھی۔ وہی نیم کا درخت،وہی پان والے کی دکان،وہی پرانی نالی جس پر محلے کے بچے لکڑی رکھ کر اسے پل سمجھ کر پار کیا کرتے تھے۔مگر آج گلی میں کچھ کمی تھی۔
EPAPER
Updated: October 19, 2026, 4:39 PM IST | Aamir Akhtar | Bhiwandi
صبح کی اذان ختم نہیں ہوئی تھی کہ حامد صاحب نے کھڑکی کھول دی ، سامنے وہی گلی تھی۔ وہی نیم کا درخت،وہی پان والے کی دکان،وہی پرانی نالی جس پر محلے کے بچے لکڑی رکھ کر اسے پل سمجھ کر پار کیا کرتے تھے۔مگر آج گلی میں کچھ کمی تھی۔
صبح کی اذان ختم نہیں ہوئی تھی کہ حامد صاحب نے کھڑکی کھول دی ، سامنے وہی گلی تھی۔ وہی نیم کا درخت،وہی پان والے کی دکان،وہی پرانی نالی جس پر محلے کے بچے لکڑی رکھ کر اسے پل سمجھ کر پار کیا کرتے تھے۔مگر آج گلی میں کچھ کمی تھی۔ انھوں نے عینک اتاری، آنکھیں ملیں اور دوبارہ باہر دیکھا۔پھر انہیں یاد آیا۔ اب اس گلی میں ان کا کوئی نہیں تھا۔رات بھر محلے کے گھروں پر کاغذ چپکائے گئے تھے۔ کاغذوں پر سرکاری زبان تھی؛مشکل الفاظ، دفعات، نقشے، تاریخیں اور مہر۔مگر حامد صاحب کیلئے ان سب کا ایک ہی مطلب تھا: ’’تم یہاں پہلے جیسے نہیں رہے۔‘‘وہ بیٹھ گئے۔میز پر ایک پرانی کتاب پڑی تھی ۔ کتاب کھولی تو ایک تصویر سامنے آگئی۔۱۹۴۷ء کی ایک سیاہ و سفید تصویر۔اس تصویر میں حامد صاحب کے دادا کھڑے تھے۔دادا کہا کرتے تھے: ’’بیٹا، آزادی کسی ایک مذہب کی میراث نہیں ہوتی۔جس نے غلامی دیکھی ہو وہ آزادی کی قیمت مذہب دیکھ کر نہیں ادا کرتا۔‘‘انہوں نے تصویر پر انگلی پھیری۔’’داداجی… شاید ہم سے کوئی غلطی ہوگئی تھی، ہم نے سمجھا تھا یہ ملک ہمارا بھی ہے۔‘‘
اس دن شہر میںکچھ مزار ومسجدیں گرانے کی خبریں پھیلیں۔وجہ سرکاری تھی۔کہیں زمین کا تنازع، کہیں تجاوزات،کہیں ترقیاتی منصوبہ۔ہر معاملہ کی اپنی کہانی تھی مگر محلے کے لوگوں کیلئے یہ عبادتگاہیں صرف اینٹ اور گارا نہیں تھیں۔وہاں ان کے بچوں نے پہلی بار الفاظ جوڑے تھے۔ ان کے باپوں نے جنازہ پڑھے تھے اور انہی میں سے ایک مقام پر حامد صاحب کے دادا نے۱۹۴۷ء میں کھڑے ہو کر کہا تھا: ’’یہ ملک آزاد ہوگیا ہے۔اب کوئی کسی سے اس کے ہندوستانی ہونے کا ثبوت نہیں مانگے گا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے:’شیوانی‘ کا افسانوی اَدب نصف صدی بعد بھی پرانا نہیں ہوا
حامد صاحب نے ٹیلی ویژن بند کردیا کیونکہ اسکرین پربحث جاری تھی۔چار آدمی چیخ رہے تھے، ایک اینکر پوچھ رہا تھا: ’’آخر انہیں ہر بات میں شکایت کیوں ہوتی ہے؟‘‘حامد صاحب نے آہستہ سے کہا: ’’کیونکہ شاید ہماری خاموشی بھی اب شکایت سمجھی جاتی ہے۔‘‘چند دن بعد اُن کا پوتا، زید ان کے پاس بیٹھا تھا۔ ’’دادا ...؟‘‘ ’’ہاں؟ ‘‘’’ہم ہندوستانی نہیں ہیں کیا؟‘‘ حامد صاحب نے چونک کر اسے دیکھا۔یہ سوال تیر کی طرح آیا تھا۔انہوں نے پانی کا گلاس اٹھایا، مگر ہاتھ کانپ گیا۔’’یہ بات تمہیں کس نے پوچھی؟‘‘ ’’اسکول میں ایک لڑکے نے کہا کہ مسلمان پاکستان چلے جائیں۔‘‘ پہلے تو وہ خاموش رہے۔پھر انہوں نے دراز کھولی۔اس میں ایک پرانا خط رکھا تھا۔انہوں نے زید کو یہ خط دیتے ہوئے کہا’’یہ تمہارے پردادا کا خط ہے۔‘‘ زید نے خط کھولا۔اس میں لکھا تھا’’ہم نے جانے کا فیصلہ نہیں کیا،یہیں رہنے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہ گھر ہمارا ہے یہ مٹی ہماری ہے اور یہ آزادی بھی ہماری ہے۔‘‘ زید نے پوچھا’’پھر ہم نشانہ پر کیوں ہیں؟‘‘حامد صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا۔وقت گزرتا گیا۔ ٹی وی پرکبھی کسی نئے قانون کی خبر آتی ،کبھی کسی زمین کی،کبھی ووٹر لسٹ کی۔کبھی کسی مسجد کی۔کبھی کسی نوجوان کی۔ ہر بار حامد صاحب کو لگتا جیسے کوئی ان کی دیوار پر ایک اور لکیر کھینچ گیا ہو۔وہ ایک چیز سمجھتے تھے کہ اگر بار بار اپنی وفاداری ثابت کرنا پڑے تو آدمی ایک دن تھک جاتا ہے۔
ایک رات محلے میں میٹنگ ہوئی۔ پرانے شہر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں لوگ جمع تھے۔کوئی رو رہا تھا۔کوئی غصے میں تھا۔کوئی خاموش۔ ایک نوجوان کھڑا ہوا۔’’بس بہت ہوگیا۔ہمیں کہا جاتا ہے کہ یہ ملک ہمارا نہیں‘‘، ٹھیک ہے۔اگر واقعی ایسا ہے توہم سب چلے جائیں گے۔ہر مسلمان امیر ہو یا غریب۔فلم والا ہو یا مزدور تاجر ہو یا استاد۔کھلاڑی ہو یا شاعر ہم سب ایک دن یہ ملک چھوڑ دیں گے ۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی، پھر ایک بوڑھی عورت بولی:’’اور اپنی قبریں بھی ساتھ لےجاؤگے؟‘‘نوجوان خاموش ہوگیا۔عورت نے کہا: ’’بیٹا، آدمی ملک چھوڑ سکتا ہے، مٹی نہیں۔‘‘فیصلہ پھر بھی ہوگیا... ہجرت...اس بار کسی نے کسی کو نکالا نہیں تھا۔ لوگ خود جا رہے تھے۔کیونکہ کبھی کبھی انسان کو دروازہ سے دھکا دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔بس اتنا کافی ہوتا ہے کہ اسے مسلسل یہ احساس دلایا جائے کہ ’’تم یہاں مطلوب نہیں ہو۔ ‘‘ جس دن آخری ٹرین چلی حامد صاحب پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔زید نے پوچھا: ’’دادا، ہم کہاں جا رہے ہیں؟‘‘نئے ملک۔ ’’وہ ہمارا ملک ہوگا؟ ‘‘،’’شاید۔‘‘’’اور یہ؟‘‘
یہ بھی پڑھئے:یہ ہے اپنا سبزی بازار
زید نے پیچھے مڑ کر ہندوستان کی طرف دیکھا۔ حامد صاحب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ’’یہ...‘‘ انہوں نے اپنی مٹھی میں مٹی بھری۔’’یہ بھی ہمارا ہی رہے گا۔‘‘ٹرین چل پڑی۔کھڑکی سے شہر پیچھے ہٹنے لگا۔مسجد کا مینار،نیم کا درخت،وہ پرانی حویلی،چائے والے کی دکان۔وہ قبرستان جہاں حامد صاحب کے دادا دفن تھے۔سب پیچھے رہ گیا۔ٹرین سرحد پار کرگئی مگر اسی لمحے ہندوستان کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک اور عجیب واقعہ ہوا۔حامد صاحب کے گھر کے سامنے رہنے والے شرما جی صبح سویرے اٹھے۔انہوں نے دروازہ کھولا۔ سامنے حامد صاحب کا بند گھر تھا۔انہوں نے کچھ دیر اسے دیکھا۔پھر کہا’’چائے دو کپ بنانا۔‘‘بیوی نے حیرت سے پوچھا:’’دوسرا کون آئے گا؟‘‘شرما جی نے خالی کرسی کی طرف دیکھا اور کہا’’حامد آئے گا ۔‘‘پھر اچانک انہیں یاد آیا ...حامد تو جا چکا تھا ...اور پہلی بار انہیں سمجھ آیا کہ کسی انسان کے چلے جانے سے صرف ایک گھر خالی نہیں ہوتا بلکہ زندگی کا ایک حصہ ٹوٹ کر الگ ہوجاتا ہے۔سال گزرتے گئے۔نئے ملک میں حامد صاحب کے خاندان نے گھر بنا لیا۔زید بڑا ہوگیا۔اس نے ایک دن اپنے دادا سے پوچھا: ’’آپ واپس کیوں نہیں جاتے؟‘‘’’کس کے پاس؟‘‘’’اپنے گھر۔‘‘حامد صاحب مسکرائے مگر جواب نہیں دیا۔بس دراز کھولی۔ وہی پرانی مٹی اب بھی ایک شیشی میں محفوظ تھی۔انہوں نے اسے ہاتھ میں لیااور کہا’’ہم ملک چھوڑ آئے ہیں، زید…وطن نہیں۔‘‘ ان کے دل میں اب بھی ایک پرانی گلی آباد تھی۔وہ گلی جہاں اذان کے بعد مندر کی گھنٹی بھی سنائی دیتی تھی،جہاں عید کی سیوئیاں شرما جی کے گھر بھی جاتی تھیں، جہاں ہولی پر حامد صاحب کے بچے رنگوں سے بچنے کیلئے چھت پر چڑھ جاتے تھے،اور جہاں آزادی کے بعد ایک بوڑھے نے اپنے پوتے سے کہا تھا:’’یاد رکھنا…یہ ملک کسی ایک کا نہیں۔‘‘
اس رات ہندوستان کے ایک خالی گھر میں ایک پرانی گھڑی چلتی رہی۔ٹک.... ٹک..... ٹک جیسے وقت خود گواہی دے رہا ہو،لوگ چلے گئے تھے۔مگر ان کی یادیں نہیں۔ان کی دعائیں نہیں۔ان کی قبریں نہیں۔ ان کا ادب، ان کی زبان، ان کے گیت، ان کی محبتیں نہیں..... کیونکہ وطن سے ہجرت کی جا سکتی ہےمگر وطن دل سے ہجرت نہیں کرتا۔