• Mon, 05 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

زندگی کے اس پار

Updated: October 05, 2026, 1:28 PM IST | Azmat Iqbal | Malegaon

میں  ریلوے اسٹیشن کے مین گیٹ سے باہر آیا۔ باہر  کے ماحول کو گہرے اندھیرے کی چادر نے ڈھانپ  رکھا تھا۔ پچھلے کئی گھنٹوں سے آسمان سے برس رہے بادلوں نے زمین  کے نظام کو الٹ پلٹ کر دیا تھا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

میں  ریلوے اسٹیشن کے مین گیٹ سے باہر آیا۔ باہر  کے ماحول کو گہرے اندھیرے کی چادر نے ڈھانپ  رکھا تھا۔ پچھلے کئی گھنٹوں سے آسمان سے برس رہے بادلوں نے زمین  کے نظام کو الٹ پلٹ کر دیا تھا۔ ٹرین کو شام تک برہانپور ریلوےاسٹیشن پہنچنا تھا۔ کئی جگہوں پر ریلوے ٹریک پر پانی بھر جانے کے سبب ٹرین اپنے وقت سے چار گھنٹہ دیری سے پہنچی ۔میں ہاتھ میں بریف کیس تھامے دماغ پر فکر کا بوجھ اٹھائے رات دو بجے ریلوے اسٹیشن سے باہر اپنے سفر کی آخری منزل امادگیر   جانے کیلئے سواری کی تلاش میں تھا۔ مجھے بائی روڈ پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا تھا ۔دوسرےمسافر وں کواسٹیشن سے باہر نکلتے ہی سواریاں مل گئیں۔امادگیر میں میری خاندانی وراثت تھی۔دس برس بیوہ رہی ماں کے دنیا سےگزر  جانے کےبعد ہم دو بھائیوں  اور تین بہنوں  میں اسے تقسیم ہونا تھا۔آپسی سمجھوتہ کی کوشش بے نتیجہ رہی۔انجام کار کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔اس سے متعلق قانونی کاروائی کے سلسلے میں پچھلے کچھ مہینوں سے میراامادگیر آنا ہو رہا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اُردو ہمیں مفت مل گئی ہے تو کیا اس کی قدر نہیں ہوگی؟

اپنے پچھلے تجربہ کی بنیاد پر میں جانتا تھا کہ اتنی رات گئے ،غیر یقینی موسم میں امادگیر  کے لئے سواری ملنا انتہائی مشکل تھا۔آٹو والوں کا امادگیر جانے سے انکار کر نے کے نتیجے میں میرا ذہن پریشانی کے حصار میں جکڑتا جا رہا تھا۔قطار میں لگیں آٹو رکشا ایک ایک کر مسافروں کو لئے میری نظروں کے سامنے سے گزرتی چلی گئیں۔حالات کا تقاضا تھا کہ اضافی کرایہ دے کر سواری والے کو راضی کیا جائے۔سواری کے انتظار میں تقریباپندرہ منٹ کا وقت گزر چکا تھا۔’’ساب کدھر جانا ہے ؟‘‘ایک آٹو میرے قریب آکر رکی ۔ ’’امادگیر  چلو گے؟ کرایہ بڑھا کر مل جائے گا۔‘‘میں نے آٹو والے کو لالچ دیا۔ اندھیرے کی پرت کے سبب میں آٹو والے کے چہرے کو تو نہیں پڑھ سکا لیکن اندازہ ہوا کہ وہ کچھ دیر تذبذب میں مبتلا رہا۔پھر بولا،’’ساب آپ سے کرایا تو بڑھا کر نہیں لوں گا مگر ایسا ہے کہ واپسی میں مجھے ایمپٹی  آنا پڑے گا۔ اس لئے ریٹرن کا بھاڑا دینا ہوگا ۔‘‘’’اف یہ ایمانداری کا چولہ ۔‘‘میں نے دل میں سوچا۔’’اس طرح نہیں تواس طرح آخر کرایہ بڑھا کر تو لے ہی رہا ہے۔‘‘میں نے اپنا بیگ اٹھایا اور آٹو میں سوار ہوگیا۔ ’’اچھا ہوا بھائی تم چلنے کے لئے تیار  ہو گئے۔مجھے تو لگا اتنی رات گئے امادگیر  کے لئے آٹو ملناممکن نہیں ہوگا۔‘‘’’ساب روزی کے لئے کرنا پڑتا ہے ۔اور ویسے مانوتا بھی کوئی چیز ہے۔‘‘’’رات کےسمے چلاتے ہو آٹو؟‘‘’’کچھ فکس نہیں ہے ساب۔جب لگتا ہے تھک گیا ہوں یا نیند آ رہی ہے گھر جاکر آرام کر لیتا ہوں ۔‘‘’’یہ تو مناسب بات نہیں ہے۔ایک شیڈول ہونا چاہئے لائف میں۔اس طرح تمہاری ہیلتھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔‘‘اس کے مانوتا بھرے رویہ کے ردعمل میں ایک صلاح تو بنتی تھی ۔’’ساب جیون  میں کچھ ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔ایسے میں انسان اور کچھ نہیں سوچتا ۔سب کچھ شیڈول کے حساب سے تو نہیں ہو سکتا نا؟‘‘اس نے سرد ہوا سے بچنے کے لئے گردن اور چہرے پر مفلر لپیٹ رکھا تھا۔اس کی آواز سے اندازہ ہوا کہ اس کی عمر پینتیس برس کے آس پاس رہی ہوگی ۔ مجھے اس کی باتوں کا فلسفیانہ انداز اچھا لگا ۔ 

’’بچے کتنے ہیں تمہارے ؟‘‘’’دو بچے ہیں۔ایک بیٹااور ایک بٹیا۔‘‘ آٹو اب شہر کے اہم راستے سے مڑ کر چھوٹے راستوں سے گزرتے ہوئے شہر سے باہر نکلنے والے راستے پر دوڑ رہا تھا۔آدھی رات امادگیر کا اکیلے سفر خطرہ مول لینے جیسا تھا۔ لیکن  آٹو ڈرائیور سے باتیں کرتے ہوئے ڈر کا یہ احساس پیچھے چھوٹ چکا تھا ۔’’بچے پڑھائی کر رہے ہیں؟‘‘’’بیٹا ایم بی بی ایس کے فرسٹ ایئر  میں ہے۔اور بٹیاابھی ایلیون کلاس میں پڑھ رہی ہے۔‘‘اس نے انگریزی کے الفاظ زیادہ واضح الفاظ میں بولنے کی کوشش کی۔ میں دل ہی دل مسکرا دیا ۔ شاید  اس کا مقصد  مجھے ایمپریس کرنا تھا  یا پھر  اپنے بچوں پر فخر  کا اظہار کر رہا تھا ۔میں یہ جان کر متاثر ہوا کہ وہ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دے رہا تھا۔’’میرا ماننا ہے پریوار کو سنبھالنے اور بچوں کی اچھی تربیت میں ماتا پتا دونوں کا رول ہوتا ہے۔ تمہاری پتنی کو بھی اس کا کریڈیٹ جاتا ہے۔‘‘وہ کچھ دیر خاموشی رہا ۔’’ساب میری پتنی نہیں ہے۔‘‘’’ اوہ !آئی ایم سوری بھائی ....‘‘’’نہیں ساب ایکچولی با ت ایسی  ہے میرا لگن ہی نہیں ہوا ہے ۔‘‘’’تو پھر بچے؟‘‘’’بھائی کے بچے ہیں جی۔مگر مان لو میرے ہی ہے۔ میں ہی ان کا پتا بھی ہوں اور ماتا بھی۔‘‘ میری دلچسپی اس کی ذات میں بڑھتی جا رہی تھی ۔اس سے پہلے کہ وہ مجھے منزل تک پہنچا دے میں اس کے بارے میں مزید  جاننا چاہتا تھا۔’’ میں سمجھا نہیں۔‘‘’’لمبی اسٹوری ہے ساب ۔‘‘’’میں سننا چاہوں گا ...‘‘میں بولا۔میں نے سوچا اس کی داستان سنتے ہوئے سفر کاٹا جا سکتا ہے۔ اس نے اپنے ماضی کے اوراق پلٹنے شروع کئے۔

یہ بھی پڑھئے:ڈاکٹر صاحب (خاکہ)

’’جب میں سات برس کا تھااور بھائی کی عمر پندرہ سولہ  برس رہی ہوگی۔میرے ماتا پتا  اچھا دیوی ماتا مندر کے درشن کو جا رہے تھے ۔ بس کا ایکسیڈنٹ ہوا اور دونوں کی جگہ پر ہی موت ہو گئی ۔‘‘’’اوہ گاڈ ! بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے۔‘‘میں نے افسوس جتایا۔ وہ اپنے ماضی کے تاریک گلیاروں میں بھٹک سا گیا تھا۔’’ان کے جانے کے بعد ہمارے اوپر دکھوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔مگر بھائی نے مجھے بہت سنبھالا۔ہماری چار ایکڑ کھیتی کی زمین تھی۔ اس میں وہ  بہت محنت کرتا تھا۔اسی کمائی سے میری پرورش کے ساتھ سارے شوق بھی پورے کرتا ۔جب ا س کی شادی ہوئی تو بھابھی کو بولا یہ میرا بھائی نہیں اپنا بیٹا ہے۔ بھابھی بھی میرا بڑا خیال رکھتی تھی۔ پہلے بیٹا اور پھر بٹیا پیدا ہوئی۔ میں نےبارہویں کا ایگزام پاس کر کے گریجویشن میں ایڈمیشن کے لیے فارم بھرا تھا۔ایک رات سوتے ہوئے سینے میں  بہت جور سے پین ہوا۔میں تڑپنے لگا۔ میں نے بھیا کو آواج دی ۔وہ باجو کے روم میں اپنے پریوار کے ساتھ سو رہا تھا۔وہ مجھے ترنت ہاسپیٹل لے گیا۔ پہلے کچھ دن لوکل ڈاکٹر سے علاج ہوا۔پھر سانس کی تکلیف ہونے لگی۔بھائی مجھے بڑے ہاسپیٹل لے گیا۔معلوم ہوا ہارٹ کا کوئی بڑا پرابلم ہے۔آپریشن کرنا پڑے گا۔‘‘’’کون سے ہاسپیٹل گئے تھے ؟‘‘’’اندور کے اپولو ہاسپیٹل ۔‘‘’’اچھا ؟۔۔۔۔” میں کچھ کہتے ہوئے رک گیا۔‘‘پھر ؟”‘‘میں نے پوچھا ۔“آپریشن کے لئے تین لاکھ روپے کی جرورت تھی۔ کسی طرح ایک لاکھ جٹائے۔پھر بھائی نے ہمارا کھیت بیچ دیااورآپریشن کرایا۔اس سمے  پرائیوٹ ہاسپیٹل میں سرکاری مدد کی فیسی لیٹی بھی نہیں تھی۔اور پھر میرا کیس کریٹیکل تھا ۔ہمارے پاس جیادہ سمے نہیں تھا۔بھگوان کی کرپا سے میں اچھا ہوگیا۔پھر کورونا کی بیماری پھیلی۔ بھائی بیمار ہوئے۔اوران کی سیوا کرتے ہوئے بھابی بھی بیمار ہوگئیں ۔ بھابھی ہم کو چھوڑ پرلوک سدھار گئی۔بھابھی کے صدمے سے بھائی بھی نہیں بچے ۔‘‘اس کی آواز بھر ا گئی تھی۔بات کرتے ہوئے اس کی توجہ راستے پر مرکوز تھیں ۔ میں نے محسوس کیا اس اس کے دل کا درد آنکھوں سے ابل رہا تھا۔’’ساب آپ بولو گے کیا دکھڑا سنا رہا ہوں ؟‘‘

یہ بھی پڑھئے:شعروں کی آن لائن اِصلاح کا نیا رُجحان کتناکارگر؟

’’نہیں بھائی ایسا نہیں ہے۔کسی کا دکھ بانٹ لینا بھی تو پنیہ کا کام ہے۔تو بھائی کے بچوں کی پرورش کی ذمہ داری تم نے اٹھائی ؟‘‘’’ہاں ساب۔ان کے جانے کے بعد میری جندگی کا ایک ہی مقصد رہا بچوں کے پالن پوسن میں کوئی کمی نہیں ہونے دوں ۔بھگوان کی کرپا سے بیٹا ڈاکٹر ی پڑھ رہا ہے۔ بیٹی بھی پڑھائی میں بڑی تیج ہے۔اس کو بھی بہت آگے تک پڑھانا ہے ۔ پھر اس کا ایک  بڑی فیملی میں رشتہ کروں گا۔‘‘’’بھائی آج کے دور میں ایسے وچار رکھنے والے لوگ کہاں ملتے ہیں ؟ تم نے اپنے بھائی کے احسان کا حق ادا کر دیا ہے ۔‘‘میری منزل قریب آ چکی تھی ۔ میں نے اس کے کاندھے پر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔’’دائیں لے کر وہ سامنے نظر آرہے گیٹ کے سامنے آٹو روک دو ۔‘‘

آٹو سے اتر کر کرایہ دینے کے لئے میں نے پرس نکالا ۔’’بھائی آپ سے مل کر بہت اچھا لگا ۔ویسے کس ڈاکٹر نے آپریشن کیا تھا تمہارا ؟‘‘ ’’ڈاکٹر دیویندر نام تھا شایدان کا۔‘‘کہتے ہوئے اس نے چہرے سے مفلر ہٹائی۔ اسٹریٹ لائٹ کی روشنی میں میں نے اس کا چہرہ دیکھا ۔ ’’تمہارا نام؟‘‘’’امول ۔‘‘میرے وجود میں سنسنی دوڑ گئی۔ میں نے پانچ سو کے تین نوٹ اسے  تھمائے۔’’ساب چار سو روپے کرایہ ہوا ہے۔‘‘اس نے نوٹ واپس کرتے ہوئے کہا۔’’ بھائی یہ پیسے رکھ لو۔انکار مت کرنا اپنی خوشی سے دے رہا ہوں۔‘‘بہت زور دینے کے بعد وہ روپیہ رکھنے کے لئے راضی ہوا۔’’ دھنیہ واد ساب‘‘، کہہ کر اس نے آٹو واپس موڑی ۔ ناجانے کیوں میں اس سے جو کہنا چاہتا تھا کہہ نا سکا۔ یہ کہ آج سے  آٹھ برس قبل میں نے  اپنے تجربے کی بنیاد پر ایک آدمی سے کہا تھاکہ اس کے  بھائی کا آپریشن کامیاب تو ہو گیا ہے لیکن اس کاہارٹ کمزور ہو گیا ہے ۔ اس کے دل کی دھڑکن سال دو سال کے بعد کبھی بھی تھم جائے گی۔ میری نظریں دور تک آٹو کا پیچھا کرتی رہی۔آٹو کی پچھلی بتیاں آہستہ آہستہ اندھیرے میں معدوم ہوتی چلی گئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK