• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاچورہ: رائس مل پر ایف ڈی اے کا چھاپہ، ۷۸؍لاکھ کا ذخیرہ ضبط

Updated: September 11, 2026, 12:12 PM IST | Sharjeel Qureshi | Pachora

راشن کے وہ چاول جو کھلے مارکیٹ میں فروخت نہیں کئے جاسکتے ، اس کا بھی ذخیرہ مذکورہ مل سے برآمد ہوا۔

Officials processing the procedure to send a sample of the seized rice for laboratory testing. Photo: INN
ضبط شدہ چاولوں کانمونہ لیباریٹری جانچ کیلئے بھیجنے کی کارروائی کرتے اہلکار۔ تصویر: آئی این این

پاچورہ شہر سے نزدیک بھاورکھیڑ (بھوکری، برکھیڑی،پمپل گاؤں روڈ) واقع میسرز شری مہاسر ماتا رائس مل پر محکمہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے اچانک چھاپہ مار کر رائس مل کی جانچ پڑتال کی ہے۔ اس کارروائی کے دوران فورٹیفائیڈ چاول، سمیت دیگر چاول جس کا وزن ۲؍لاکھ ۹۶؍ ہزار۴۷۶؍ کلوگرام چاول کا ذخیرہ ، جس کی مالیت ۷۸؍لاکھ۶۳؍ہزار۱۵۰؍ روپے ہے، مسلسل ۳؍ دنوں تک چلنے والی چھاپے مار کارروائی کے بعد باقاعدہ ایف ڈی اے جلگاؤں کی طرف سے تفصیلات پریس ریلیز کے ذریعے واضح کی گئیں ہیں۔جس میں کہا کہ گیا کہ یہ کارروائی شبہ کی بنیاد پر کی گئی اور چاول کا ذخیرہ ضبط کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی: ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ۶ء۵۸؍ لاکھ ووٹروں کے نام غائب، منسوخی کا مطالبہ

ضبط شدہ ذخیرہ کے بارے میں شبہ ہے کہ اس کا تعلق مہاراشٹر اسٹیٹ پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم پی ڈی ایس) سے ہے۔یعنی راشن کے چاول کے وہ چاول جو کھلے مارکیٹ میں فروخت نہیں کیے جاسکتے ہیں ۔ متذکر بالا کارروائی۷؍ سے۹؍ستمبر کے درمیان تک جاری تھی ۔ایف ڈی اے کی ٹیم نے چھاپے کے دوران ۶؍ نمونے اکٹھے کیے گئے اور جانچ پڑتال کیلئے لیباریٹری میں روانہ کیے ہیں۔ضبط شدہ ذخیرے میں۶۴؍ ہزار۵۴۶؍ کلوگرام فورٹیفائیڈ چاول، ایک لاکھ ۳۷؍ہزار۹۹۶؍ کلوگرام ٹوٹے ہوئے چاول، ایک ہزار ۹۹۶؍ کلوگرام سادہ چاول (گھریلو استعمال/بغیر لیبل)، ۳؍ ہزار ۴۴۶؍ کلوگرام ٹوٹے ہوئے چاول (گھریلو استعمال/غلط لیبلنگ)،۸۱؍ہزار۴۹۶؍ کلوگرام چاول (گسٹولو برانڈ/برآمدی)، اور۶؍ہزار ۹۹۶؍کلوگرام چاول(۵؍ فیصد ٹوٹے ہوئے/ملائیشیا برآمدی) شامل ہیں۔چونکہ اس رائس مل کے پاس مرکزی فوڈ لائسنس موجود ہے، اسلئے سینٹرل فوڈ لائسنسنگ اتھاریٹی کو اس معاملے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:آئی آر سی ٹی سی ہوٹل کا معاملہ: لالو، رابڑی اور تیجسوی کو بڑا جھٹکا

اوربھی بے ضابطگیاں پائی گئیں

چھاپے کے دوران مل میں کئی بے ضابطگیاں پائی گئیں، جن میں چوہوں کی بیٹ، دھول اور مکڑی کے جالوں کی موجودگی؛ چاولوں کا براہ راست فرش پر ذخیرہ کیا جانا، بوریوں پر مینوفیکچرر (تیار کنندہ) کے پتے کا نہ ہونا، اور خریداری بل پیش کرنے میں ناکامی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK