Inquilab Logo Happiest Places to Work

اترپردیش: مسلم فوڈ ولوگر، نان ویج ریستوراں کے ویڈیومیں مندر دکھانے پرگرفتار

Updated: May 26, 2026, 8:04 PM IST | Luckhnow

اترپردیش کے مظفر نگر میں ایک مسلم فوڈ ولوگر کے نان ویج ریستوراں کے ایک ویڈیومیں شیو مندر کی منظر کشی کرنے کے خلاف پولیس نے گرفتار کر لیا، پولیس کے مطابق، احمد مقامی ریسٹورنٹ ’’الیمین‘‘ گیا تھا تاکہ وہاں پیش کی جانے والی نان ویج پر مبنی فوڈ ریویو ریل بنائے۔

With thanks to Maktoob Media. Photo: X
مکتوب میڈیا کے شکریہ کے ساتھ۔ تصویر: ایکس

اُتّر پردیش کے مظفرنگر میں ایک مسلم فوڈ ولوگر کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب اس کے سوشل میڈیا ویڈیو ریل میں ایک نان ویج ریسٹورنٹ کی تشہیر کے دوران شہر کے مشہور شیوچوک میں واقع شیو مندر کے سامنے ترنگے سے گھری ہوئی شیو مورتی کے مناظر دکھائے گئے، جنہوں نے مبینہ طور پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ملزم کا نام انس احمد ہے، جو لدّاوالا کا رہائشی ہے اور یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فوڈ ولونگ چینلز چلاتا ہے۔پولیس کے مطابق، احمد مقامی ریسٹورنٹ ’’الیمین‘‘ گیا تھا تاکہ وہاں پیش کئے جانے والے نان ویج کھانوں پر مبنی فوڈ ریویو ریل بنائے۔تاہم ریکارڈنگ کے دوران، احمد نے شہر کے کئی نمایاں مقامات، جن میں قومی پرچم اور شیو چوک پر موجود شیو کی مورتی بھی شامل تھی، کے مناظر بھی اپنی ویڈیو میں شامل کر لیے۔نان ویج کھانوں کی تشہیر کرنے والی ویڈیو میں شیو مورتی کو شامل کیے جانے پر ہندوتوا تنظیموں نے شدید اعتراض کیا اور الزام لگایا کہ اس مواد سے ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ان گروپوں نے پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا اور ولوگر کو گرفتار نہ کرنے پر احتجاج کی دھمکی دی۔بعد ازاں شکایات کے بعد، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا اور احمد کو حراست میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھئے: گرمیت سنگھ کو پھر ۳۰؍ دن کی پیرول، ۲۰۱۷ء کے بعد ۱۶؍ ویں مرتبہ جیل سے رِہا

کھلہ پور تھانے کے ایس ایچ او ببلو کمار نے بتایا کہ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ۱۷۰؍ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جو پولیس کو بغیر وارنٹ کے کسی شخص کو گرفتار کرنے کا اختیار دیتی ہے تاکہ قابل شناخت جرم کے ارتکاب کو روکا جا سکے۔پولیس نے بتایا کہ ریل میں ولوگر شہر کے مختلف حصوں میں سفر کرتے ہوئے ریسٹورنٹ میں فروخت ہونے والی کھانوں کی تشہیر کرتا نظر آیا۔تاہم اس کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز مہم کے دوران، احمد نے مظفرنگر کے باشندوں سے معافی مانگتے ہوئے دو الگ الگ ویڈیوز اپ لوڈ کیں، جس میں انہوں نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔ایک رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مکتب کو بتایا، ’’انس ایک فوڈ ولوگر ہے اور وہ شہر کے کھانوں اور مقامات کو دستاویز کرتا ہے تاکہ انہیں مزید مشہور کیا جا سکے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK