• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بارش رک گئی، کہیں اس کے ذمے دار ہم ہی تو نہیں؟ محاسبہ ضروری ہے!

Updated: September 29, 2026, 4:07 PM IST | Shoaib Ahmed Mohammadi | Mumbai

مسلمانو! کبھی سوچا ہے کہ وہی رب جس نے صحراؤں میں بھی چشمے جاری کر دیئے، آج اسی رب کی زمین کیوں پیاسی ہے؟ وہی آسمان جو کبھی رحمت بن کر بارش برساتا تھا، آج آگ کیوں برساتا ہے؟

Farmers are worried due to the lack of rain. Photo: INN
بارش نہ ہونے سے کسان پریشان ہیں۔ تصویر: آئی این این

مسلمانو! کبھی سوچا ہے کہ وہی رب جس نے صحراؤں میں بھی چشمے جاری کر دیئے، آج اسی رب کی زمین کیوں پیاسی ہے؟ وہی آسمان جو کبھی رحمت بن کر بارش برساتا تھا، آج آگ کیوں برساتا ہے؟

بارش صرف موسم نہیں، اللہ کی رضا کا نام ہے۔ اور جب رب ناراض ہو جائے تو بادل بھی ہمارے گناہوں سے ڈر کر بھاگ جاتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے بارش رکنے کے اسباب کے طور پر  ۶؍ گناہ بتائے ہیں، ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھتے ہیں کہ ہم ان گناہوں میں مبتلا ہیں کہ نہیں؟

(۱) ہم نے غریب کا حق روک لیا

اللہ نے مال میں غریب کا حصہ رکھا تھا، ہم نے زکوٰۃ دینا چھوڑ دیا۔ ابن ماجہ میں حدیث ِ مبارکہ  ہے:

’’جب کوئی قوم زکوٰۃ روک لیتی ہے تو اللہ ان سے بارش روک لیتا ہے، اگر جانور نہ ہوتے تو ایک بوند بھی نہ برستی۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے:اولاد کی تربیت میں یہ سوچ کر کوتاہی اور لاپروائی کرنا کہ بچہ خود سمجھ جائیگا بالکل ٹھیک نہیں

(۲) ہم نے ترازو میں خیانت کی

ہم نے ناپ تول میں کمی کی اور جھوٹی قسمیں کھائیں۔ جب تاجر کا ترازو غلط تولے گا، جب ناپ تول میں خیانت ہوگی تب اللہ اپنی رحمت سے سرفراز کیوں کرے گا؟

(۳) ہم نے بے حیائی کو فیشن بنا لیا

موبائل میں فحش فلمیں، گلیوں میں بے پردگی، زنا کا عام ہوجانا، شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کا ایک دوسرے کے ساتھ کال، میسج، اور گفٹ کا لین دین عام ہونا، زبان پر گالی  یا پھر گانے۔ یہ ہماری تعلیمات میں کہیں نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا تھا جب فحاشی عام ہو جائے تو اللہ قحط مسلط کر دیتا ہے۔ ہم نے شرم کو دفن کر دیا، اپنی اولاد کو شرم و حیا کے بارے میں سکھانا سمجھانا  چھوڑ دیا تو اللہ نے اپنی رحمت کو روک دیا۔

(۴) ہم نے سود کو کاروبار بنا لیا

سود اللہ اور اس کے رسولؐ  سے کھلی جنگ ہے۔ جو قوم اللہ سے جنگ کرے گی، اس پر رحمت کی بارش کیسے برسے گی؟ سود سے بظاہر مال بڑھتا ہے، مگر زمین کی برکت ختم ہو جاتی ہے جبکہ زکوٰۃ ادا کرنے سے مال گھٹتا نہیں بڑھتا ہے۔

(۵) ہم نے مظلوم کی آہ کو بھلا دیا

یتیم کا مال، بہن کی وراثت، مزدور کی مزدوری، حق دار کا حق … ہم سب کھا گئے۔ یاد رکھیں! مظلوم کی آہ عرش تک جاتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ مظلوم کی ہائے سے بچو، اور ہم ہیں کہ ہر کسی کا مال ناحق کھا رہے ہیں۔ خدارا، ہمیں  قبر اور قیامت کے دن کی باز پرس سے ڈرنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے:سیرتِ نبویؐ اسلامی علوم کے کسی ایک گوشے تک محدود نہیں

(۶) ہم نے استغفار چھوڑ دیا

اللہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے:

’’تم اپنے رب سے بخشش طلب کرو، بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے، وہ تم پر بڑی زوردار بارش بھیجے گا۔‘‘

(سورہ نوح:۱۰۔۱۱)

مگر ہماری زبان پر گالی یا  بُرے الفاظ ہیں، غیبت ہے، فلموں کے گانے ہیں،فضول کی گپ شپ ہے، مگر وہ ایک لفظ  استغفراللہ نہیں ہے جس سے گناہ معاف ہوسکتے ہیں۔ 

رجوع الی اللہ - واپسی کا واحد راستہ

قارئین، یہ ہمارے معاشرے کی عام بیماریاں ہیں۔ اس سوکھی زمین اور روٹھے آسمان کا علاج محکمہ موسمیات کے پاس نہیں، اللہ کے دربار میں ہے۔ رجوع الی اللہ یعنی اپنے رب کی طرف پلٹ آنا۔ ہم اللہ سے دور ہوگئے ہیں، مسجدیں ویران  اور بازار آباد ہیں، قرآن پر گرد جمی ہے اور موبائل ہاتھوں میں چمک رہے ہیں۔ واپسی کا مطلب ہے دل کو توڑنا، آنکھ کو رلانا، اور سجدے میں گر کر یہ کہنا کہ اے اللہ! ہم ہار گئے، ہمارے گناہ جیت گئے، تو ہی برسانے والا ہے… یاد رکھیں! جب بندہ زمین پر اپنے گناہوں پر آنسو بہاتا ہے تو عرش والا آسمان سے رحمت برسا دیتا ہے۔

صدق دل سے استغفار پڑھیں ، جس کا حق ہم پر ہے اس کا حق ادا کریں اور اپنی غلطیوں اور گناہوں پر رب العالمین سے معافی مانگیں اور توبہ کریں۔  جب ہم زمین پر آنسوؤں اور توبہ کی بارش برسائیں گے، تو ہمارا رب آسمان سے رحمت کی بارش ضرور بالضرور برسائے گا۔ ان شاءاللہ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK