والدین کی محبت پر شک کی کوئی وجہ نہیں۔ عام والدین اپنی زندگی کا بڑا حصہ بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے صرف کر دیتے ہیں۔ ان کی تعلیم، صحت، ضروریات، سہولتیں اور معاشرتی مقام، سب کچھ ان کی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 3:57 PM IST | Dr. Ahmed Urooj Mudassir | Mumbai
والدین کی محبت پر شک کی کوئی وجہ نہیں۔ عام والدین اپنی زندگی کا بڑا حصہ بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے صرف کر دیتے ہیں۔ ان کی تعلیم، صحت، ضروریات، سہولتیں اور معاشرتی مقام، سب کچھ ان کی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔
والدین کی محبت پر شک کی کوئی وجہ نہیں۔ عام والدین اپنی زندگی کا بڑا حصہ بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے صرف کر دیتے ہیں۔ ان کی تعلیم، صحت، ضروریات، سہولتیں اور معاشرتی مقام، سب کچھ ان کی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔ مسئلہ محبت کی کمی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ محبت کے باوجود کبھی کبھی والدین بچوں کی بدلتی ہوئی دنیا کو سمجھ نہیں پاتے۔
آج کا بچہ اس دنیا میں پرورش پا رہا ہے جو اس کے والدین کے بچپن کی دنیا سے بہت مختلف ہے۔ اس کے پاس معلومات کے ذرائع زیادہ ہیں، سوال کرنے کے مواقع زیادہ ہیں، مختلف خیالات تک رسائی زیادہ ہے اور اپنے ہم عمر لوگوں سے رابطہ بھی پہلے کے مقابلے میں کہیں وسیع ہے۔ وہ گھر میں ایک بات سنتا ہے، چند لمحوں بعد موبائل پر اس کے بارے میں دس مختلف آرا دیکھ لیتا ہے۔ وہ استاد سے ایک بات پڑھتا ہے، کسی ویڈیو میں دوسری بات سنتا ہے اور اپنے دوست سے تیسری رائے حاصل کر لیتا ہے۔
یہ صورت حال خود کوئی خرابی نہیں، لیکن اس نے والدین اور بچوں کے تعلق کی نوعیت ضرور بدل دی ہے۔ پچھلی نسلوں میں بچے کیلئے علم اور تجربے کا سب سے بڑا مرکز گھر، خاندان، محلہ، استاد اور معاشرتی ماحول ہوا کرتے تھے۔ والدین کی بات میں ایک قدرتی علمی برتری موجود ہوتی تھی۔ آج والدین کے پاس زندگی کا تجربہ اب بھی زیادہ ہے لیکن معلومات کے ہر میدان میں برتری ضروری نہیں رہی۔ بچہ ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، نئی اصطلاحات، نئے رجحانات اور بعض اوقات ان موضوعات سے بھی واقف ہو سکتا ہے جن سے اس کے والدین ابھی پوری طرح مانوس نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھئے:تنقید کو اپنی کامیابی کی شاہراہ کی تعمیر کے لئے استعمال کیجئے
جنریشن گیپ کی اصل شکل
جنریشن گیپ صرف یہ نہیں کہ والدین کی عمر زیادہ ہے اور بچے کی کم۔ اصل فاصلہ سوچ، تجربے، معلومات، زبان، ترجیحات اور دنیا کو دیکھنے کے زاویے کا فاصلہ ہے۔ اگر والدین اس فرق کو سمجھ لیں تو عمر کا یہ فرق تربیت کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ لیکن اگر ہر نئی بات کو بدتمیزی، ہر سوال کو بغاوت اور ہر اختلاف کو نافرمانی سمجھ لیا جائے تو گھر میں ایک ایسا خاموش فاصلہ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے جس کا احساس اکثر اس وقت ہوتا ہے جب بچہ اپنی بات والدین سے کہنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔
سوال کرنے والا بچہ لازماً نافرمان نہیں ہوتا
آج کے بچوں کی ایک نمایاں خصوصیت سوال کرنا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ یہ حکم کیوں ہے؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ اگر یہ بات درست ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟ فلاں شخص اس کے برعکس کیوں کہتا ہے؟
بعض والدین ان سوالات سے پریشان ہو جاتے ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ بچہ ہر بات میں بحث کر رہا ہے یا بڑوں کی بات کو چیلنج کر رہا ہے۔ کبھی یہ تاثر درست بھی ہو سکتا ہے، مگر ہر سوال کو اسی نظر سے دیکھنا تربیت کے لیے نقصان دہ ہے۔بچے کے سوال کے پیچھے کبھی تجسس ہوتا ہے، کبھی خوف، کبھی ذہنی الجھن، کبھی اپنی آزادی کا احساس اور کبھی صرف یہ خواہش کہ اسے کوئی سنجیدگی سے لے۔ اگر والدین ہر سوال کا جواب غصے سے دیں گے تو بچہ سوال کرنا بند نہیں کرے گا، وہ صرف سوال کرنے کی جگہ بدل دے گا۔ یہ تبدیلی بہت اہم ہے۔ اسے سمجھنا اور اس کا احساس کرنا بہت ضروری ہے ۔
جو سوال کبھی ماں یا باپ کے سامنے آ سکتا تھا، وہ اب دوست کے پاس جائے گا، انٹرنیٹ پر تلاش کیا جائے گا یا کسی ایسے شخص سے پوچھا جائے گا جس کے بارے میں والدین کو کچھ معلوم بھی نہیں۔ اس لیے سوال کو دبانا مسئلے کا حل نہیں۔ بہتر تربیت یہ ہے کہ بچے کو سوال کرنے کی اجازت ہو، مگر جواب تلاش کرنے کا سلیقہ بھی سکھایا جائے۔
والدین اگر کسی سوال کا جواب نہ جانتے ہوں تو صاف کہہ سکتے ہیں: ’’مجھے اس کا درست جواب ابھی معلوم نہیں، ہم مل کر معلوم کرتے ہیں۔‘‘ یہ جملہ والدین کی عزت کم نہیں کرتا۔ اس کے برعکس بچے کو یہ سکھاتا ہے کہ علم کا راستہ تکبر سے نہیں، تحقیق سے کھلتا ہے۔آج کے والدین ٹیکنالوجی کے استعمال، سوشل میڈیا کے رجحانات، نوجوانوں کی زبان، بعض تعلیمی شعبوں اور ان کے باہمی تعلقات کے بارے میں اپنے بچوں سے بھی سیکھ سکتے ہیں۔ اگر والدین یہ تسلیم کر لیں کہ ’’اس معاملے میں تم مجھ سے زیادہ جانتے ہو، مجھے سمجھاؤ‘‘ تو بچے کے اندر ایک عجیب سا اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ گھر میں اس کی بات کی قدر ہے۔ یہ احساس بعد میں بہت سے مشکل معاملات میں والدین کے لئے حفاظتی دیوار بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اُمت میں یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ وہ آخری حد تک سو‘د سے بچے
نوجوانوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے آپؐ نے ان کی عمر کو ان کی صلاحیت کے خلاف دلیل نہیں بنایا۔ نوجوان ذہن کو صرف حکم سنانے کیلئے نہیں، سوچنے، سمجھنے اور ذمہ داری اٹھانے کے لئے بھی تیار کیا گیا۔
پڑھئے ان صحابہؓ کی مثالیں:
حضرت معاذؓ: نوجوان ذہن سے مکالمہ
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نوجوان صحابہ میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ انہیں یمن کی طرف ذمہ داری دے کر بھیجا گیا۔ ان کے بارے میں منقول مشہور روایت میں آپؐ نے ان سے دریافت کیا کہ کسی معاملے کا فیصلہ کیسے کریں گے، قرآن، سنت اور پھر اپنی رائے و اجتہاد کی طرف رہنمائی کا ذکر آتا ہے۔ اس روایت کی سند کے اعتبار سے حیثیت پر اہلِ علم نے گفتگو کی ہے، اس لئے اسے قطعی حدیث کے معیار کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اسکے معروف تربیتی مفہوم کو سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ بہرحال سیرت کے وسیع تر شواہد میں یہ بات واضح ہے کہ نوجوان صحابہ کو محض خاموش تابع سمجھ کر نہیں رکھا گیا۔ ان کی صلاحیت پہچانی گئی، انہیں سکھایا گیا، ان سے کام لیا گیا اور انہیں ذمہ داری دی گئی۔ یہ طرزِ تربیت آج کے والدین کیلئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔بچے کو ہر بات کا تیار جواب دینے کے بجائے کبھی یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے: ’’ تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ یا ’’تم اس نتیجے تک کیسے پہنچے؟‘‘ اس طرح بچے کی سوچ سامنے آتی ہے۔ والدین کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ غلط فہمی کو درست کریں، دلیل کی کمزوری واضح کریں اور صحیح معلومات تک پہنچنے کا طریقہ سمجھائیں۔ تربیت کا مقصد صرف یہ نہیں کہ بچہ صحیح بات یاد کر لے، مقصد یہ بھی ہے کہ وہ صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچہ کل غلط معلومات، گمراہ کن پروپیگنڈے، غیر ذمہ دارانہ سوشل میڈیا مواد اور معاشرتی دباؤ کے سامنے مضبوط رہے تو آج اسے سوچنے کا سلیقہ دینا ہوگا۔
حضرت اسامہؓ: کم عمر ہونے کے باوجود اعتماد
نبی کریمﷺ کے آخری زمانے میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ایک لشکر کی قیادت سونپی گئی۔ ان کی عمر بہت زیادہ نہ تھی، جبکہ لشکر میں عمر اور تجربے کے اعتبار سے بڑے اور معروف صحابہ موجود تھے۔ یہ فیصلہ اپنے اندر ایک گہرا تربیتی اصول رکھتا ہے۔ کسی نوجوان کو ذمہ داری دینا اس بات کا اعلان نہیں کہ اسے مزید سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ درست تربیت میں سیکھنے، نگرانی، اعتماد اور ذمہ داری ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔ والدین اکثر دو انتہاؤں کے درمیان پھنس جاتے ہیں۔ ایک طرف وہ بچے کو بالکل اپنے فیصلوں کے تابع رکھنا چاہتے ہیں، دوسری طرف جب بچہ بڑا ہو جاتا ہے تو اچانک اس سے بالغوں جیسی ذمہ داری کی توقع کرنے لگتے ہیں۔ یہ طریقہ کام نہیں کرتا۔ جس بچے کو ہر چھوٹے کام میں یہ بتایا گیا ہو کہ ’’تم ابھی بچے ہو، تمہیں کچھ نہیں آتا‘‘، اس سے اچانک خود اعتمادی، فیصلہ سازی اور ذمہ داری کی توقع کرنا مشکل ہوگا۔حضرت اسامہؓ کے واقعے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ نوجوان کو اعتماد دینا تربیت کا حصہ ہے۔ اعتماد کا مطلب بے لگام آزادی نہیں۔ اعتماد کا مطلب یہ ہے کہ صلاحیت کو پہچانا جائے، مناسب تیاری کرائی جائے، ذمہ داری دی جائے اور پھر اس کے نتائج کا احساس پیدا کیا جائے۔گھر میں بھی یہی اصول کام کرتا ہے۔ بچے کو عمر کے مطابق فیصلے کرنے دیں۔ اسے اپنے کام کی ذمہ داری دیں۔ کبھی گھر کے کسی معاملے میں اس کی رائے لیں۔ اگر وہ کوئی کام اچھی طرح کرے تو اسے محض ’’یہ تو تمہارا فرض تھا‘‘ کہہ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔ اسے یہ احساس بھی ہونا چاہئے کہ اس کی محنت دیکھی جا رہی ہے۔
حضرت ابن عباسؓ: بڑا ہونا ہمیشہ زیادہ جاننے کے مترادف نہیں
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کم عمری میں علم و فہم کے اعتبار سے ممتاز ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کی علمی صلاحیت کو اہمیت دیتے تھے اور بڑے صحابہ کے درمیان ان کی رائے کو بھی سنتے تھے۔ سورۂ نصر کی تفسیر کے ایک واقعے میں حضرت ابن عباسؓ کی گہری بصیرت سامنے آتی ہے اور حضرت عمرؓ نے اس فہم کو اہلِ مجلس کے سامنے واضح کیا۔ یہ واقعہ والدین کے لئے ایک اور دروازہ کھولتا ہے: کبھی کبھی بچے کے پاس ایسی بصیرت ہو سکتی ہے جو والدین کے پاس نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر معاملے میں بچے کی بات درست مان لی جائے۔ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ عمر کو گفتگو کا دروازہ بند کرنے کی وجہ نہ بنایا جائے۔