Inquilab Logo Happiest Places to Work

راج ببر نے ہندی کے ساتھ پنجابی فلموں میں بھی نام کمایا

Updated: June 23, 2026, 9:54 AM IST | Agency | Mumbai

راج ببرایک ہندوستانی اداکار اور سیاست داں ہیں،جنہوں نے ہندی اور پنجابی فلموں میں اپنی بہترین کارکردگی سے بہت نام کمایا ہے۔

Raj Babbar.Photo;iNN
راج ببر۔ تصویر:آئی این این
راج ببرایک ہندوستانی اداکار اور سیاست داں ہیں،جنہوں نے ہندی اور پنجابی فلموں میں اپنی بہترین کارکردگی سے بہت نام کمایا ہے۔راج ببر۲۳؍جون ۱۹۵۲ءکواتر پردیش کے شہر ٹنڈلامیں ایک پنجابی ہندو خاندان میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان ٹنڈلا میں آکر آباد ہو گیا تھا۔ ان کے آبائی تعلقات جلال پور جٹاں سے ہیں، جو موجودہ دور میں پاکستان کے ضلع گجرات میں واقع ہے۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم آگرہ کے مفید عام انٹرکالج سےحاصل کی۔ وہ نیشنل اسکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی)کے ۱۹۷۵ءکے بیچ کے فارغ التحصیل ہیں اور آگرہ کالج سے بھی گریجویشن کر چکے ہیں۔اداکاری کےمیدان میں انہوں نے این ایس ڈی میںمیتھڈ ایکٹنگ کی تربیت حاصل کی، جس میں اسٹریٹ تھیٹربھی شامل تھا۔ نئی دہلی میں تربیت مکمل کرنےکےبعد وہ ممبئی منتقل ہو گئے اور اپنے فلمی کریئر کا آغاز ۱۹۷۰ءکی دہائی کی مشہور اداکارہ رینا رائے کے ساتھ کیا۔ انہیں بی آر چوپڑا کی فلم ’انصاف کا ترازو‘میں ایک زیادتی کرنے والے کے ہولناک کردار سے شہرت ملی، جس میں انہوں نے ہیروئن بھارتی سکسینہ (زینت امان) اور ان کی بہن نیتا (پدمنی کولہاپوری) پر حملہ کیا تھا، اور فلم کے آخر میں بھارتی کے ہاتھوں گولی کھا کر مارے جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ بی آر چوپڑا کے بینرکامستقل حصہ بن گئے اور دیپک پراشر اور سلمیٰ آغا کےساتھ فلم ’نکاح‘اور سمیتا پاٹل کے ساتھ ’آج کی آواز‘ میںجلوہ گر ہوئے۔
 
 
انہوں نے پنجابی سنیمامیںبھی کامیابی حاصل کی کیونکہ انہوں نے چن پردیسی (۱۹۸۰ء)مڑھی دا دیوا (۱۹۸۹ء)اورلونگ دا لشکارا (۱۹۸۳ء)میںشاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ وہ آسرا پیار دا (۱۹۸۳ء)، ماحول ٹھیک ہے (۱۹۹۹ء)، شہید اودھم سنگھ (۱۹۹۹ء)، یاراں نال بہاراں (۲۰۰۵ء)، اک جند اک جان (۲۰۰۶ء)، اپنی بولی اپنا دیس (۲۰۰۹ء)اور تیرا میرا کی رشتہ (۲۰۰۹ء)جیسی فلموں میں بھی نظر آئے۔ انہوںنے ہندی زبان کی کئی فلموں جیسے انصاف کا ترازو (۱۹۸۰ء)، سازش (۱۹۸۸ء)، آنکھیں (۱۹۹۳ء)، دلال (۱۹۹۳)، دی گیمبلر (۱۹۹۵ء)، انداز (۱۹۹۴ء)، یارانہ (۱۹۹۵ء)، برسات (۱۹۹۵ء)، ضدی (۱۹۹۷ء)، غنڈہ گردی (۱۹۹۷ء)، داغ: دی فائر (۱۹۹۹ء)اور انڈین  (۲۰۰۱ء) میں ولن کے طور پر کام کیا۔
وہ ٹیلی ویژن پر بھی نظر آئے۔ وہ مشہورٹی وی سیریل مہابھارت کی ابتدائی قسطوں میں راجہ بھرت کے طور پر، بہادر شاہ ظفر (۱۹۸۶ء) میں اکبر کے طور پر، پہلی بار کام کرنے والی جوہی چاؤلہ کے ساتھ نظر آئے اوراپنی ہوم پروڈکشن مہاراجہ رنجیت سنگھ (۲۰۱۰ء) میں بھی دکھائی دیے، یہ تمام دوردرشن پر نشر ہوئے تھے۔ ۲۰۱۴ءاور ۲۰۱۵ءمیں، وہ لائف اوکے پر نشر ہونے والے سیریل پکار - کال فار دی ہیرو میں نظر آئے، جس کی ہدایت کاری وپل امرت لال شاہ نے کی تھی اور اس میںرنو جے سنگھ، ادا شرما اور شبھانگی لاٹکر نے بھی کام کیا تھا۔
 
 
۱۹۸۱ءمیں فلم انصاف کا ترازو کے لیےبہترین اداکار کا فلم فیئر ایوارڈسے راج ببر کو نواز گیا۔ ۱۹۸۴ء میں فلم اگر تم نہ ہوتے کے لیےبہترین معاون اداکار کا فلم فیئرایوارڈدیا گیا۔ فلم آج کی آواز کے لیے فلم اداکار کافلم فیئر ایوارڈانہیں ۱۹۸۵ءمیںدیا گیا تھا۔ فلم دلال کے لیے ۱۹۹۴ءمیں فلم فیئر بہترین منفی کردار کا ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے بعد ۱۹۹۶ءمیںفلم یارانہ کے لیے فلم فیئر بہترین منفی کردار کا ایوارڈکے لئےمنتخب کیا گیا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK