کپتان کائیلیان ایمباپے کی شاندار کارکردگی کی بدولت فرانس نے پیر کی رات بارش سے متاثرہ میچ میں عراق کو ۰۔۳؍گول سے شکست دے دی۔
EPAPER
Updated: June 23, 2026, 6:07 PM IST | New York
کپتان کائیلیان ایمباپے کی شاندار کارکردگی کی بدولت فرانس نے پیر کی رات بارش سے متاثرہ میچ میں عراق کو ۰۔۳؍گول سے شکست دے دی۔
کپتان کائیلیان ایمباپے کی شاندار کارکردگی کی بدولت فرانس نے پیر کی رات بارش سے متاثرہ میچ میں عراق کو ۰۔۳؍گول سے شکست دے دی۔ فرانس کے اسٹار کھلاڑی ایمباپے نے دو گول کیے۔ ایک موسم کی وجہ سے کھیل میں تعطل آنے سے پہلے اور دوسرا وقفے کے بعد۔ جس سے ۲۰۱۸ء ورلڈ کپ چیمپئن ٹیم نے کمزور عراقی ٹیم کے خلاف ۰۔۳؍گول سے آسان کامیابی حاصل کی۔
یہ بھی پڑھئے:ویلکم ٹو دی جنگل: ۱۸؍ کٹ کے بعد سینسر بورڈ نے یو اے ۱۶؍ پلس سرٹیفکیٹ دیا
ان دو گولزکے ساتھ ایمباپے کے اس سال کے ٹورنامنٹ میں گولز کی مجموعی تعداد چار ہوگئی، لیکن شاید اس سے بھی زیادہ متاثر کن بات یہ ہے کہ اس سے ان کے کریئر میں ورلڈ کپ کے کل گولز کی تعداد۱۶؍ تک پہنچ گئی - جو جرمن لیجنڈ میروسلاو کلوز کے برابر ہے، جن کے ہمہ وقت گولوں کے ریکارڈ کی برابری لیونل میسی نے ارجنٹائنا کے ابتدائی دو میچوں کے دوران کی اور بعد میں اسے توڑ بھی دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ویلکم ٹو دی جنگل: ۱۸؍ کٹ کے بعد سینسر بورڈ نے یو اے ۱۶؍ پلس سرٹیفکیٹ دیا
ورلڈ کپ میں ریکارڈ چھٹی مرتبہ ایک سے زیادہ گول کرنے کے ریکارڈ کے ساتھ، ایمباپے نے برازیل کے لیجنڈ رونالڈو کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، جن کے نام ۱۵؍ گول ہیں۔ میچ کے آغاز ہی سے فرانس نے گیند پر مکمل کنٹرول برقرار رکھا۔ موسلا دھار بارش کے درمیان فرانسیسی کھلاڑیوں نے عراق پر مسلسل اٹیک کئے اور ۱۴؍ویں منٹ میں انہیں کامیابی اس وقت ملی جب مائیکل اولس کے بہترین پاس پر کپتان کلائن ایمباپےنے باکس کے ٹھیک باہر سے ایک شاندار لیفٹ فٹیج کرلنگ شاٹ لگاکر فرانس کو ۰۔۱؍گول کی ابتدائی برتری دلادی۔ اس کے بعد عراق نے بھی کئی کوششیں کیں، لیکن وہ ناکام رہے۔
یہ بھی پڑھئے:ناک آؤٹ مرحلے میں میسی اور ارجنٹائنا کا سامنا کس سے ہو سکتا ہے؟
جیسے ہی کھیل ہاف ٹائم کے قریب پہنچا، تیز بارش شروع ہوگئی اور کھلاڑیوں کے ساتھ تماشائی بھی مکمل طور پر بھیگ گئے۔ کھلاڑیوں کے بریک کے لئے ڈریسنگ روم جانے کے کچھ ہی دیر بعد فیفا نے اعلان کیا کہ میچ کم از کم۱۵؍ منٹ کے لیے معطل کیا جائے گا۔ اس کے بعد کھلاڑی اور شائقین کو محفوظ مقامات پر چلے گئے۔ دو گھنٹے سے زائد انتظار کے بعد موسم صاف ہوا اور کھلاڑیوں کو وارم اپ کے بعد میدان پراتارا گیا۔ یہ اس ورلڈ کپ کی تاریخ کا پہلا میچ تھا جو موسم کی خرابی کے باعث روکنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے:ویلکم ٹو دی جنگل: ۱۸؍ کٹ کے بعد سینسر بورڈ نے یو اے ۱۶؍ پلس سرٹیفکیٹ دیا
۲؍ گھنٹے کے بریک کے بعد بھی فرانس نے اپنی رفتار برقرار رکھی اور گیلے میدان میں جارحانہ کھیل پیش کیا۔ ۵۴؍ ویں منٹ میں عراقی دفاعی لائن اور گول کیپر کے درمیان غلط فہمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عثمان ڈیمبیلے نے ایمباپے کو اس دیا، جنہوں نے بغیر کسی غلطی کے گیند نیٹ میں پہنچا کر برتری کو ۰۔۲؍گول کر دیا۔ اس کے بعد ۶۶؍ویں منٹ میں مائیکل اولیسے کے اسسٹ پر ڈیمبیلے نے اپنے کریئر کا پہلا گول کرتے ہوئے فرانس کو ۰۔۳؍گول کی فیصلہ کن برتری دلا دی۔ میچ کے آخری لمحات میں ایمباپے کے پاس ہیٹ ٹرک مکمل کرنے کا سنہری موقع بھی آیا، لیکن وہ اسے گول میں تبدیل نہ کر سکے۔