Inquilab Logo Happiest Places to Work

کاکروچ جنتا پارٹی نے وزیر تعلیم کو ڈائپر بھیجنے کا آغاز کیا، پولیس پر احتجاجی جگہ کو سکیڑنے کا الزام

Updated: June 23, 2026, 7:02 PM IST | New Delhi

دیپکے نے ایک انٹرویو کے دوران اعتراف کیا کہ یہ تحریک مکمل طور پر فوری حالات کے تحت چلائی جا رہی ہے اور اپنے فوری مطالبے کے علاوہ اس کا کوئی طویل مدتی روڈ میپ نہیں ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ احتجاج تیزی سے پھیکا بھی پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں کوشش کئے بغیر ہار نہیں مانوں گا۔

Abhijeet Dipke. Photo: X
ابھیجیت دیپکے۔ تصویر: ایکس

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے نیٹ پیپر لیک معاملے پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے تحت جاری اپنی مہم کے حصے کے طور پر منگل کو ”ڈائپر ڈونیشن مہم“ کا اعلان کیا۔ سی جے پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ”ڈائپر اے ڈے کیپس لیکس اوے“ (Diaper A Day Keeps Leaks Away) کے عنوان سے ایک پوسٹ کے ذریعے اس مہم کا اعلان کیا جو منگل کی شام کو طے ہے۔ 

دہلی کے جنتر منتر پر سنیچر سے احتجاج کررہی سی جے پی کا دھرنا چوتھے دن میں داخل ہوگیا ہے۔ اس موقع پر پارٹی نے حامیوں سے شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ”اپنے ساتھ ایک ڈائپر لائیں، اس پر ان (دھرمیندر پردھان) کے استعفے کا اپنا مطالبہ لکھیں اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ وزیرِ تعلیم تک پہنچ جائے۔“

یہ بھی پڑھئے: راجستھان: انسٹاگرام پر آر ایس ایس مخالف ویڈیو پوسٹ کرنے والا شخص گرفتار، ‘پولیس کی زیادتی‘ پر تنازع

سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے الزام لگایا کہ پیر کی دیر رات دہلی پولیس نے بیریکیڈز کو ہٹانے کی کوشش کی تاکہ ”احتجاج گاہ کو سکیڑ کر ایک چھوٹے علاقے تک محدود کیا جا سکے۔“ اس الزام پر دہلی پولیس کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

کل دیپکے نے بتایا تھا کہ کاروباری دن ہونے کے باوجود احتجاجی جگہ پر کافی بھیڑ رہی۔ پیر کے دن پیپر لیک تنازع کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کی یاد میں احتجاجی مقام پر شمعیں روشن کی گئیں۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے دپکے نے سوال اٹھایا کہ حکام ”طلبہ کو سزا کیوں دے رہے ہیں“ جبکہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں جو مبینہ طور پر پیپر لیک کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر آرٹی آئی قوانین کی ترامیم واپس نہ لینے پربھوک ہڑتال: انا ہزارے

اس احتجاج میں طلبہ اور امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدواروں سمیت ایس ایف آئی (SFI)، آئیسا (AISA) اور اے آئی ایس ایف (AISF) اور دیگر بائیں بازو کی طلبہ تنظیمیں شریک ہیں۔ اے آئی ایس ایف نے احتجاجی مقام پر آنے والے طلبہ کیلئے ایک مفت لائبریری بھی قائم کی ہے۔

’آج یہ خبروں میں ہے، کل شاید نہ ہو‘

دیپکے نے ’دی ٹیلی گراف آن لائن‘ کے ساتھ گفتگو کے دوران اعتراف کیا کہ یہ تحریک مکمل طور پر فوری حالات کے تحت چلائی جا رہی ہے اور اپنے فوری مطالبے کے علاوہ اس کا کوئی طویل مدتی روڈ میپ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہ کیا عام انتخابات پر اثر انداز ہونے کیلئے اس رفتار کو تین سال تک برقرار رکھا جا سکتا ہے، کہا کہ ”ہم ابھی ایک وقت میں ایک ہی قدم اٹھا رہے ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: نیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں پر کانگریس کی مرکز پر شدید تنقید

دیپکے نے دھرمیندر پردھان کے استعفے پر تحریک کی پوری توجہ مرکوز رکھنے کا دفاع کیا اور دلیل دی کہ نظامی تبدیلیاں صرف احتساب کے بعد ہی آسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم نظام کے ٹھیک ہونے کی توقع کیسے کرسکتے ہیں جب وہ شخص جو اپنا کام کرنے میں ناکام رہا، اب بھی اپنے عہدے پر برقرار ہے؟“

دیپکے نے تسلیم کیا کہ یہ احتجاج تیزی سے پھیکا بھی پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”میں کوئی وہم میں جینے والا انسان نہیں ہوں... آج اس تحریک کو توجہ مل رہی ہے؛ کل شاید نہ ملے۔ تبدیلیاں آنے میں سال اور دہائیاں لگ جاتی ہیں، لیکن مجھے کوشش کئے بغیر ہار نہیں ماننی چاہئے۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK