• Sat, 28 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُس نے خود ہی وقت کا تعین کیا، اذان دی اور روزہ کھول لیا

Updated: February 28, 2026, 10:56 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

خاتون نے میری طرف بڑھا اڈلی کا ہاتھ بچے کی طرف کردیا، اور کہنے لگی، ’’دانے دانے پر لکھا ہے کھانے والا کا نام!‘‘ پھر قہقہہ لگایا اور بولی ’’بابو! تیری قسمت میں ہی نہیں تھا۔ جا تو روزہ رکھ!‘‘

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

مجھے کلیان کے ایک مدرسے میں افطار پہنچانا تھا۔ رمضان سے قبل ہی ایک دوست سے ’معاہدہ‘ ہوچکا تھا اسلئے وعدے کے مطابق بھیونڈی کے افطار بازار سے چند چیزیں لے کر باقی کا سامان کلیان سے خریدنے کا منصوبہ تھا۔ سورج کی تپش مدھم پڑنے لگی تو ہم بائیک سے روانہ ہوئے۔ 
ماہ مبارک میں سورج ڈھلنے پر یوں لگتا ہے جیسے مسلم علاقوں میں آہستہ آہستہ کوئی روح پھونک رہا ہو۔ دکانیں سجنے لگتی ہیں، مختلف پکوانوں اور پھلوں کے ٹھیلے لگنے لگتے ہیں اور خریدار (روزہ دار) اور ان کی انگلیاں پکڑے بچے نمودار ہونے لگتے ہیں۔ ’’ابو! فالودہ!‘‘ رنگ برنگے فالودے کی تھیلیاں دیکھتی ہوئی ایک بچی کی آنکھوں میں وہی رنگ اتر آئے۔ آج کے دسترخوان پر فالودہ اور کرسپی کے بغیر روزہ کھولنا مشکل ہے۔ ایک ۱۰؍ سالہ بچی اپنے بھائی سے کہہ رہی تھی: ’’ آج سموسے کی ٹوکری میرے پاس ہوگی کیونکہ آج مَیں انچارج ہوں۔ ‘‘
ہم نے سامان خریدا پھر کلیان روانہ ہوئے۔ یہاں سے جو سامان خریدنا تھا وہ معیاری قیمتوں پر دستیاب نہیں، اس لئے یوں سمجھ لیجئے کہ شہر ہی میں ’دیارِ غیر‘ کا رُخ کیا، جہاں مسجد تھی نہ مسلمان۔ ہر طرف برادران وطن کی دکانیں، مندریں (منادر) اوردور سے آتی گھنٹیوں کی آوازیں۔ یہاں کے مقابلے مسلم محلوں اور علاقوں میں روشنی اس قدر ہے کہ رات میں بھی ہر چیز صاف نظر آتی ہے۔ 
مطلوبہ دکان ملتے ہی دوست اندر چلا گیا اور ہم باہر نصب بنچ پر بیٹھ گئے۔ تبھی وہ نظر آئی۔ 
۴۰؍۔ ۴۵؍ سال کی یہ خاتون، کھچڑی بالوں، گندےلباس اور دھوپ کی تمازت سے سیاہ پڑتا چہرہ لئے ڈیوائیڈر پر بیٹھی تھی۔ بیٹھے ہوئے آگے پیچھے جھول رہی تھی، غالباً کسی چیز کا شدت سے انتظار تھا۔ ہر چند سیکنڈ پر نظر اٹھاتی اور اطراف میں غور سے دیکھتی۔ اس کا اضطراب سمجھ میں نہ آنے والا تھا۔ اچانک اس نے بلند آواز میں کہا، ’’اللہ اکبر!‘‘ چند لوگوں نے چونک کر دیکھا، پھر بعض مسکراتے ہوئے اور بعض اسے نظر انداز  کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ اللہ اکبر سننے کے بعد گھڑی پر نظر ڈالی تو افطار میں کم سے کم ۱۲؍ منٹ تھے۔ یہ جان کر بھی حیرت ہوئی کہ خاتون مسلمان ہے۔ فی الوقت یہ صرف اندازہ تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۹): یہ بندۂ خدا کی عنایت ہے، مت پوچھو بندۂ خدا کون ہے

پھر وہ سر ہلاتے ہوئے بآواز بلند خود سے کہنے لگی، اذان ہوگئی، اب افطار کرلیتی ہوں۔ اس نے سامنے پڑی تھیلی سے کھوپرے کی چٹنی نکالی، اور اسے ڈیوائیڈر کی مٹی پر انڈیل دیا، اور پھر ایک مڑے تڑے کاغذ سے ایک اڈلی لے کر مٹی میں جذب ہوتی چٹنی سے کھانے لگی۔ اس کے لبوں پر ’’رضیہ سلطان‘‘ کا نغمہ تھا: ’’اے خدا شکر تیرا! شکر تیرا۔ ‘‘ مَیں اور میرا دوست حیرت زدہ تھے۔ 
ہم نے پاس جاکر بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جونہی مجھے اپنی طرف آتے دیکھا، ایک اڈلی اٹھا کر میرے سامنے کردی، ’’لے کھالے!‘‘
’’میرا روزہ ہے۔ ‘‘ مَیں نے تقریباً گھبراتے ہوئے جواب دیا۔ ’’روزہ تو مَیں بھی تھی۔ اذان بھی ہوگئی، لے کھالے!‘‘ وہ اڈلی کھلانے پر مصر تھی۔ 
’’ابھی ۸؍ منٹ باقی ہیں۔ ‘‘ یہ سن کر مجھے یوں دیکھنے لگی جیسے میری دماغی حالت پر شبہ ہو۔ اور پھر ہنسنے لگی، تبھی ایک میلا کچیلا بچہ پاس آیا اور اڈلی کی طرف اشارہ کرنے لگا۔ خاتون نے میری طرف بڑھا اڈلی کا ہاتھ اس کی طرف کردیا، اور کہنے لگی، ’’دانے دانے پر لکھا ہے کھانے والے کا نام!‘‘ پھر قہقہہ لگایا اور بولی ’’بابو! تیری قسمت میں نہیں تھا۔ جا تو روزہ رکھ!‘‘ 
ہم اس خاتون سے باتیں کرنا چاہتے تھے مگر اب کچھ بن نہیں پڑ رہا تھا۔ وہ مست ملنگ تھی، اپنی دنیا میں مگن۔ اپنے مطابق اذان دے کر، روزہ کھول کر اب اپنے نہ سمٹ پانے والے بال انتہائی گندے دوپٹے میں چھپانے کی کوشش کررہی تھی، اور پھر ڈیوائیڈر سے چھلانگ لگا کر اتری، اور رقص کے انداز میں لہراتی بل کھاتی سڑک کے پار ایک گلی میں غائب ہوگئی۔ 
’’وہ کون تھی؟‘‘ مَیں نے دوست سے پوچھا تو اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا، ’’پاگل ہوگی۔ ‘‘ یقیناً، وہ پاگل تھی، دنیا کی نظر میں، معاشرہ کی نظر میں۔ لیکن کیا وہ واقعی پاگل تھی؟ 
بعد میں جب اس خاتون کا ذکر کچھ جاننے والوں سے کیا تو کسی نے کہا، وہ مجذوب ہے۔ برادران وطن کے علاقے میں ہر رمضان میں نمودار ہوتی ہے۔ وہاں کے لوگ اسے اچھی طرح جانتے ہیں، اس سے دعائیں لیتے ہیں، اور جب اسے پیسے دیتے ہیں تو وہ کہتی ہے، ’’مَیں دل کی امیر ہوں۔ اس کی ضرورت دل کے غریب کو ہے، اس کی ضرورت تجھے ہے، بابو!‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK