قرآنِ مجید انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنی فطرت کو پہچانے، اپنی بے قراری کو قابو میں رکھے اور اپنے فیصلوں میں ٹھہراؤ پیدا کرے۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 4:30 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai
قرآنِ مجید انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنی فطرت کو پہچانے، اپنی بے قراری کو قابو میں رکھے اور اپنے فیصلوں میں ٹھہراؤ پیدا کرے۔
انسان کی فطرت میں حرکت، جستجو اور طلب رکھی گئی ہے۔ یہی طلب اسے آگے بڑھاتی ہے، اسے کامیابی کی طرف لے جاتی ہے اور اسے رکنے نہیں دیتی۔ مگر یہی طلب جب بے قابو ہو جائے، جب وہ توازن کھو دے اور جب انسان ٹھہر کر سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے تو وہی قوت اس کے لئے کمزوری بن جاتی ہے۔ اسی کمزوری کا نام جلد بازی ہے۔ جلد بازی محض رفتار کا نام نہیں بلکہ یہ ایک باطنی کیفیت ہے جس میں انسان وقت سے پہلے نتیجہ چاہتا ہے، حالات کے پکنے کا انتظار نہیں کرتا اور ادھورے ادراک کے ساتھ فیصلے کر بیٹھتا ہے۔ قرآنِ مجید نے اس کیفیت کو انسانی فطرت کا حصہ قرار دیا ہے، مگر ساتھ ہی اس کی اصلاح کی دعوت بھی دی ہے۔ قرآنِ مجید فرماتا ہے:’’انسان (فطرتًا) جلد بازی میں سے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: زندگی ایک تربیت گاہ ہے اور رب العالمین ہمارا معلم ہے!
قرآن اس طرح ایک گہرا نفسیاتی انکشاف کرتا ہے۔ انسان کے اندر ایک اندرونی بے قراری ہے، ایک ایسی کیفیت جو اسے فوری نتائج کی طرف کھینچتی ہے۔ وہ انتظار کو بوجھ سمجھتا ہے اور تدریج کو کمزوری۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر ایسے فیصلے کرتا ہے جن کے نتائج وہ خود بھی نہیں سمجھ پاتا۔
جلد بازی کا تعلق صرف ظاہری عمل سے نہیں بلکہ یہ انسان کے ادراک اور شعور کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب انسان جلدی میں ہوتا ہے تو وہ حقیقت کو مکمل طور پر نہیں دیکھ پاتا۔ اس کی نظر جزوی ہو جاتی ہے، وہ کسی ایک پہلو کو دیکھ کر پورا فیصلہ کر لیتا ہے۔ قرآنِ مجید نے اس انسانی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:’’مگر انسان چاہتا یہ ہے کہ آگے بھی بد اعمالیاں کرتا رہے ۔‘‘ (القیامہ:۵)
یہ آزادی دراصل حدود سے نکلنے کی خواہش ہے، اور یہی خواہش انسان کو جلد بازی کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے کسی انتظار، کسی ضبط اور کسی تدریج کا پابند نہ ہونا پڑے۔
انسانی تاریخ میں جلد بازی کی ایک نمایاں مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے واقعے میں ملتی ہے۔ جب وہ کچھ عرصے کے لئے اپنی قوم سے دور ہوئے تو قوم نے صبر نہ کیا اور فوراً ایک متبادل راستہ اختیار کر لیا۔ قرآن کہتا ہے: ’’ پھر اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا جس میں آواز تھی، تو انہوں نے کہا: یہ تمہارا معبود ہے۔ ‘‘ (طٰہٰ: ۸۸)
یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ جلد بازی انسان کو کس طرح حقیقت سے ہٹا کر ایک وقتی اور غلط سہارا اختیار کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ انتظار کی عدم برداشت انسان کو باطل کو حق سمجھنے تک لے جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تم اس معزز سر زمین پر قدم رنجہ ہو جو مکہ کے بعد اللہ کے نزدیک سب سے محبوب شہر ہے
رسول اللہ ﷺ نے انسانی شخصیت کے اس پہلو کی اصلاح کے لئے نہایت حکیمانہ رہنمائی دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ ٹھہراؤ میں برکت ہے۔ ‘‘ یہ تعلیم دراصل انسان کے باطن کو تربیت دینے کی دعوت ہے۔ جلد بازی انسان کو وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر اس میں پائیداری نہیں ہوتی، جبکہ ٹھہراؤ انسان کو گہرائی دیتا ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے جلد بازی کو ایک مخصوص ذہنی رویہ سمجھا جاتا ہے جس میں انسان تکمیل سے پہلے فیصلہ کر لیتا ہے۔ جدید نفسیات میں اسے Jumping to Conclusions کہا جاتا ہے۔ انسان محدود معلومات کی بنیاد پر فوری نتیجہ اخذ کرتا ہے اور بعد میں پچھتاتا ہے۔
اسی طرح ایک اور نفسیاتی پہلو Temporal Discounting ہے۔ اس میں انسان مستقبل کے فوائد کو کم اہم سمجھتا ہے اور فوری فائدے کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ یہی رجحان اسے جلد بازی کی طرف لے جاتا ہے۔
جلد بازی کا ایک گہرا تعلق انسان کے اندرونی اضطراب سے بھی ہوتا ہے۔ جو انسان اندر سے بے چین ہوتا ہے وہ باہر بھی جلدی فیصلے کرتا ہے۔ وہ خاموشی اور انتظار کو برداشت نہیں کر پاتا۔ اس کے اندر ایک مسلسل دباؤ ہوتا ہے جو اسے جلدی عمل پر مجبور کرتا ہے۔ قرآنِ مجید نے انسان کے اس اضطراب کو ایک اور انداز میں بیان کیا ہے:
’’بے شک انسان بے صبرا پیدا کیا گیا ہے، جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا جاتا ہے، اور جب اسے بھلائی (یا مالی فراخی) حاصل ہو تو بخل کرتا ہے۔‘‘ (المعارج:۱۹؍تا۲۱)
یہ آیات انسانی باطن کی اس بے قراری کو ظاہر کرتی ہیں جو اسے توازن سے دور لے جاتی ہے۔ جلد بازی کی ایک اور شکل ردعملی زندگی (Reactive Living) ہے۔ انسان سوچ کر عمل کرنے کے بجائے ردعمل میں جیتا ہے۔ کوئی بات ہوئی، فوراً جواب دے دیا؛ کوئی واقعہ ہوا، فوراً فیصلہ کر لیا۔ اس میں شعور کم اور ردعمل زیادہ ہوتا ہے۔
نفسیات میں اس کے مقابلے میں ایک تصور Response Inhibition کا ہے، یعنی انسان اپنے فوری ردعمل کو روک سکے اور سوچ کر عمل کرے۔ یہی صلاحیت انسان کو پختہ بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کرۂ ارض کا قلب اور سارے فیوض و برکات کا مرکز، یہی الکعبہ ہے
نفسیاتی اعتبار سے جلد بازی کے علاج کے لیے ایک اہم طریقہ Cognitive Slowing ہے، یعنی شعوری طور پر اپنی سوچ کی رفتار کو کم کرنا۔ جب انسان خود کو مجبور کرتا ہے کہ وہ فوراً فیصلہ نہ کرے بلکہ کچھ وقت لے تو اس کے فیصلے بہتر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح Decision Journaling ایک مفید طریقہ ہے، جس میں انسان اپنے فیصلوں کو لکھتا ہے اور بعد میں ان کا جائزہ لیتا ہے۔ اس سے اسے اپنی جلد بازی کا شعور ہوتا ہے۔
ایک اور اہم طریقہ Breathing Regulation ہے۔ جب انسان کسی دباؤ یا جذباتی کیفیت میں ہوتا ہے تو اگر وہ چند لمحے سانس کو متوازن کر لے تو اس کا ذہن پرسکون ہو جاتا ہے اور وہ بہتر فیصلہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح Time Gap Creation بھی ایک مؤثر تدبیر ہے۔ کسی بھی اہم فیصلے سے پہلے وقفہ دینا انسان کو غلطی سے بچا سکتا ہے۔ آخرکار یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جلد بازی انسانی باطن کی ایک ایسی کمزوری ہے جو عقل کی گہرائی کو سطحی بنا دیتی ہے۔ یہ انسان کو ادھورے ادراک کے ساتھ مکمل فیصلے کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
قرآنِ مجید انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنی فطرت کو پہچانے، اپنی بے قراری کو قابو میں رکھے اور اپنے فیصلوں میں ٹھہراؤ پیدا کرے۔ جب انسان اپنے اندر صبر، حلم اور تدبر کو جگہ دیتا ہے تو اس کے فیصلے پختہ ہو جاتے ہیں، اس کی شخصیت متوازن ہو جاتی ہے اور اس کی زندگی میں حکمت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی وہ داخلی استحکام ہے جو ایک باشعور انسان کی پہچان ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو خطاؤں سے بچا کر کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چھٹیوں میں بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کیلئے ماحول فراہم کیجئے
اسلامی تعلیم
اسلامی تعلیمات میں جلد بازی کے مقابلے میں جو صفت دی گئی ہے وہ ہے ’’ حلم‘‘۔ حلم کا مطلب صرف صبر نہیں بلکہ یہ ایک ایسی داخلی کیفیت ہے جس میں انسان کے اندر وسعت، برداشت اور توازن پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ حالات کے دباؤ میں بھی خود پر قابو رکھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ رفق (نرمی اور تدریج) کو پسند کرتا ہے اور اس پر وہ کچھ دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا۔ ‘‘ یہ حدیث انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ زندگی میں تدریج اور نرمی ہی اصل کامیابی کا راستہ ہے، نہ کہ جلد بازی۔
جلدبازی کا نقصان
جلد بازی کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کو تجربے سے سیکھنے نہیں دیتی۔ وہ ہر بار جلدی فیصلہ کرتا ہے اور ہر بار غلطی دہراتا ہے، کیونکہ وہ رک کر اپنے عمل کا جائزہ نہیں لیتا۔اسی طرح جلد بازی انسان کے تعلقات کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جلدی میں کہی گئی بات، بغیر سوچے کیا گیا فیصلہ، یا فوری ردعمل اکثر رشتوں میں دراڑ ڈال دیتا ہے۔