Inquilab Logo Happiest Places to Work

زندگی ایک تربیت گاہ ہے اور رب العالمین ہمارا معلم ہے!

Updated: May 01, 2026, 4:23 PM IST | S. Ameenul Hasan | Mumbai

ہر طلوع ہونے والا سورج ہمارے سامنے کوئی نہ کوئی پریشانی کی خبر لاتا ہے، انھیں پڑھنے یا دیکھنے کے بعد یا تو ہمارا دل مغموم ہو جاتا ہے یا رد عمل کے جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں اور ہمیں دوسروں پر شدید غصہ آنے لگتا ہے۔

Before making any decisions about the situation, firmly believe that this universe was created with truth. Photo: INN
حالات کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ عقیدہ راسخ کرلیں کہ یہ کائنات حق کے ساتھ بنی ہے ۔ تصویر: آئی این این

ہر طلوع ہونے والا سورج ہمارے سامنے کوئی نہ کوئی پریشانی کی خبر لاتا ہے، انھیں پڑھنے یا دیکھنے کے بعد یا تو ہمارا دل مغموم ہو جاتا ہے یا رد عمل کے جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں اور ہمیں دوسروں پر شدید غصہ آنے لگتا ہے۔ یہ دونوں ہی صورت حال حقیقت نا آشنائی کے سبب پیدا ہوتی ہیں۔ کبھی حکومت کی چیرہ دستی ہوتی ہے تو کبھی عدلیہ کے بعض فیصلے ہمیں مایوس کر دیتے ہیں اور ہم سوچتے ہیں کہ کیا یہی انصاف ہے؟ کبھی کسی میڈیا چینل کی کوئی شرارت سامنے آتی ہے تو کبھی کسی مذہبی رہ نما کا زہر اگلنے والا بیان انگارے کی طرح کانوں سے ٹکراتا ہے۔ ان سب باتوں سے ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہر طرف سے ہم سخت مسائل اور شدید حالات میں گھر گئے ہیں اور اب ہمارے سامنے ذلت ورسوائی کے سوا کوئی راستہ بچا ہی نہیں ہے۔ ہمارا یہ احساس نظر کی کوتاہی کا نتیجہ اور رب کی مصلحت سے ناواقفیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تم اس معزز سر زمین پر قدم رنجہ ہو جو مکہ کے بعد اللہ کے نزدیک سب سے محبوب شہر ہے

کائنات اللہ کے زیر نگرانی ہے
حالات کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ عقیدہ راسخ کرلیں کہ یہ کائنات حق کے ساتھ بنی ہے اور دنیا کی نگرانی اللہ سبحانہ وتعالی فرما رہا ہے، وہ ہر پل رونما ہونے والے واقعات سے باخبر ہے یہاں تک کہ کسی شجر کا کوئی پتہ اس کے علم کے بغیر نہیں گرتا۔ یہاں دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کی کارفرمائی ہے، اس کی مصلحت اور منشا کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس کی مشیت ہر چیز پر غالب ہے۔ہمیں اس کائنات میں بے یار و مددگار نہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہمارا ایک ولی اور نصیر ہے۔ اس عقیدے سے ہمیں اطمینان قلب اور جمیعت خاطر نصیب ہوتی ہے۔
درج ذیل آیتوں پر غور کریں کہ وہ کتنی امید افزا ہیں:
’’اللہ، وہ زندہ جاوید ہستی، جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے وہ نہ سوتا ہے اور نہ اُسے اونگھ لگتی ہے زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، اُسی کا ہے کون ہے جو اُس کی جناب میں اُس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے، اس سے بھی وہ واقف ہے اور اُس کی معلومات میں سے کوئی چیز اُن کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی الّا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی اُن کو دینا چاہے اُس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور اُن کی نگہبانی اس کے لئے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے۔‘‘ (البقرہ:۲۵۵)
’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اُس نے وہ سب کچھ تمہارے لئے مسخر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے اور اسی نے کشتی کو قاعدے کا پابند بنایا ہے کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے، اور وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے کہ اس کے اِذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گر سکتا؟ واقعہ یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور رحیم ہے۔‘‘ (الحج:  ۶۵)
’’اور اللہ سے وابستہ ہو جاؤ وہ ہے تمہارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔‘‘  (الحج: ۷۸ )

یہ بھی پڑھئے: روحانی ترقی کیلئے مادی ضروریات کی تکمیل بھی ضروری ہے

خارجی زندگی باطنی زندگی کا عکس ہے
ہماری باطنی زندگی جیسی ہوگی اسی کا عکس ہمارے خارجی حالات ہوں گے، جیسے انفس ہوں گے ویسے ہی ان کے لیے افاق ہوں گے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔‘‘  (الرعد: ۱۱)
’’تم پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے، اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی در گزر کر جاتا ہے۔‘‘  (الشوریٰ:۳۰)
اللہ پاک کا قانون ہے:’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے۔‘‘(المدثر:  ۳۸)
’’جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لئے اچھا کرے گا، جو بدی کرے گا اس کا وبال اُسی پر ہوگا، اور آپ کا ا رب اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے۔‘‘ (فصلت:۴۶)
ایک پہلو سے غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ زمین وآسمان کے پیدا کئے جانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے، قرآن کریم نے صاف الفاظ میں وضاحت کر دی ہے:’’اللہ نے تو آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے اور اس لیے کیا ہے کہ ہر متنفس کو اُس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے لوگوں پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا۔‘‘ (الجاثیہ:۲۲)

یہ بھی پڑھئے: مایوسی کی گنجائش نہیں، اللہ کی رحمت ہر حال میں موجود ہے

دیگر اقوام کے درمیان امت مسلمہ کے مقام کو اس مثال سے سمجھیں کہ ایک مڈل اسکول کا ٹیچر ریاضی کا سادہ معمہ آسانی سے حل کر سکتا ہے۔ اس سے پیچیدہ تر معمہ ایک پروفیسر آسانی سے حل کرسکتا ہے۔ ریاضیات کا ماہر مشکل ترین معموں کی گتھیاں سلجھاتا اور دقیق مسائل کو حل کرتا ہے۔‌ جو جتنا ماہر ہوگا اس کے سامنے زیادہ پیچیدہ مسائل پیش ہوں گے اور وہ مسائل کو اتنی ہی عمدگی سے حل کرسکے گا۔ زندگی ایک تربیت گاہ ہے۔ اللہ ہمارا معلم ہے۔ وہ ہمیں تعلیم بھی دیتا ہے اور ہماری تربیت کا سامان بھی کرتا ہے۔ بیرونی دنیا میں جو مسائل ابھرتے ہیں ان سے ہماری تعلیم مقصود ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK