میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں اس کو مثال سے سمجھئے۔ آم کی گٹھلی یا اس قسم کے پھلوں کے تخم کو آپ نے دیکھا ہو گا۔ آم کا درخت اسی گٹھلی سے برآمد ہوتا ہے۔ پتے، شاخیں، پھول، پھل کا ایک طوفان ہوتا ہے جو اس گٹھلی کی راہ سے اپنی اپنی شکلوں کے ساتھ باہر نکل نکل کر آم کے درخت کا جز بنتا رہتا ہے۔
’’اللہ نے عزت والے گھر کعبہ کو لوگوں کے (دینی و دنیوی امور میں) قیام (امن) کا باعث بنا دیا ہے۔‘‘ تصویر: آئی این این
کثرتوں کا ارتکازی مجموعہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، ہاتھی کا کوہ پیکر جثہ ہو یا برگد کے پھلوں کا خشخاشی تخم ، ہر ایک میں ان کے بکھرے ہوئے اجزاء کی پیوستگی اور باہمی ارتباط کو قائم رکھنے کے لئے بھی اور اپنے اپنے نوعی کمالات کو نشوونما اور ارتقاء کے آخری مقام تک پہنچانے کے لئے بھی ایک مرکزی نقطہ پایا جاتا ہے۔ اس مرکزی نقطہ کے وجود کو اگر اس سے نکال لیا جائے تو ایک طرف سارے سمٹے ہوئے اجزا بکھر جائیں گے، اور دوسری طرف بیرونی فیوض کو جذب کرکے ارتقا ءو نشود نما کے جس عمل کو یہ مرکزی نقطہ جاری رکھے ہوئے تھا وہ عمل بھی رک جائے گا۔
میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں اس کو مثال سے سمجھئے۔ آم کی گٹھلی یا اس قسم کے پھلوں کے تخم کو آپ نے دیکھا ہو گا۔ آم کا درخت اسی گٹھلی سے برآمد ہوتا ہے۔ پتے، شاخیں، پھول، پھل کا ایک طوفان ہوتا ہے جو اس گٹھلی کی راہ سے اپنی اپنی شکلوں کے ساتھ باہر نکل نکل کر آم کے درخت کا جز بنتا رہتا ہے۔ لیکن آم کی اسی گٹھلی کو چیریئے، اس میں ایک چیز آپ کو نظر آئے گی جسے انکھوا کہتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ گٹھلی سے اس انکھوے کو نکال لینے کے بعد، خواہ کتنی ہی اچھی، نرم اور پاکیزہ زمین میں اس کو بویا جائے اور چشموں کے کیسے ہی صاف و شفاف پانی سے اس کی آبیاری کی جائے، بجائے اس کے کہ اس گٹھلی سے پودا نکلے، گٹھلی سڑتی چلی جائے گی تا اینکہ بالآخر سڑسڑ کر اس کے اجزا مٹی میں مل کر ادھر اُدھر غائب ہو جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: چھٹیوں میں بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کیلئے ماحول فراہم کیجئے
حاصل یہی ہے کہ گٹھلیوں کا یہی مرکزی نقطہ وہ نقطہ ہے کہ دیکھنے میں خواہ کتنا بھی بے حیثیت اور معمولی نظر آتا ہو، لیکن کسی درخت کے فطری نظام اور اس کے سارے آثار و نتائج کا حصول یقیناً اس مرکزی نقطہ کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس کو نوچ کر گٹھلی سے اگر الگ کر لیا جائے تو سارے فیوض کا قصہ ہی ختم ہوجائیگا جن سے درخت کا تنا، اس کی ڈالیاں، شاخیں، پتے، پھول، پھل مستفید ہوتے رہتے ہیں۔
الغرض حیوانی و انسانی اجسام میں جو حیثیت قلب کی ہے اور نباتی حقائق کے لحاظ سے جو اہمیت گٹھلیوں کے اس مرکزی نقطہ کی ہے، دل یہ پوچھتا ہے کہ مٹی کا یہ تو دہ، جس کا نام زمین اور دھرتی ہے، جس سے علاوہ عناصر اور معدنی مرکبات کے نباتی، حیوانی، انسانی ہستیوں کی بے پناہ موجیں ابل رہی ہیں، ان ساری پیداواروں کے لئے زمین بھی اپنے اندر کیا کوئی ایسی چیز رکھتی ہے جسے ارضی فیوض و برکات کا مرکزی نقطہ ٹھہرایا جائے؟ کیا اس کا بھی کوئی دل ہے، جس سے مختلف ارضی پیداواروں کی رگوں میں نشود نما اور ارتقا و بقا کا خون دوڑ رہا ہے ؟ یا یوں پوچھئے کہ یہ خاکی گٹھلی بھی اپنے اندر کیا کوئی ایسا انکھوا رکھتی ہے کہ اس کے ساتھ ان ساری چیزوں کا قیام وابستہ ہو جو زمین سے پیدا ہو رہی ہیں اور تمام خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے اس خاکی کرّے کی پشت پر نمایاں ہو کر جسد ارضی پر اپنے اقتضائی کمالات کو حاصل کرتی چلی جارہی ہیں ؟ نہ ماننے والوں سے ابھی بحث نہیں، لیکن جنہوں نے مانا ہے کہ ’’اللہ نے عزت والے گھر کعبہ کو لوگوں کے (دینی و دنیوی امور میں) قیام (امن) کا باعث بنا دیا ہے‘‘ (المائدہ:۹۷) اسی کی خبر ہے جو زمین کا اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا پیدا کرنے والا ہے، بتائیے ان سوالوں کے جواب میں کہ کیا ایک مومن بالقرآن کی نظر ’’کعبہ ‘‘ کے سوا کیا کسی دوسری چیز پر پڑ سکتی ہے؟
یہ بھی پڑھئے: رشتوں کو قائم رکھنے اور پرسکون زندگی کا نسخہ قطع رحمی نہیں، صلہ رحمی ہے
سرچشمۂ فیوض و امن
وہی الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ جس کا تذکرہ کرتے ہوئے جب اسی قرآن میں قیام و بقا سے بھی آگے بڑھ کر ’’اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر (خانہ کعبہ) کو لوگوں کے لئے رجوع (اور اجتماع) کا مرکز اور جائے امان بنا دیا‘‘ البقرہ: ۱۲۵) کی بھی تصریح کردی گئی ہے۔
مَثَابَةً کی لغوی و اصطلاحی تشریح کرتے ہوئے علامہ راغب اصفہانی اپنے مفردات میں لکھتے ہیں ’’پینے والوں کے لئے کنویں کے منھ پر جو جگہ ہوتی ہے اس کو مثابہ کہتے ہیں۔‘‘ اب سوچئے کہ مثابہ ہونے کی یہی حیثیت جب الکعبہ کو حاصل ہے، تو اس کا حاصل اس کے سوا اور کیا ہوا کہ سارے فیوض و برکات جو زمین کے اس کرّے پر تقسیم ہو رہے ہیں، ان کے گزرنے کا مرکزی نقطہ یہی الکعبہ ہے؟
اور صرف مقابل ہی نہیں بلکہ اسی آیت کے لفظ أَمْنًا سے یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ سارا امن و امان قدرت نے اسی ’’البیت الحرام‘‘ کے ساتھ وابستہ فرما دیا ہے۔
الغرض یہاں جس کسی کو جہاں کہیں جو کچھ بھی مل رہا ہے اسی الکعبہ کی راہ سے مل رہا ہے۔ یہ قرآن کے نصوصِ صریحہ کا اقتضا ہے۔ گویا یوں سمجھنا چاہئے کہ ساری کائنات کے ساتھ العرش کی جو نسبت قرآن نے بیان کی ہے ، کہ الرحمٰن اسی العرش کو مرکز بنا کر اپنی رحمتیں دنیا میں تقسیم فرما رہا ہے، یہی نسبت زمین کے خاص کرے کے ساتھ الکعبہ بھی رکھتا ہے۔ حضرت آدم ؑ کو خطاب کرکے رب العزت نے جو فرمایا ان سے کہ ’’اے آدم! یہ میرا گھر ہے ، اس کے ارد گرد طواف کرنا اور نماز ادا کرنا، جس طرح تم نے میرے فرشتوں کو طواف کرتے ہوئے، نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ‘‘ (جامع شعب الایمان، تاریخ الخمیس) اور دوسری روایتوں سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ کرۂ ارض کا ’’قلب‘ ‘ اور وہ مرکزی نقطہ جس سے سارے برکات و فیوض اس زمین پر تقسیم ہورہے ہیں ، یہی الکعبہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روحانی ترقی کیلئے مادی ضروریات کی تکمیل بھی ضروری ہے
مشہور قرآنی آیت ’’بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا وہی ہے جو مکہّ میں ہے، برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لئے ہدایت (کا مرکز) ہے‘‘ (آل عمران:۹۶) اس کے بعد تو اس قسم کی روایتوں سے تائید حاصل کرنے کی بھی قطعاً ضرورت باقی نہیں رہتی۔
سورہ آل عمران ، آیت نمبر۹۶؍ میں بجائے مکہ کے ، اسی آبادی کے دوسرے نام یا تلفظ یعنی ’’بَکّہ‘‘ کا لفظ اختیار کیا گیا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہے۔ نزول قرآن سے صدیوں پہلے الکعبہ کی اسی عالمگیر اہمیت کا انکشاف کرتے ہوئے حضرت داؤدؑ کتاب زبور میں یہ والہانہ تمہیدی فقرات ارشاد فرماتے ہیں:
اے لشکروں کے خداوند، تیرے مسکن کیا ہی دلکش ہیں! میری روح خداوند کی بارگاہ کے لئے آرزومند بلکہ گداز ہوتی ہے۔ میرا مَن ، میرا تن، زندہ خدا کے لئے للکارتا ہے۔
پھر اس کی مثال دیتے ہوئے کہ ہر چیز ایک مرکز رکھتی ہے، فرماتے ہیں:
گوریے نے بھی اپنا گھونسلہ اور ابابیل نے بھی اپنا آشیانہ پایا ہے جہاں وہ اپنے بچے رکھیں۔ آخر میں زبور کا یہ مشہور فقرہ ہے ، کہ: ’’مبارک وہ انسان ہیں جن میں قوت تجھ سے ہے اور ان کے دل میں تیری راہیں ہیں۔‘‘ وہ بکّہ کی وادی میں گزر کرتے ہیں اور وہاں ایک کنواں بناتے ہیں، پہلی برسات اسے برکتوں سے ڈھانپ لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: ٹول کا حکم، قربانی کے جانور کی عمر، مطلوبہ مال نہ ملنے پر واپس کرنا
یہ داؤد ؑ کی ’’زبور‘‘ کے ’’مزبور ۸۱ کے فقرے ہیں۔ اس میں چاہِ زم زم ہی کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا بلکہ قرآنی لفظ ’’مبارک‘‘ کے مفہوم کو بھی خاص پیرایہ میں ادا کردیا گیا ہے۔ پہلی برسات، الرحمٰن کی پہلی توجہ ہے جو کرۂ زمین کی آبادی کے لئے کی گئی۔
وسط زمین:سچ تو یہ ہے کہ بائبل کا بیت ایل (عہد نامہ قدیم میں مذکور ایک قدیم شہر اور نہایت اہم مقدس مقام ہے، جس کے معنی ’’خدا کا گھر‘‘ ہیں) اور قرآن کا بیت اللہ ، جس آبادی میں پایا جاتا ہے اس کے ، اور جس ملک سے اس آبادی کا تعلق ہے اس کے متعلق تاریخی شہادتوں کے علاوہ ان کی جغرافیائی پوزیشن پر بھی اگر توجہ کی جائے تو اس قرآنی اشارے کا مطلب سمجھ میں آسکتا ہے جسے سورہ البقرہ میں ہم پاتے ہیں۔ امت محمدیہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ’’ (اے مسلمانو!) اسی طرح ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا‘‘(البقرہ:۱۴۳) اس سے پیشتر جیسا کہ ہر قرآن پڑھنے والا جانتا ہے، الکعبہ ہی کا ذکر ہے اور فرمایا گیا ہے کہ بجائے مشرقی خطوں اور مغربی اقلیموں کے، مسلمانوں کو زمین کے اس حصہ میں قبلہ عطا کیا گیا جو نہ مشرق سے زیادہ دور ہے اور نہ مغرب سے، اور یہ خدا کا فضل اور اس کی حکمت کا اقتضا ہے۔ جب مسلمانوں کو وسط اور بیچ میں واقع ہونے والی درمیانی امت قرار دیتے ہوئے ان کے اس حال کو قبلہ سے تشبیہ دی گئی ہے تو صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ قرآن مطلع کرتا ہے کہ جغرافیائی حیثیت سے ان کا قبلہ بھی وسط اور ایسے علاقہ میں واقع ہے جو دنیا کے معمور اور آباد علاقوں کا درمیانی حصہ ہونے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے معنی یہی ہوئے کہ روایتوں میں الکعبہ یا مکہ کو جو سرۃ الارض (نافِ زمین) کے لفظ سے موسوم کیا گیا ہے ، یہ دراصل اسی قرآنی خبر کی تعبیر اور توضیح ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشرہ میں خواتین بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنے کہ مرد
آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ مشرق و مغرب کے سارے مواصلاتی ذرائع، خواہ ان کا تعلق خشکی سے ہو یا تری سے اور فضا اور ہوا سے ، تقریباً عام حالات میں ہر ایک کو اسی علاقے سے گزرنا پڑتا ہے جس میں الکعبہ واقع ہے۔ اسی طرح شمال میں ۸۰ ؍ درجہ تک ، اسی طرح اس کے بالمقابل جنوب میں ۴۰ درجے تک ، عموماً انسانی آبادیاں پائی جاتی ہیں۔ مجموعی طور پر ۱۲۰؍ درجے تک دنیا کی آبادی شمالاً و جنوباً پھیلی ہوئی ہے اس لئے دنیا کے درمیانی علاقے وہی ہوسکتے ہیں جو ۲۰؍ اور ۲۱؍ درجے پر واقع ہیں۔ اب اطلس اٹھا کر دیکھ لیجئے، وہی آپ کو جواب دے گا کہ عرب کا ملک جس میں الکعبہ واقع ہے، اس کا محل وقوع اس سلسلے میں کہاں ہے۔
تجلی گاہِ ربانی: قرآن نے صاف صاف لفظوں میں اعلان کیا ہے کہ الناس کے قیام و بقا کا تعلق بھی اسی الکعبہ سے ہے ، وہی الناس کے لئے مثابہ (پن گھٹ) ہے اور ان کا امان و امان بھی اسی کے ساتھ وابستہ ہے۔ العالمین یعنی سارے جہانوں کے لئے وہ مبارک بھی ہے اور ان میں ہدایت کی عمومی روشنی کی تقسیم کا مرکز بھی یہی گھر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ریاکاری سے بچیں، یہ اعمال کو ضائع کرنے کا سبب ہے
اور جیسے سارے عالم میں اپنی رحمتوں کو تقسیم کرنے کے لئے العرش العظیم پر الرحمٰن مستوی ہوا، اسی طرح کرۂ ارض کی رحمتوں کی تقسیم کے لئے الکعبہ کو اس نے اپنی تجلی کی فردوگاہ خاص ٹھہرایا ۔ بقول مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ’’اگرچہ آفتاب آئینے میں نہیں اترتا لیکن جو خاص قسم کی تجلی آفتاب کی آئینے میں ہوتی ہے اسی کا نتیجہ دیکھا جاتا ہے کہ ہوبہو کامل آفتاب آئینے میں جھلکتا اور چمکتا نظر آرہا ہے۔ کچھ اسی طرح سمجھنا چاہئے کہ جو آسمان و زمین میں بھی نہیں سما سکتا وہی خالق ارض و سماوات الکعبہ کی ’’تجلی گاہِ خاص‘‘ میں نمایاں ہے۔ جیسے آئینے کو بیت الشمس کہہ سکتے ہیں اسی طرح الکعبہ پر بھی بیت اللہ کا اطلاق ایک صحیح مشاہداتی یافت ہی کا یہ اعتراف ہوگا۔