Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرۂ ارض کا قلب اور سارے فیوض و برکات کا مرکز، یہی الکعبہ ہے

Updated: May 01, 2026, 3:43 PM IST | Sayyed Manazir Ahsan Gilani | Mumbai

میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں اس کو مثال سے سمجھئے۔ آم کی گٹھلی یا اس قسم کے پھلوں کے تخم کو آپ نے دیکھا ہو گا۔ آم کا درخت اسی گٹھلی سے برآمد ہوتا ہے۔ پتے، شاخیں، پھول، پھل کا ایک طوفان ہوتا ہے جو اس گٹھلی کی راہ سے اپنی اپنی شکلوں کے ساتھ باہر نکل نکل کر آم کے درخت کا جز بنتا رہتا ہے۔

"Allah has made the Sacred House, the Kaaba, a place of stability for people (in religious and worldly matters)." Photo: INN
’’اللہ نے عزت والے گھر کعبہ کو لوگوں کے (دینی و دنیوی امور میں) قیام (امن) کا باعث بنا دیا ہے۔‘‘ تصویر: آئی این این

کثرتوں کا ارتکازی مجموعہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، ہاتھی کا کوہ پیکر جثہ ہو یا برگد کے پھلوں کا خشخاشی تخم ، ہر ایک میں ان کے بکھرے ہوئے اجزاء کی پیوستگی اور باہمی ارتباط کو قائم رکھنے کے لئے بھی اور اپنے اپنے نوعی کمالات کو نشوونما اور ارتقاء کے آخری مقام تک پہنچانے کے لئے بھی ایک مرکزی نقطہ پایا جاتا ہے۔ اس مرکزی نقطہ کے وجود کو اگر اس سے نکال لیا جائے تو ایک طرف سارے سمٹے ہوئے اجزا بکھر جائیں گے، اور دوسری طرف بیرونی فیوض کو جذب کرکے ارتقا ءو نشود نما کے جس عمل کو یہ مرکزی نقطہ جاری رکھے ہوئے تھا وہ عمل بھی رک جائے گا۔

میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں اس کو مثال سے سمجھئے۔ آم کی گٹھلی یا اس قسم کے پھلوں کے تخم کو آپ نے دیکھا ہو گا۔ آم کا درخت اسی گٹھلی سے برآمد ہوتا ہے۔ پتے، شاخیں، پھول، پھل کا ایک طوفان ہوتا ہے جو اس گٹھلی کی راہ سے اپنی اپنی شکلوں کے ساتھ باہر نکل نکل کر آم کے درخت کا جز بنتا رہتا ہے۔ لیکن آم کی اسی گٹھلی کو چیریئے، اس میں ایک چیز آپ کو نظر آئے گی جسے انکھوا کہتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ گٹھلی سے اس انکھوے کو نکال لینے کے بعد، خواہ کتنی ہی اچھی، نرم اور پاکیزہ زمین میں اس کو بویا جائے اور چشموں کے کیسے ہی صاف و شفاف پانی سے اس کی آبیاری کی جائے، بجائے اس کے کہ اس گٹھلی سے پودا نکلے، گٹھلی سڑتی چلی جائے گی تا اینکہ بالآخر سڑسڑ کر اس کے اجزا مٹی میں مل کر ادھر اُدھر غائب ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: چھٹیوں میں بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کیلئے ماحول فراہم کیجئے

حاصل یہی ہے کہ گٹھلیوں کا یہی مرکزی نقطہ وہ نقطہ ہے کہ دیکھنے میں خواہ کتنا بھی بے حیثیت اور معمولی نظر آتا ہو، لیکن کسی درخت کے فطری نظام اور اس کے سارے آثار و نتائج کا حصول یقیناً اس مرکزی نقطہ کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس کو نوچ کر گٹھلی سے اگر الگ کر لیا جائے تو سارے فیوض کا قصہ ہی ختم ہوجائیگا جن سے درخت کا تنا، اس کی ڈالیاں، شاخیں، پتے، پھول، پھل مستفید ہوتے  رہتے ہیں۔

الغرض حیوانی و انسانی اجسام میں جو حیثیت قلب کی ہے اور نباتی حقائق کے لحاظ سے جو اہمیت گٹھلیوں کے اس مرکزی نقطہ کی ہے، دل یہ پوچھتا ہے کہ مٹی کا یہ تو دہ، جس کا نام زمین اور دھرتی ہے، جس سے علاوہ عناصر اور معدنی مرکبات کے نباتی، حیوانی، انسانی ہستیوں کی بے پناہ موجیں ابل رہی ہیں، ان ساری پیداواروں کے لئے زمین بھی اپنے اندر کیا کوئی ایسی چیز رکھتی ہے جسے ارضی فیوض و برکات کا مرکزی نقطہ ٹھہرایا جائے؟ کیا اس کا بھی کوئی دل ہے، جس سے مختلف ارضی پیداواروں کی رگوں میں نشود نما اور ارتقا و بقا کا خون دوڑ رہا ہے ؟ یا یوں پوچھئے کہ یہ خاکی گٹھلی بھی اپنے اندر کیا کوئی ایسا انکھوا رکھتی ہے کہ اس کے ساتھ ان ساری چیزوں کا قیام وابستہ ہو جو زمین سے پیدا ہو رہی ہیں اور تمام خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے اس خاکی کرّے کی پشت پر نمایاں ہو کر جسد ارضی پر اپنے اقتضائی کمالات کو حاصل کرتی چلی جارہی ہیں ؟  نہ ماننے والوں سے ابھی بحث نہیں، لیکن جنہوں نے مانا ہے کہ ’’اللہ نے عزت والے گھر کعبہ کو لوگوں کے (دینی و دنیوی امور میں) قیام (امن) کا باعث بنا دیا ہے‘‘ (المائدہ:۹۷)  اسی کی خبر ہے جو زمین کا اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا پیدا کرنے والا ہے، بتائیے ان سوالوں کے جواب میں کہ کیا ایک مومن بالقرآن کی نظر ’’کعبہ ‘‘  کے سوا کیا کسی دوسری چیز پر پڑ سکتی ہے؟

یہ بھی پڑھئے: رشتوں کو قائم رکھنے اور پرسکون زندگی کا نسخہ قطع رحمی نہیں، صلہ رحمی ہے

سرچشمۂ فیوض و امن

وہی الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ جس کا تذکرہ کرتے ہوئے جب اسی قرآن میں قیام و بقا سے بھی آگے بڑھ کر ’’اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر (خانہ کعبہ) کو لوگوں کے لئے رجوع (اور اجتماع) کا مرکز اور جائے امان بنا دیا‘‘  البقرہ: ۱۲۵)  کی بھی تصریح کردی گئی ہے۔ 

مَثَابَةً کی لغوی و اصطلاحی تشریح کرتے ہوئے علامہ راغب اصفہانی اپنے مفردات میں لکھتے ہیں  ’’پینے والوں کے لئے کنویں کے منھ پر جو جگہ ہوتی ہے اس کو مثابہ کہتے ہیں۔‘‘  اب سوچئے کہ مثابہ ہونے کی یہی حیثیت جب الکعبہ کو حاصل ہے، تو اس کا حاصل اس کے سوا اور کیا ہوا کہ سارے فیوض و برکات جو زمین کے اس کرّے پر تقسیم ہو رہے ہیں، ان کے گزرنے کا مرکزی نقطہ یہی الکعبہ ہے؟

اور صرف مقابل ہی نہیں بلکہ اسی آیت کے لفظ أَمْنًا سے یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ سارا امن و امان  قدرت نے اسی ’’البیت الحرام‘‘ کے ساتھ وابستہ فرما دیا ہے۔

الغرض یہاں جس کسی کو جہاں کہیں جو کچھ بھی مل رہا ہے اسی الکعبہ کی راہ سے مل رہا ہے۔ یہ قرآن کے نصوصِ صریحہ کا اقتضا ہے۔ گویا یوں سمجھنا چاہئے کہ ساری کائنات کے ساتھ العرش کی جو نسبت قرآن نے بیان کی ہے ، کہ الرحمٰن اسی العرش کو مرکز بنا کر اپنی رحمتیں دنیا میں تقسیم فرما رہا ہے، یہی نسبت زمین کے خاص کرے کے ساتھ الکعبہ بھی رکھتا ہے۔ حضرت آدم ؑ کو خطاب کرکے رب العزت نے جو فرمایا  ان سے کہ  ’’اے آدم! یہ میرا گھر ہے ، اس کے ارد گرد طواف کرنا اور نماز ادا کرنا، جس طرح تم نے میرے فرشتوں کو طواف کرتے ہوئے، نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ‘‘ (جامع شعب الایمان، تاریخ الخمیس) اور دوسری روایتوں  سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ کرۂ ارض کا ’’قلب‘ ‘ اور وہ مرکزی نقطہ جس سے سارے برکات و فیوض اس زمین پر تقسیم ہورہے ہیں ، یہی الکعبہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: روحانی ترقی کیلئے مادی ضروریات کی تکمیل بھی ضروری ہے

مشہور قرآنی آیت ’’بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا وہی ہے جو مکہّ میں ہے، برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لئے  ہدایت (کا مرکز) ہے‘‘ (آل عمران:۹۶) اس کے بعد تو اس قسم کی روایتوں سے تائید حاصل کرنے کی بھی  قطعاً ضرورت باقی نہیں رہتی۔

(آئندہ ہفتے پڑھئے: سب سے پہلا گھر اور وسط زمین)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK