Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہزار مہینوں سے بہتر رات حاصل ہوجائے تو صاحبِ قدر بن جائیں

Updated: March 15, 2026, 10:35 AM IST | Dr. Muhammad Tahir Ul Qadri | Mumbai

رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات شب قدر کہلاتی ہے جو بہت ہی قدر و منزلت اور خیر و برکت کی حامل رات ہے۔ اسی رات کو اللہ تعالیٰ نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے۔

Achieving the blessings of the Night of Power can be both individual and collective. Photo: INN
شب ِ قدر کی برکتوں کا حصول انفرادی بھی ہوسکتا ہے اور اجتماعی بھی۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات شب قدر کہلاتی ہے جو بہت ہی قدر و منزلت اور خیر و برکت کی حامل رات ہے۔ اسی رات کو اللہ تعالیٰ نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے۔ ہزار مہینے کے تراسی برس چار ماہ بنتے ہیں،جس شخص کی یہ ایک رات عبادت میں گزری، اس نے تراسی برس چار ماہ کا زمانہ عبادت میں گزار دیا اور تراسی برس کا زمانہ کم از کم ہے کیونکہ ’’خیر من الف شھر‘‘ کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ کریم جتنا زائد اجر عطا فرمانا چاہے گا، عطا فرما دے گا، اس کی کوئی حد ہے نہ حساب۔ اس اجر کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سورہ طور، سورہ النجم، سورہ القمر، سورہ رحمان، سورہ الواقعہ اور سورہ الحدید سنئے!

شب قدر کا معنی و مفہوم
امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قدر کا معنی مرتبہ کے ہیں،چونکہ یہ رات باقی راتوں کے مقابلے میں شرف و مرتبہ کے لحاظ سے بلند ہے، اسلئے اسے ’’لیلۃ القدر‘‘ کہا جاتا ہے۔ (قرطبی)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو تمام فیصلے فرما لیتا ہے اور چونکہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سال کی تقدیر و فیصلے کا قلمدان فرشتوں کو سونپا جاتا ہے اس وجہ سے یہ ’’لیلۃ القدر‘‘ کہلاتی ہے۔(تفسیر القرطبی)
 اس رات کو قدر کے نام سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے:
اس رات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قابل قدر کتاب، قابل قدر امت کے لئے صاحبِ قدر رسول کی معرفت نازل فرمائی، یہی وجہ ہے کہ اس سورہ میں لفظ قدر تین دفعہ آیا ہے۔ (تفسیر کبیر)
قدر کا معنی تنگی کا بھی آتا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے اسے قدر والی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس رات آسمان سے فرش زمین پر اتنی کثرت کے ساتھ فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ زمین تنگ ہو جاتی ہے۔(تفسیر الخازن)۔ امام ابوبکر الوراق ’’قدر‘‘ کہنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ رات عبادت کرنے والے کو صاحب قدر بنا دیتی ہے، اگرچہ وہ پہلے اس لائق نہیں تھا۔
(تفسیر القرطبی)

یہ بھی پڑھئے: والدین سے حسنِ سلوک، فتح مبین، بیعت صحابہؓ اور تعمیر ِ شخصیت پر مبنی آیات سنئے

یہ رات کیوں عطا ہوئی؟
اس کے حصول کا سب سے اہم سبب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس امت پر شفقت اور آپؐ کی غمخواری ہے۔ موطا امام مالک میں ہے:
’’جب رسول پاک ؐکو سابقہ لوگوں کی عمروں پر آگاہ فرمایا گیا تو آپ ؐنے ان کے مقابلے میں اپنی امت کے لوگوں کی عمر کو کم دیکھتے ہوئے یہ خیال فرمایا کہ میری امت کے لوگ اتنی کم عمر میں سابقہ امتوں کے برابر عمل کیسے کر سکیں گے؟ (پس) آپ ؐکو لیلۃ القدر عطا فرما دی، جو ہزار مہینے سے افضل ہے۔‘‘ (موطا امام مالک، کتاب الصیام، باب ماجاء فی لیلۃ القدر)
اس کی تائید حضرت ابن عباسؓسے منقول روایت سے بھی ہوتی ہے کہ آپ ؐ کی بارگاہ اقدس میں بنی اسرائیل کے  ایک ایسے شخص کا تذکرہ کیا گیا  جس نے ایک ہزار ماہ تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا تھا۔ تو آپ ؐنے اس پر تعجب کا اظہار فرمایا اور اپنی امت کے لئے آرزو کرتے ہوئے جب یہ دعا کی کہ اے میرے رب میری امت کے لوگوں کی عمریں کم ہونے کی وجہ سے نیک اعمال بھی کم ہوں گے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے شب قدر عنایت فرمائی۔(تفسیر الخازن)

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: رمضان میں ایک سے زیادہ مرتبہ بھی مکمل قرآن ختم کیا جا سکتا ہے

امت ِ محمدی ؐکی خصوصیت
لیلۃ القدر فقط آپ ؐکی امت کی خصوصیت ہے۔ امام جلال الدین سیوطی ؒحضرت انس ؓسے نقل کرتے ہیں کہ رسول ؐ اللہ نے فرمایا:
’’یہ مقدس رات اللہ تعالی نے فقط میری امت کو عطا فرمائی ہے، سابقہ امتوں میں سے یہ شرف کسی کو بھی نہیں ملا۔‘‘ (الدر المنثور)
فضیلت ِ شب قدر:احادیث کی روشنی میں
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا: جس شخص نے شب قدر میں اجر و ثواب کی امید سے عبادت کی، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔(صحیح البخاری،کتاب الصیام)
اس ارشاد نبویؐ میں جہاں لیلۃ القدر کی ساعتوں میں ذکر و فکر، عبادت و طاعت کی تلقین کی گئی ہے وہیں اس بات کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ عبادت سے محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہو۔  ریاکاری یا بدنیتی نہ ہو اور آئندہ عہد کرے کہ میں برائی کا ارتکاب نہیں کروں گا چنانچہ اس شان کے ساتھ عبادت کرنے والے بندے کے لئے یہ رات مژدئہ مغفرت بن کر آتی ہے۔
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رمضان المبارک کی آمد پر ایک مرتبہ  آپؐ  نے فرمایا:
’’یہ جو ماہ تم پر آیا ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار ماہ سے افضل ہے، جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا وہ سارے خیر سے محروم رہا اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتاً محروم ہو۔‘‘(سنن ابن ماجہ)

یہ بھی پڑھئے: سر زمین بیت المقدس نبیؐ کی جائے اسراء ہی نہیں ’محشر‘ اور ’منشر‘ بھی ہے

ایسے شخص کی محرومی میں واقعتاً کیا شک ہو سکتا ہے جو اتنی بڑی نعمت کو غفلت کی وجہ سے گنوا دے۔ جب انسان معمولی معمولی باتوں کے لئے کتنی راتیں جاگ کر بسر کر لیتا ہے تو اسی (۸۰) سال کی عبادت سے افضل عبادت کے لئے دس راتیں کیوں نہیں جاگ سکتا؟
حضرت انسؓسے روایت ہے کہ حضورؐ  نے لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
شب قدر کو جبریل امین ؑفرشتوں کے جھرمٹ میں زمین پر اتر آتے ہیں اور ہر شخص کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو کھڑے، بیٹھے (یعنی کسی بھی حال میں) اللہ کو یاد کر رہا ہو۔
(شعب الایمان)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK