اللہ تعالیٰ نے آپ کو شرف بخشا کہ فریضہ حج کو بجا لانے کی توفیق دی، لیکن اس سرزمین کے جو آداب ہیں ان کو ضرور سیکھ لیجئے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ معمولی سی لغزش بھی ہو جائے اور آپ کی حاضری ناپسندیدہ ٹھہرے!
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 3:55 PM IST | Abdullah Al Buaijan | Mumbai
اللہ تعالیٰ نے آپ کو شرف بخشا کہ فریضہ حج کو بجا لانے کی توفیق دی، لیکن اس سرزمین کے جو آداب ہیں ان کو ضرور سیکھ لیجئے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ معمولی سی لغزش بھی ہو جائے اور آپ کی حاضری ناپسندیدہ ٹھہرے!
تمام تعریف اللہ کے لئے ہے، ہم اس کی حمد کرتے ہیں اور اس سے مدد اور بخشش طلب کرتے ہیں اور اپنے نفس کی برائیوں اور اپنے برے اعمال سے ہم اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ آپؐ نے پیغام پہنچایا، امانت ادا کر دی، امت کی خیر خواہی کی اور اسے روشن راستے پر چھوڑا جس کی رات بھی اس کے دن کی طرح روشن ہے، اس سے صرف وہی ہٹے گا جو ہلاک ہونے والا ہو۔
یہ بھی پڑھئے: روحانی ترقی کیلئے مادی ضروریات کی تکمیل بھی ضروری ہے
سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، سب سے مضبوط کلمہ تقویٰ ہے، اور سب سے بہترین ملت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی ملت ہے، سب سے خوبصورت قصے قرآن کریم کے قصے ہیں اور سب سے بہتر راستہ محمد ؐ کا راستہ ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ سب سے بری چیز دین میں نئی پیدا کی گئی چیز ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ کی اطاعت سب سے بہتر نفع اور کمائی ہے، اور اس کی رضا سب سے بڑا فلاح اور مقصد ہے۔ جنت کو مشقتوں سے اور جہنم کو خواہشات سے گھیر دیا گیا ہے، اور تمہیں تمہارے اعمال کا پورا بدلہ قیامت کے دن دیا جائے گا۔ پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہی کامیاب ہے۔ دنیا کی زندگی صرف دھوکے کا سامان ہے۔ پس اللہ کے احکام کی تعمیل میں اس سے ڈرو، اور جس سے اس نے منع کیا اس سے رک جاؤ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرا کرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت صرف اسی حال پر آئے کہ تم مسلمان ہو۔‘‘ (آل عمران:۱۰۲)
یہ بھی پڑھئے: کرۂ ارض کا قلب اور سارے فیوض و برکات کا مرکز، یہی الکعبہ ہے
لوگو! تم ایک حرمت والے مہینے اور حرمت والے شہر میں ہو، اور ارکان اسلام میں سے ایک رکن کی ادائیگی کرنے جا رہے ہو، یعنی حج بیت اللہ کا فریضہ ادا کرنے جا رہے ہو۔ اس عبادت کی ادائیگی کی تیاری میں سے ہے کہ انسان اس سے متعلق احکام سیکھے۔ لہٰذا حج کا ارادہ کرنے والے مسلمان پر لازم ہے کہ وہ بہتر اور مضبوط انداز میں حج کی ادائیگی کا طریقہ سیکھے، اور وہ ارکان، واجبات، ممنوعات اور ان سے متعلق احکام کو جان لے، کیونکہ علم عمل پر مقدم ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت من مانے طریقے سے نہیں بلکہ علم اور بصیرت کے ساتھ کی جائے گی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہ کی معافی مانگو۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہاں علم کو قول و عمل پر مقدم کیا۔
اللہ کے بندو! علم کا حاصل کرنا خشیت ہے، اس کا طلب کرنا عبادت ہے، اس کی تلاش میں لگنا جہاد ہے، اسے لاعلم شخص کو سکھانا صدقہ ہے، اور صاحب علم کو مزید سکھانا تقرب ہے۔ وہ علم بندہ جس سے اپنی عبادت میں ہدایت پائے، اس سے اچھی کسی چیز کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وسائل مہیا کر دیے ہیں اور تمہارے لئے موزوں حالات بھی فراہم کر دیے ہیں۔ لہٰذا اب کسی کے لئے علم حاصل نہ کرنے کا کوئی عذر باقی نہیں کیونکہ تمام ذرائع میسر ہیں اور حجت قائم ہو چکی ہے۔
رحمٰن کے مہمانو! بیت اللہ الحرام کے حاجیو! اور مسجد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زائرین! اللہ آپ کی عبادتوں کو قبول کرے۔ اللہ نے آپ کو مدینہ منورہ کی زیارت کا شرف بخشا ہے، جو پاک طیبہ اور دارالایمان ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منزل ہجرت، جائے پناہ، جائے قیام و سکونت اور رہائش ہے، جو مکہ کے بعد اللہ کے نزدیک سب سے افضل سرزمین اور سب سے محبوب شہر ہے۔ آپؐ اس کی قدر و فضیلت کو پہچانیں، اس کے مقام کی تعظیم کریں اور اس کی حرمت کا پاس و لحاظ رکھیں۔ اس کی عظمت کا احساس رکھیں، اس میں سب سے بہتر آداب اپنائیں اور اس کی حرمت کی پامالی سے اور اس میں بدعت اور فساد پھیلانے سے بچیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام میں ’’پورے کے پورے‘‘ داخل ہونے کا حکم اور ہمارا طرز ِ عمل
یاد رکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مدینہ حرم ہے جس نے اس میں کسی بدعت کا ارتکاب کیا یا کسی بدعت کے مرتکب کو پنا ہ دی اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اس سے کو ئی عذر قبول کیا جا ئے گا نہ کو ئی بدلہ ۔‘‘ (صحیح مسلم)
سنو! اللہ نے تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کی زیارت کا شرف بخشا ہے۔ یہ وہ مسجد ہے جو پہلے دن ہی سے تقویٰ پر قائم کی گئی ہے۔ مسجد حرام کو چھوڑ کر وہ روئے زمین پر اللہ کا سب سے عظیم اور افضل گھر ہے، اور سوائے مسجد حرام کے اس میں عبادت دیگر مساجد کے مقابلے میں کئی گنا ہے۔ ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’میری اس مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کے سوا، کسی بھی مسجد میں پڑھی جانے والی ہزار نمازوں سے افضل ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)
مدینہ منورہ کی زیارت کا شرف پانے والے لوگو، تم ایک معزز سرزمین پر قدم رنجہ ہو، تم ایسی جگہ اترے ہو جو مکہ کے بعد اللہ کے نزدیک سب سے محبوب شہر ہے اس لئے تم شرفِ مکان کا احساس رکھو، اس کے تقدس کا احترام کرو، اس کے شرعی آداب بجا لاؤ، سکون و اطمینان اور وقار کی پابندی کرو۔ نمازیوں کو پریشان و تنگ کرنےاور ان کی گردنیں پھلانگنے کی کوشش نہ کرو۔ زائرین اور رحمٰن کے مہمانوں سے نرمی برتو اور بھیڑ کے وقت دھکامکی سے بچو۔ خدمات و ترتیب کی ذمہ داری پر لگے تنظیمی اداروں کی ہدایات کی پیروی اور مطلوبہ تعلیمات و ہدایات کی پابندی کرو۔ نیکی کے امور پر کسی کی مدد کرنا گناہ نہیں جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اور نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ (المائدہ:۲)
احکامِ حج سیکھ لو!
لوگو! حج کے احکام کا سیکھنا اس کی ادائیگی کا حصہ ہے، بلکہ اس کی صحت اور تکمیل کے لئے شرط ہے۔ اس لئے معتبر علماء اور بھروسہ مند اداروں سے صحیح طریقے سے انہیں سیکھنے کی کوشش کرو تاکہ اپنے مناسک مشروع طریقے پر انجام دے سکو۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے متعدد زبانوں میں تعلیم کے ذرائع اور با تصویر تعلیم و رہنمائی کے پلیٹ فارم میسر کئے ہیں جو تم سے پہلے لوگوں کے لئے میسر نہ تھے۔ تو کیا اس کے بعد بھی کوئی عذر باقی رہ جاتا ہے؟ اور کیا کسی کے پاس جاہل رہنے کی کوئی حجت رہ جاتی ہے؟ سو تم اپنے وقت کو غنیمت جانو اور اپنے مناسک کو سیکھو۔
یہ بھی پڑھئے: خداوند قدوس نے آپؐ کو بڑی متاثر کن نرم گفتاری اور دانائی عطا فرمائی تھی!
یاد رہے!
اے زیارت کرنے والو! یہ عبادت کے لئے مخصوص جگہ ہے۔ یہاں ہر اس چیز سے اجتناب کرو جو شریعت کی مخالف ہیں، جیسے بدعتیں، نافرمانیاں، فتنے، برائیاں وغیرہ۔ اے زیارت کرنے والو! اس جگہ کے موقع کو غنیمت جان۔ سنجیدگی، عزیمت اور ایمان کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو۔ اس میں عبادت افضل ہے اور اس میں اجر کئی گنا بڑھایا جاتا ہے۔ اپنا وقت غفلت، لہو و لعب اور موبائل میں، لایعنی چیزوں اور قیل و قال میں ضائع نہ کرو اور نہ دنیاوی معاملات میں الجھو۔
دو شرائط
عبادت صرف بدن کی کثرت نہیں ہے، بلکہ یہ فروتنی اور انکساری کے ساتھ اللہ کے احکام کی فرمانبرداری اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے رکنا ہے، بایں طور کہ اس میں محبت، رغبت اور ثواب کی امید ہو اور خوف و خشیت ہو۔ عبادت کی قبولیت کی دو شرطیں ہیں: پہلی شرط اللہ کے لئے اخلاص، بایں طور کہ عبادت کا مقصد صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ عبادت اس کے مطابق ہو جو اللہ نے اپنی کتاب اور اپنے نبی ؐکی سنت میں مقرر کیا ہے۔امّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تو وہ مردود ہے۔( متفق علیہ)