امریکہ میں اسرائیل کیلئے ریپبلکن پارٹی کی روایتی حمایت میں دراڑیں نمایاں ہونے لگی ہیں، خصوصاً نوجوان ریپبلکنز کے رویوں میں بڑی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ سرویز کے مطابق غزہ جنگ اور امریکی خارجہ پالیسی کے باعث اسرائیل مخالف رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: June 30, 2026, 11:09 AM IST | Washington
امریکہ میں اسرائیل کیلئے ریپبلکن پارٹی کی روایتی حمایت میں دراڑیں نمایاں ہونے لگی ہیں، خصوصاً نوجوان ریپبلکنز کے رویوں میں بڑی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ سرویز کے مطابق غزہ جنگ اور امریکی خارجہ پالیسی کے باعث اسرائیل مخالف رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ میں نوجوان ریپبلکنز کی بڑھتی ہوئی تعداد اسرائیل کے خلاف ہوتی جا رہی ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا ریپبلکن پارٹی کی اسرائیل کیلئے دیرینہ حمایت کو اب بھی یقینی سمجھا جا سکتا ہے یا نہیں۔ یہ بات اتوارکو’ Axios‘ نیوز ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں کہی۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ کے کریٹیکل ایشوز پول کے ڈائریکٹر اور حکومت و سیاست کے پروفیسر شیبلی تلہامی نے کہا:’’نوجوان ریپبلکنز کے درمیان یقیناً ایک بڑی تبدیلی جنم لے رہی ہے۔ ‘‘اسرائیل کیلئے ریپبلکن حمایت اس وقت دباؤ کا شکار ہے کیونکہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے غزہ کی پٹی میں وسیع پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جبکہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامین نیتن یاہو کی ایران جنگ ختم کرنے کی کوششوں کے حوالے سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: گرمی کی لہر کا قہر، ۲۴؍ گھنٹوں میں ۱۰۹؍ اموات درج
کئی برسوں سے نیتن یاہو نے ڈیموکریٹک پارٹی میں اسرائیل کی کم ہوتی حمایت کا مقابلہ کرنے کیلئے ریپبلکن پارٹی سے قریبی تعلقات استوار کئے۔ تاہم، حالیہ سروے اور نمایاں دائیں بازو کی شخصیات کی تنقید سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاص طور پر نوجوان قدامت پسندوں میں اسرائیل کیلئے حمایت میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ اپریل میں پیو ریسرچ سینٹر کے ایک سروے کے مطابق، ہر۱۰؍ میں سے۴؍ ریپبلکن اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ ۱۸؍ سے۴۹؍ سال کی عمر کے ریپبلکنز میں یہ شرح بڑھ کر۵۷؍ فیصد ہو جاتی ہے، جبکہ۵۰؍ سال یا اس سے زیادہ عمر کے ریپبلکنز میں تقریباً ہر چار میں سے ایک اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سری لنکا: ڈینگو کا پھیلاؤ وبائی سطح پر پہنچ گیا، ۵۰؍ ہزار سے زائد معاملات
اسی ماہ کوئنیپیاک یونیورسٹی کے ایک سروے میں ہر پانچ میں سے ایک ریپبلکن نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کی حد سے زیادہ حمایت کر رہا ہے۔ یہ شرح ۷؍ اکتوبر کے حملوں کے بعد ریکارڈ ہونے والے اعداد و شمار سے تین گنا زیادہ ہے۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ کے کریٹیکل ایشوز پول کے مطابق، صرف۴۶؍ فیصد ریپبلکنز کا خیال تھا کہ غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں اپنے دفاع کے طور پر جائز تھیں۔ ۱۸؍ سے۳۴؍ سال کی عمر کے ریپبلکنز میں صرف۲۲؍ فیصد نے اسرائیل کے اقدامات کی حمایت کی۔ اس ردِعمل کو ’’امریکہ فرسٹ‘‘ نظریے سے وابستہ غیر مداخلت پسند معروف شخصیات، جن میں ٹکر کارلسن، میگن کیلی اور سابق ریپبلکن رکنِ کانگریس مارجوری ٹیلر گرین شامل ہیں، نے مزید تقویت دی ہے۔ ان شخصیات نے اسرائیل کیلئے امریکی حمایت پر سخت تنقید کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وزیراعظم مودی کا سیشیلز دورہ، ہند سیشیلز تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا عزم
ٹکر کارلسن نے الزام لگایا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کیلئے استعمال کیا اور امریکی صدر کو اسرائیلی وزیرِاعظم کا’’غلام‘‘ قرار دیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ان اسرائیلی حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے ایران کے ساتھ معاہدے کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا:’’اگر میں اسرائیلی حکومت کی کابینہ میں ہوتا تو شاید میں اپنے واحد طاقتور اتحادی پر تنقید نہ کرتا، جو اس وقت پوری دنیا میں میرے پاس موجود ہے۔ ‘‘فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے بانی رالف ریڈ نے کہا کہ ریپبلکن اور انجیلی (Evangelical) قیادت اب بھی مضبوطی سے اسرائیل کی حامی ہے، تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ پورے امریکی عوام، بشمول ریپبلکنز، میں اسرائیل کے حق میں حمایت سے متعلق سروے کے نتائج ’’تشویش ناک حد تک کم‘‘ ہیں۔