Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی سپریم کورٹ کا ڈونالڈ ٹرمپ کے اختیارارت میں ۹۰؍ سالوں میں سب سےبڑا اضافہ

Updated: June 30, 2026, 5:03 PM IST | Washington

امریکی سپریم کورٹ نے ڈونالڈ ٹرمپ کے صدارتی اختیارارت میں ۹۰؍ سالوں میں سب سےبڑا اضافہ کردیا، جس کے تحت وہ کچھ آزاد ایجنسیوں کے اراکین کو اپنی مرضی سے برطرف کر سکتے ہیں۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) کے اراکین کو ملازمت کی حفاظت فراہم کرنے والی دفعات غیر آئینی ہیں، اور اس نے۹۰؍ سالہ قدیم نظیر کو بھی ختم کر دیا جس کے تحت کانگریس افسران کو تحفظ فراہم کر سکتی تھی۔

US President Donald Trump. Photo: X
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

امریکی سپریم کورٹ نے پیر۲۹؍ جون کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو یہ وسیع اختیار دے دیا کہ وہ کچھ آزاد ایجنسیوں کے اراکین کو مرضی سے برطرف کر سکتے ہیں۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) کے اراکین کو ملازمت کی حفاظت فراہم کرنے والی دفعات غیر آئینی ہیں، اور اس نے۹۰؍ سالہ پرانی نظیر کو بھی ختم کر دیا جس کے تحت کانگریس افسران کو تحفظ فراہم کر سکتی تھی۔اس فیصلے سے صدر کو ان بورڈز اور کمیشنز پر بہت زیادہ کنٹرول مل گیا ہے جووہائٹ ہاؤس کے ذریعے آزادانہ طور پر کام کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔ عملی طور پر، اس سے بیشتر وفاقی ایجنسیوں کے کام کرنے کے طریقے بدل سکتے ہیں۔ یہ مقدمہ ربیکا سلاٹر سے شروع ہوا، جو FTC کی کمشنر تھیں، جنہیں ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت میں پہلی بار مقرر کیا تھا اور بعد میں صدر جو بائیڈن نے دوبارہ تعینات کیا تھا۔ بعد ازاں مارچ۲۰۲۵ء میں، انہیں بتایا گیا کہ ان کی جاری خدمات ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیحات کے مطابق نہیں ہیں، اور انہیں بغیر کسی وجہ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ یہ اقدام۱۹۱۴ء میں FTC کے قانون کے خلاف تھا، جس کے مطابق کمشنروں کو صرف نااہلی، فرض سے غفلت یا   بدعنوانی کی صورت میں ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔سلاٹر نے عدالت میں برطرفی کو چیلنج کیا اور ضلعی عدالت کی سطح پر کامیابی حاصل کی۔ بعد میں واشنگٹن کی اپیل کورٹ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتی ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اس معاملے میں مداخلت کی اور ٹرمپ کو انہیں ہٹانے کی اجازت دی جبکہ وسیع تر قانونی جنگ جاری رہی۔یہ فیصلہ۶؍ کے مقابلے ۳؍ کی اکثریت سے آیا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ اور ایران جنگ کے بعد نوجوان امریکی ریپبلکنز اسرائیل سے بدظن ہورہے ہیں: رپورٹ

جبکہ چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی رائے لکھی، جس میں دیگر قدامت پسند جج شامل ہوئے۔ رابرٹس نے کہا کہ جو افسران صدر کی جانب سے انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہیں، وہ صدر کے تابع رہیں گے، اور اس کا مطلب ہے کہ انہیں صدر کے ذریعے ہٹایا بھی جا سکتا ہے۔رابرٹس نے لکھا، ’’صدر کے اختیارات استعمال کرنے والے ماتحت افسران ان کی برطرفی کے تابع ہیں۔ تب ہی، اور صرف تب، وہ صدر کے تابع جوابدہ رہ سکتے ہیں، اور صدر عوام کے تابع جوابدہ رہ سکتے ہیں۔‘‘ تاہم عدالت نے پایا کہ جدید FTC  بلاشبہ انتظامی اختیار استعمال کرتی ہے، اور اس لیے اسے کانگریس کے مطلوبہ طور پر صدارتی کنٹرول سے الگ نہیں رکھا جا سکتا۔دوسری طرف، تین لبرل ججوں نے اختلاف کیا، اور جسٹس سونیا سوتومائور نے عدالت سے اپنے اختلافی رائے کا خلاصہ بھی پڑھ کر سنایا، جو اس بات کی علامت ہے کہ عدالت کتنی گہری منقسم تھی۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ میں وزیر اعظم اتنی عجلت میں کیوں تبدیل ہورہے ہیں؟

مزید برآں یہ فیصلہ ممکنہ طور پر ٹریڈ کمیشن سے بہت آگے تک اثر انداز ہو گا۔ کانگریس نے دو درجن سے زیادہ کثیر رکنی ایجنسیاں بنائی ہیں جن کے سربراہان کو صرف، عام طور پر نااہلی، فرض سے غفلت یا بدعنوانی کی بنیاد پر ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔ اب فیڈرل انرجی ریگولیٹری کمیشن، نیوکلیئر ریگولیٹری کمیشن اور نیشنل لیبر ریلیشنز بورڈ جیسی ایجنسیاں عدالت کے اس فیصلے کے تحت نئے دباؤ کا سامنا کر سکتی ہیں۔علاوہ ازیں جسٹس ایلینا کیگن اور کیٹانجی براؤن جیکسن کے ساتھ شامل ہونے والی اپنی اختلافی رائے میں، سوتومائور نے لکھا، ’’سادہ الفاظ میں، آج اکثریت ہماری حکومت کی نئی شکل مرتب کر رہی ہے۔ درجنوں آزاد کمیشن اب ممکنہ طور پر خالصتاً انتظامی ایجنسیاں بن جائیں گے، جس سے امریکی زندگی کے وسیع شعبوں پر زبردست اختیار صدر کے ہاتھوں میں منتقل ہو جائے گا۔‘‘ 
دریں اثناء ٹرمپ نےصدارتی اختیارات میں اس سب سے بڑا اضافہ کو سراہا۔ انہوں نے اسے گزشتہ ۱۰۰؍ سالوں میں صدارتی اختیارات میں سب سے بڑا اضافہ قرار دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK