Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی بنگال: او بی سی ریزرویشن ۱۷؍ سے کم ہو کر ۷؍ فیصد، ترمیمی بل منظور

Updated: June 30, 2026, 6:03 PM IST | Kolkata

مغربی بنگال اسمبلی نے او بی سی ریزرویشن قوانین میں اہم ترامیم منظور کرتے ہوئے ۷۷؍ مسلم برادریوں کو فہرست سے خارج کر دیا اور ریزرویشن کا کوٹہ ۱۷؍فیصد سے کم کر کے۷؍ فیصد کر دیا۔ حکومت نے اس اقدام کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد قرار دیا، جبکہ اپوزیشن اور اقلیتی نمائندوں نے اسے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی اور حقوق کی پامالی سے تعبیر کیا۔

A view of the West Bengal Assembly. Photo: INN
مغربی بنگال اسمبلی کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

مغربی بنگال کی اسمبلی نے پیر کو ریاست کے او بی سی (دیگر پسماندہ طبقات) ریزرویشن قوانین میں ترمیم سے متعلق دو بل منظور کر لئے۔ ان ترامیم کے تحت کلکتہ ہائی کورٹ کے مئی۲۰۲۴ء کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے۷۷؍ مسلم برادریوں کو او بی سی فہرست سے خارج کر دیا گیا، جبکہ او بی سی ریزرویشن کا کوٹہ۱۷؍ فیصد سے کم کر کے ۷؍فیصد کر دیا گیا۔ اسمبلی نے مغربی بنگال کمیشن برائے پسماندہ طبقات سے متعلق قانون میں بھی ترمیم منظور کی۔ یہ بل پسماندہ طبقات کی ترقی کے وزیر گوری شنکر گھوش نے پیش کئے۔ ۲۹۴؍ رکنی اسمبلی میں ۱۸۶؍ اراکین نے ان کے حق میں اور ۱۷؍نے مخالفت میں ووٹ دیا، جبکہ۶؍ ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس دوران ترنمول کانگریس کے باغی ارکان کے ایک گروپ، جس کی قیادت رتبرتا بنرجی کر رہے تھے، نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: وزیر تعلیم کی رہائش گاہ کے باہر کانگریس کا احتجاج

اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے گوری شنکر گھوش نے کہا کہ یہ ترامیم ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق، وہ تمام برادریاں جو سابق حکومت نے بغیر کسی سروے کے صرف مسلمانوں کو غیر ضروری فائدہ پہنچانے کیلئے او بی سی فہرست میں شامل کی تھیں، انہیں خارج کر دیا گیا ہے، جبکہ سروے کے بعد شامل کی گئی۶۶؍ برادریاں برقرار رکھی گئی ہیں۔ اس سے قبل او بی سی فہرست میں ۱۱۳؍ ذیلی گروہ شامل تھے، جن میں ۷۷؍ مسلم اور۳۶؍ غیر مسلم برادریاں تھیں۔ مئی۲۰۲۴ء میں کلکتہ ہائی کورٹ نے اس فہرست کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے نتیجے میں او بی سی ریزرویشن۱۷؍ فیصد سے کم ہو کر ۷؍ فیصد رہ گیا۔ اس وقت کی ترنمول کانگریس حکومت نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ترمیم شدہ قانون کے تحت نئی او بی سی فہرست میں کئی مسلم برادریاں بدستور شامل رہیں گی، جن میں جولاہ، فقیر، پہاڑیہ مسلم، حجام اور چودولی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: متعدد ریاستوں میں بارش سے دشوار کن حالات ، کئی اموات

گوری شنکر گھوش نے مزید کہا کہ مغربی بنگال کمیشن برائے پسماندہ طبقات ان برادریوں کا سروے کرے گا جو او بی سی درجہ حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہیں تاکہ ان کی اہلیت کا تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابق حکومت نے کمیشن کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلے کئےتھے، جبکہ نئی ترامیم جعلی او بی سی سرٹیفکیٹس کے اجرا کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی، جو ان کے بقول سابق حکومت کے دور میں عام تھے۔ ریاستی وزیر گوری شنکر گھوش نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے ۱۹۹۳ءکی اصل او بی سی فہرست بحال کر دی ہے، اور الزام عائد کیا کہ سابق ترنمول کانگریس حکومت نے اسے بغیر کسی مناسب تحقیق کے ختم کر دیا تھا۔ 
ریاستی وزیر نسیت پرمانک نے بھی ان بلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت کی ’خوشامدی سیاست ‘کے باعث کئی مسلم برادریوں کو او بی سی درجہ دے کر ہندوؤں کے حقوق متاثر کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نئے او بی سی قانون کے ذریعے صرف وہی افراد ریزرویشن کے حقدار ہوں گے جو واقعی اس کے مستحق ہیں۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ریاست میں غنڈہ گردی، بھتہ خوری اور مظالم سے نمٹنے کیلئے اینٹی غنڈہ قانون ضروری ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور اقلیتی نمائندوں نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے غیر متناسب طور پر مسلم برادریاں متاثر ہوئی ہیں، کیونکہ او بی سی فہرست سے خارج کی جانے والی۷۷؍ برادریوں میں اکثریت مسلم ذیلی گروہوں کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اروناچل : ہندوستانی علاقے پر چینی قبضہ کی توثیق!

محمد سالم جو سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سیکریٹری ہیں، نے الزام لگایا کہ حکومت نے غریب اور پسماندہ مسلمانوں کو ریزرویشن کے فوائد سے محروم کر دیا جبکہ دیگر بے ضابطگیوں کو نظر انداز کیا گیا۔ اسی طرح آئی ایس ایف کے رکن اسمبلی نوشاد صدیقی نے بھی قانون سازی کو جلد بازی میں منظور کئے جانے پر اعتراض کیا۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ کلکتہ ہائی کورٹ نے بعض برادریوں کو طریقۂ کار کی خامیوں کی بنیاد پر او بی سی فہرست سے خارج کیا تھا، لیکن حکومت نئی سماجی و معاشی جانچ (سروے) کروا کر موجودہ مستحق افراد کے حقوق کا تحفظ کر سکتی تھی، بجائے اس کے کہ ایک ساتھ بڑی تعداد میں برادریوں کو فہرست سے نکال دیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان تبدیلیوں سے ان ہزاروں افراد میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جو پہلے ہی او بی سی سرٹیفکیٹ حاصل کر چکے ہیں یا تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کے فوائد سے مستفید ہو رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK