Updated: June 30, 2026, 6:04 PM IST
| Los Angeles
سپر ماڈل بیلا حدید نے لائم بیماری سے اپنی طویل جدوجہد پر جذباتی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد مداحوں میں پیدا ہونے والی تشویش پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گزشتہ ۱۵؍ برس سے روزانہ اسی کیفیت کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی پوسٹ ان کی حقیقی زندگی کی عکاسی تھی اور وہ مداحوں کی محبت اور حمایت پر بے حد شکر گزار ہیں۔
بیلا حدید۔ تصویر: آئی این این
امریکی سپر ماڈل بیلا حدید نے لائم بیماری سے اپنی جاری جدوجہد سے متعلق ایک جذباتی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد مداحوں میں پیدا ہونے والی تشویش پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گزشتہ ۱۵؍ برس سے اسی طرح کی جسمانی اور ذہنی آزمائشوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ ۲۹؍ سالہ ماڈل نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز میں وضاحت کی کہ ان کی حالیہ پوسٹ نے اگر کسی کو پریشان کیا تو وہ اس پر معذرت خواہ ہیں، تاہم یہی ان کی روزمرہ زندگی کی حقیقت ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ یہ سب سن کر چونکانے والا محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہی ہے۔ میں گزشتہ ۱۵؍ برس سے ہر روز اسی کیفیت سے گزر رہی ہوں۔ مجھے صرف اس بات کا شدید دکھ تھا کہ میرا ذہن بہت کچھ کرنا چاہتا ہے لیکن میرا جسم اس کا ساتھ نہیں دے پاتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فلمسازوں نے ’’مرزاپور‘‘ کرنے سے روکا تھا: علی فضل کا انکشاف
بیلا حدید نے مداحوں کی جانب سے ملنے والی محبت اور حمایت پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہر دن ایک نیا دن ہوتا ہے، اور مجھے امید ہے کہ کل، ان شاء اللہ، آج سے بہتر ہوگا۔ میں آپ سب سے بہت محبت کرتی ہوں اور آپ کی حمایت پر دل سے شکر گزار ہوں۔‘‘ اس سے قبل شیئر کی گئی جذباتی پوسٹ میں بیلا نے اپنی بیماری کے حالیہ حملے (Flare-up) کی شدت بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ باورچی خانے تک چلنے میں بھی سانس پھولنے کا شکار ہو جاتی ہیں، جبکہ بے ہوش ہوئے بغیر نہا لینا بھی ان کے لیے ایک بڑی کامیابی محسوس ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اکشے کمار کا اشارہ: ’’ویلکم ۴‘‘ میں نانا پاٹیکر اور انیل کپور کی واپسی ممکن
انہوں نے بتایا کہ ’’میں اس بار بیماری کے حملے سے باہر نہیں نکل پا رہی۔ ۱۱؍ گھنٹے سوئی، پھر بھی روزانہ نیند کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہر ڈاکٹر کے مشورے اور ہر علاج کو آزمایا، مگر اب تک کچھ فائدہ نہیں ہوا۔‘‘ بیلا نے مزاحیہ انداز میں یہ بھی لکھا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے دماغ کا کوئی حصہ صحیح طرح کام نہیں کر رہا، اور اگر انہوں نے کبھی کسی برے دن کسی کو مشورہ دیا ہو تو وہ اس پر بھی معذرت کرتی ہیں۔ ایک اور پیغام میں انہوں نے اعتراف کیا کہ اپنی بیماری کے بارے میں بات کرنا اب بھی ’’خوفناک اور مشکل‘‘ محسوس ہوتا ہے کیونکہ جو علاج پہلے مؤثر ثابت ہوتے تھے، اب وہ بھی کام نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ دائمی بیماری کے ساتھ درد، شدید تھکن، اضطراب، دماغی دھند (Brain Fog)، عدم تحفظ، سماجی تنہائی اور ڈپریشن جیسی کیفیتیں بھی جڑی ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: حیران کن! پریہ درشن نے ’’ہیرا پھیری۳‘‘چھوڑ دی، کہا’’ یہ کبھی بھی ریلیز نہیں ہوگی کیونکہ...‘‘
واضح رہے کہ بیلا حدید کو ۲۰۱۳ء میں جب وہ صرف ۱۶؍ سال کی تھیں، لائم بیماری کی تشخیص ہوئی تھی۔ وہ اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ عوامی طور پر اس بیماری کے باعث ہونے والے شدید جوڑوں کے درد، بے چینی، انتہائی تھکن اور دماغی دھند جیسے مسائل کا ذکر کر چکی ہیں۔ ستمبر ۲۰۲۵ء میں انہوں نے اسپتال میں علاج کے دوران اپنی تصاویر شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو بتایا تھا کہ وہ اکثر اسی وجہ سے عوامی زندگی سے کچھ عرصے کے لیے غائب ہو جاتی ہیں۔ اس موقع پر ان کی بہن جیجی حدید نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا، جبکہ والدہ یولانڈا حدید نے انہیں ’’لائم وارئیر‘‘ قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اداکارہ کریتی سینن نے انجینئرنگ چھوڑ کر اداکاری میں قدم رکھا ہے
بیلا نے اس سے قبل یہ بھی کہا تھا کہ بیماری کے باوجود وہ زندگی کے مثبت پہلوؤں پر توجہ دینے کی کوشش کرتی ہیں اور ان کا مقصد اپنی جدوجہد کو دوسروں کے لیے امید کا ذریعہ بنانا ہے۔ ادھر ان کی حالیہ پوسٹس کے بعد دنیا بھر سے مداحوں، فیشن انڈسٹری سے وابستہ شخصیات اور ساتھی فنکاروں نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور جلد صحت یابی کی دعا کی۔
لائم بیماری کیا ہے؟
لائم بیماری ایک بیکٹیریا Borrelia burgdorferi کی وجہ سے ہونے والی بیماری ہے، جو متاثرہ ٹِک (Tick) کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے مطابق یہ امریکہ میں ٹِک کے ذریعے منتقل ہونے والی سب سے عام بیماری ہے۔ اس کی علامات میں شدید تھکن، جوڑوں کا درد، اعصابی مسائل، دماغی دھند اور دیگر پیچیدگیاں شامل ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض مریضوں میں یہ علامات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں۔