ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے پس منظر میں سیٹیلائٹ تصاویر فراہم کرنے والی کمپنی پلینٹ لیبز نے مشرق وسطیٰ کے تنازعہ زدہ علاقوں کی تصاویر کی اشاعت غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 05, 2026, 9:02 PM IST | New York
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے پس منظر میں سیٹیلائٹ تصاویر فراہم کرنے والی کمپنی پلینٹ لیبز نے مشرق وسطیٰ کے تنازعہ زدہ علاقوں کی تصاویر کی اشاعت غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے پس منظر میں سیٹیلائٹ تصاویر فراہم کرنے والی کمپنی پلینٹ لیبز نے مشرق وسطیٰ کے تنازعہ زدہ علاقوں کی تصاویر کی اشاعت غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔کیلیفورنیا میں قائم کمپنی نے اپنے صارفین کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا کہ امریکی حکومت نے تمام سیٹیلائٹ فوٹیج فراہم کرنے والوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تنازعہ والے علاقوں کی تصاویر کی اشاعت روک دیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ پابندی غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتی ہے۔
کمپنی نے واضح کیا کہ وہ ۹؍ مارچ سے متعلق تصاویر کی اشاعت روک دے گی اور توقع ظاہر کی کہ یہ پالیسی تنازع کے خاتمے تک برقرار رہے گی۔ پلینٹ لیبز نے بتایا کہ اب وہ ’قابلِ نگرانی تقسیمِ تصاویر‘ کا نظام اپنائے گی، جس کے تحت صرف وہی تصاویر جاری کی جائیں گی جو سلامتی کے لیے خطرہ نہ ہوں۔ اس نظام کے تحت ہر تصویر کو علیحدہ طور پر جانچنے کے بعد جاری کیا جائے گا تاکہ فوری ضروریات اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے:میسی نے انٹر میامی کے نئے نو اسٹیڈیم میں پہلا گول داغ کر بیکہم کا خواب پورا کر دیا
دوسری جانب وینچر نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے اس سے براہِ راست کوئی رابطہ نہیں کیا۔ کمپنی کے مطابق وہ پہلے ہی جغرافیائی سیاسی تنازعات کے دوران تصاویر تک رسائی پر سخت کنٹرول نافذ کرنے کا اختیار رکھتی ہے اور مشرق وسطیٰ کے بعض علاقوں میں ایسے اقدامات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:امریکہ کے ساتھ جنگ کے دوران ایران نے انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن میں ریکارڈ قائم کر دیا
ان کنٹرولز میں یہ طے کرنا شامل ہے کہ کون نئی تصاویر حاصل کر سکتا ہے یا موجودہ ڈیٹا خرید سکتا ہے، خاص طور پر وہ علاقے جہاں امریکی افواج یا ان کے اتحادی سرگرم ہیں۔ ایک اور کمپنی بلیک اسکائی ٹیکنالوجی نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ اس سے قبل پلینٹ لیبز نے مشرق وسطیٰ کی تصاویر کی اشاعت ۱۴؍ دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ حساس معلومات کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔