• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جیفری آرچر: ایسا داستان گو جس کی اپنی زندگی بھی کسی کہانی سے کم نہیں تھی

Updated: October 11, 2026, 5:34 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

۵؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ۸۶ سال کی عمر میں جیفری آرچر کا اچانک انتقال ہوگیا۔ اس وقت وہ اپنے گھر پر تھے۔ اتفاق دیکھئے کہ اگلے ہی دن، ۶؍ اکتوبر کو، ان کا آخری ناول ’’ایڈم اینڈ اِیو‘‘ دنیا بھر میں قارئین تک پہنچنا تھا۔ آرچر نے پہلے ہی اعلان کر رکھا تھا کہ یہ ان کا آخری ناول ہوگا۔ یوں ان کی زندگی کا آخری ادبی باب ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے صرف ایک دن بعد قارئین کے ہاتھ میں آیا۔ کسی ناول نگار کا اس سے زیادہ ’’آرچری‘‘ انداز کا اختتام ہو ہی نہیں سکتا تھا۔

Jeffrey Archer. Photo: INN
جیفری آرچر۔ تصویر: آئی این این

کبھی کبھی زندگی کسی ناول نگار سے زیادہ حیران کن کہانی لکھ دیتی ہے۔ جیفری آرچر کی زندگی بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ سیاست، دولت، شہرت، ناکامی، قرض، مقدمہ، جیل، واپسی اور پھر عالمی شہرت، ان کی زندگی میں وہ سب کچھ تھا جسے کوئی مصنف اپنی کہانی میں شامل کرے تو شاید قاری کہہ دے کہ یہ سب کچھ ایک ہی انسان کے ساتھ کیسے ہو سکتا ہے مگر آرچر کے ساتھ ہوا۔ اور شاید اسی لئے وہ صرف کہانیاں لکھنے والے مصنف نہیں تھے، خود بھی ایک کہانی بن گئے تھے۔ 
۵؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ۸۶ سال کی عمر میں جیفری آرچر کا اچانک انتقال ہوگیا۔ اس وقت وہ اپنے گھر پر تھے۔ اتفاق دیکھئے کہ اگلے ہی دن، ۶؍ اکتوبر کو، ان کا آخری ناول ’’ایڈم اینڈ اِیو‘‘ (آدم و حوا) دنیا بھر میں قارئین تک پہنچنا تھا۔ آرچر نے پہلے ہی اعلان کر رکھا تھا کہ یہ ان کا آخری ناول ہوگا۔ یوں ان کی زندگی کا آخری ادبی باب ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے صرف ایک دن بعد قارئین کے ہاتھوں میں آیا۔ 
کسی ناول نگار کا اس سے زیادہ ’’آرچری‘‘ انداز کا اختتام ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ جس شخص نے اپنی کتابوں میں آخری لمحے پر راز کھولنے، اچانک موڑ دینے اور قاری کو چونکا دینے کیلئے شہرت حاصل کی، اس کی اپنی زندگی نے بھی جاتے جاتے ایک ایسا موڑ دے دیا جسے کوئی افسانہ نگار لکھتا تو شاید اسے ضرورت سے زیادہ ڈرامائی قرار دیا جاتا۔ آئیے آرچر کے بارے میں مزید جانیں : 
سیاست سے ادب تک
جیفری ہاورڈ آرچر ۱۵؍ اپریل ۱۹۴۰ء کو لندن میں پیدا ہوئے اور سومرسیٹ میں پلے بڑھے۔ بریزنوز کالج، آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ان کی شناخت صرف ایک طالب علم جتنی نہیں تھی۔ وہ بہترین ایتھلیٹ تھے، یونیورسٹی ایتھلیٹکس کلب کے صدر رہے اور ۱۹۶۶ء میں برطانیہ کی جانب سے ۱۰۰؍ یارڈ کی دوڑ میں حصہ لیا۔ ۲۹؍ برس کی عمر میں وہ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ بظاہر مستقبل روشن تھا۔ مگر ایک کاروباری سرمایہ کاری کے تباہ کن انجام نے ان کی مالی دنیا بدل دی۔ ایک کمپنی میں سرمایہ کاری کے بعدکنگال ہوکرر قرضوں میں ڈوب گئے اور بالآخر پارلیمنٹ چھوڑ دی۔ ان پر ۴؍  لاکھ ۲۷؍ ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کا قرض تھا۔ یہی بحران اُن کیلئے نعمت ثابت ہوا جس کے سبب وہ اس راستے پر چل نکلے جس نے انہیں دنیا کے مقبول ترین کہانی کاروں میں شامل کردیا۔

یہ بھی پڑھئے: زندگی کے اس پار

۳۴؍ سال کی عمر میں انہوں نے اپنا پہلا ناول لکھنے کا فیصلہ کیا۔ مقصد صرف ادبی شہرت حاصل کرنا نہیں تھا؛ وہ اپنے قرض خواہوں کے پیسے واپس کرنا چاہتے تھے۔ یہی ناول بعد میں Not a Penny More, Not a Penny Less کے نام سے شائع ہوا۔ ۱۹۷۶ء میں شائع ہونے والی اس کتاب نے ایک ایسی ادبی زندگی کی بنیاد رکھی جو پانچ دہائیوں تک جاری رہی۔ ۵۰؍ سال بعد یعنی ۲۰۲۶ء میں اسی ناول کا ۵۰؍ واں سالگرہ ایڈیشن شائع ہوا۔ یوں جس کتاب سے ان کا سفر شروع ہوا تھا، اسی کے پچاس برس مکمل ہونے کا انہوں نے جشن بھی منایا۔ 
ناول ’’کین اینڈ ایبل‘‘اور ہندوستان
اگر دنیا نے جیفری آرچر کو ایک عالمی بیسٹ سیلر کے طور پر پہچانا مگر ہندوستان میں ان کی مقبولیت کی کہانی خاص طور پر ’’Kane and Abel‘‘ (ہابیل اور قابیل) سے جڑی ہوئی ہے۔ ۱۹۷۹ء میں شائع ہونے والا یہ ناول دو ایسے کرداروں کی داستان ہے جو ایک ہی دن پیدا ہوتے ہیں، مگر زندگی انہیں بالکل مختلف سمتوں میں لے جاتی ہے۔ ہندوستان میں یہ کتاب محض بیسٹ سیلر نہیں بنی؛ کئی قارئین کیلئے بالغوں کیلئے لکھے گئے فکشن سے پہلی بڑی ملاقات تھی۔ آرچر کی سادہ مگر تیز رفتار نثر، بڑے کردار، واضح کشمکش اور ہر چند صفحات بعد پیدا ہونے والا سوال قاری کو آگے بڑھاتا رہتا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی کتابیں ہندوستانی گھروں کی کتابوں کی الماریوں میں اتنی مستقل جگہ بنا سکیں۔ 
آرچر کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق Kane and Abel Trilogy کی ساڑھے ۷؍ کروڑ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔ ہندوستان سے آرچر کا تعلق صرف قارئین تک محدود نہیں رہا۔ بالی ووڈ میں ان کی کہانیوں سے مماثلت رکھنے والی فلموں پر خود آرچر نے بھی اعتراض کیا۔ راکیش روشن کی ’’خودغرض‘‘ کو انہوں نے Kane and Abel سے متاثر قرار دیا، جبکہ ’’لیڈیز ورسیز رغکی بہل‘‘ کو ان کے پہلے ناول Not a Penny More, Not a Penny Less سے ملتی جلتی یا مماثل بتایا گیا۔ 
یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ آرچر کی کتابیں فلمی دنیا کیلئے موزوں کیوں دکھائی دیتی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان کے پلاٹ میں کردار واضح ہوتے ہیں، مقصد صاف ہوتا ہے، کشمکش مسلسل آگے بڑھتی ہے اور تقریباً ہر بڑے مرحلے پر کوئی نیا راز یا موڑ سامنے آتا ہے یعنی کتاب پڑھتے ہوئے سارا منظر تصور کے پردے پر ابھر آتاہے۔ 
دیگر اہم کتابیں 
آرچر نے اپنے ادبی سفر کو ایک ہی کامیابی پر نہیں چھوڑا۔ The Prodigal Daughter اور Shall We Tell the President?? نے Kane and Abel کی دنیا کو آگے بڑھایا۔ بعد میں The Clifton Chronicles نے ایک خاندان کی کئی نسلوں کے ذریعے بیسویں صدی کی برطانوی تاریخ، سیاست، محبت، کاروبار اور المیے کو بیان کیا۔ پھر William Warwick سلسلہ آیا، جس میں ایک پولیس افسر کے کریئر کو کئی دہائیوں تک آگے بڑھایا گیا۔ ۲۰۲۵ء میں End Game کے ساتھ اس سلسلے کا آٹھواں اور آخری ناول منظر عام پر آیا۔ آرچر کی کتابوں کی فہرست میں ناولوں کے ساتھ مختصر کہانیوں کے مجموعے، بچوں کی کتابیں، ڈرامے اور جیل کی یادداشتیں بھی شامل ہیں۔ 
ان کی ایک نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ قاری کو کبھی بہت دیر تک ایک ہی جگہ کھڑا نہیں رکھتے تھے۔ ان کے کردار یا تو کچھ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے، یا کچھ بچانے کی، یا کسی سے بدلہ لینے کی، یا کسی راز کو چھپانے کی۔ آرچر جانتے تھے کہ قاری اگلا صفحہ کیوں پلٹے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ادبی نقاد ان کے اسلوب پر بحث کرتے رہے، لیکن قارئین ان سے بے وفائی نہیں کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: اُردو ہمیں مفت مل گئی ہے تو کیا اس کی قدر نہیں ہوگی؟

سیاست، اسکینڈل اور جیل
آرچر کی زندگی کا دوسرا رخ ان کی ادبی کامیابی سے بالکل مختلف تھا۔ سیاست میں ان کا سفر کئی تنازعات سے گزرا۔ ۱۹۸۷ء کے ایک ہتک عزت کے مقدمے میں انہوں نے کامیابی حاصل کی، لیکن برسوں بعد وہی معاملہ ان کے خلاف واپس آیا۔ ۲۰۰۱ء میں انہیں جھوٹی گواہی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں چار برس قید کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے تقریباً دو برس جیل میں گزارے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جیل بھی ان کا قلم نہیں رُکا۔ اسی دور سے A Prison Diary کی تین جلدیں سامنے آئیں : Hell، Purgatory اور Heaven۔ ایک ایسے شخص کیلئے جس نے زندگی بھر کہانیوں میں کرداروں کو مشکل حالات سے نکالا تھا، جیل کی اصل دنیا خود ایک ایسا تجربہ تھی جسے انہوں نے قلم بند کیا۔ 
ان کی شخصیت پر بحث ہمیشہ جاری رہے گی۔ ایک طرف وہ بے حد کامیاب اور بیسٹ سیلر مصنف تھے، دوسری طرف ان کی سیاسی اور ذاتی زندگی کے تنازعات بھی ان کی شناخت کا حصہ رہے۔ مگر شاید یہی تضاد انہیں عام ادیبوں سے مختلف بناتا ہے۔ آرچر کو سمجھنے کیلئے ان کی کتابیں پڑھنا کافی نہیں ؛ ان کی زندگی کے ابواب کا مطالعہ بھی ضروری قرار پاتا ہے۔ 
جیفری آرچر نے دنیا بھر میں ۱۱۹؍ ممالک اور درجنوں زبانوں کے قارئین تک رسائی حاصل کی اور ان کی کتابوں کی ۳۰؍ کروڑ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ ان کی کتابوں نے ہندوستان میں ایک پوری نسل کو انگریزی فکشن کی طرف متوجہ کیا، کئی قارئین کو باقاعدہ کتاب پڑھنے پر مجبور کیا اور گویا عادت بنادی اور ایسے کردار دیئے جنہیں لوگ برسوں بعد بھی یاد رکھتے ہیں۔ اور پھر ۶؍ اکتوبر کو، جب ’’ایڈم اینڈ اِیو‘‘ کتابوں کی دکانوں پر پہنچی، تو اس کا مصنف دنیا کو الوداع کہہ چکا تھا۔ 
یہ منظر شاید جیفری آرچر کے کسی ناول کا آخری صفحہ معلوم ہوتا ہے: کہانی ختم ہوچکی ہے، مصنف خاموش ہوچکا ہے، مگر کتاب ابھی ابھی قاری کے ہاتھ میں آئی ہے۔ ۵۰؍ برس تک جس ادیب نے اپنے قارئین کو آخری صفحے تک پہنچنے پر مجبور کیا، اس کی آخری کتاب بھی اسی انداز میں قاری کو یہ احساس دلاتی ہے کہ کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں ؛ بس اتنا ہوتا ہے کہ ان کا مصنف خاموش ہوجاتا ہے۔ آرچر بھی خاموش ہوچکے ہیں مگر اُن کا سفر تمام نہیں ہوا۔ قارئین آتے رہیں گے، انہیں پڑھتے رہیں گے اور اُن کا سفر جاری رہے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK