• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

بی جے پی کا ہدف،ووٹ ملے، نہ ملےاقتدار ملنا چاہئے

Updated: February 11, 2024, 4:49 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai

بی جے پی ان دنوں جس رُخ پر چل رہی ہے، اسے دیکھ کر یہی لگ رہا ہے کہ اسے ووٹرس اور ان کے جذبات کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اسے اس بات کی بھی کوئی پروا نہیں ہے کہ عوام اس کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں؟ اسے اس سے بھی کچھ فرق پڑتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے کہ عالمی سطح پر ہندوستان کے تعلق سے کیا رائے بن رہی ہے اور ملک کی شبیہ کتنی متاثر ہورہی ہے۔

Hemant Soren thought it better to go to jail than to ally with BJP. Photo: INN
ہیمنت سورین نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے سے جیل جانا بہتر سمجھا۔ تصویر : آئی این این

بی جے پی ان دنوں جس رُخ پر چل رہی ہے، اسے دیکھ کر یہی لگ رہا ہے کہ اسے ووٹرس اور ان کے جذبات کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اسے اس بات کی بھی کوئی پروا نہیں ہے کہ عوام اس کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں؟ اسے اس سے بھی کچھ فرق پڑتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے کہ عالمی سطح پر ہندوستان کے تعلق سے کیا رائے بن رہی ہے اور ملک کی شبیہ کتنی متاثر ہورہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہدف کو پانے کیلئے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ قانون و اختیار کی من مانی تشریح کرتے ہوئے وہ اسے اپنے فائدے کیلئے استعمال کررہی ہے۔ اصول و ضوابط اوراخلاقیات و روایات کو بالائے طاق رکھ کر وہ کچھ اس طرح کے فیصلے کررہی ہے کہ مرکز کے ساتھ ہی ملک کی تمام ریاستوں اور کارپوریشنوں پر اس کا ہی قبضہ رہے۔ ملک کے روبرو اس نے اپنی پالیسی کو واضح کردیا ہے اور اپنے ہدف کااعلان کردیا ہے کہ اسے ووٹ ملے، نہ ملے، اقتدار اس کے پاس ہی رہنا چاہئے۔ صورت حال یہ ہے کہ آئینی اداروں کے فیصلوں پر بھی اس کے دبدبے کے اثرات محسوس کئے جا رہے ہیں۔ حالیہ کچھ برسوں میں مہاراشٹر، بہار، جھارکھنڈ اور چنڈی گڑھ میں اس کی واضح مثالیں نظرآئی ہیں اور کئی ریاستوں میں اس کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ 
بی جے پی لاکھ دعوے کرے کہ مندر کی وجہ سے اس کا بیڑا پار ہوجائے گا اور ’ایودھیا ایونٹ‘ نے اس کیلئے اقتدار میں واپسی کی راہ ہموار کردی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ اسے اپنے اس دعوے پرخود بھی یقین نہیں ہے۔ اس کی حرکتیں اس کے خوف کی چغلی کھارہی ہیں۔ اسی طرح اس کا یہ دعویٰ بھی جھوٹا ثابت ہورہا ہے کہ اسے اپوزیشن اتحاد سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اپوزیشن اتحاد کا خوف اس کے سر پر بری طرح سوار ہے، جس کا ثبوت اس کے لیڈروں کے اول فول بیانات ہیں۔ ’انڈیا‘ اتحاد کو کوئی ’گھمنڈیا‘ اتحاد تو کوئی ’انڈی الائنس‘ تو کوئی ایک ایک حرف کو الگ الگ کرکے ’آئی این ڈی آئی اے‘ کہہ رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر ’انڈیا‘ اتحاد نہیں بنتا تو ’این ڈی اے‘ کو بھی جھاڑ پھونک کر باہر نہیں نکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی، نتیش کمار اور جینت چودھری پر شکنجہ نہیں کسا جاتا اور سرکاری اعزازات کی اس طرح سے بندر بانٹ بھی نہیں ہوتی۔ یہ بی جے پی کا خوف ہی ہے جو اسے ایسا کرنے پرمجبور کررہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سیٹوں کی تقسیم پرگفتگو، یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

بی جے پی یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ عوام کی اکثریت اس کے ساتھ نہیں ہے۔ اسلئے اب وہ عوام کی حمایت کے بغیر الیکشن جیتنا چاہتی ہے۔ اس کیلئے اس کی پہلی کوشش اپوزیشن اتحا د کو توڑنا، دوسری کوشش لالچ کے ذریعہ ریاستی جماعتوں کو اپنے پالے میں لانا اور جو نہ آئے اس کے لیڈروں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچانا ہے۔ اگر اس کے بعدبھی اقتدار کی راہ ہموار نہ ہو سکے تو اس کی زنبیل میں ’چنڈی گڑھ ماڈل‘ کی صورت میں ایک اور ’کامیاب نسخہ‘ موجود ہے۔ 
  بی جے پی کو اگر مندرکے سہارے اپنی کامیابی کا یقین ہوتا تو وہ نتیش کیلئے ہرگزاُس دروازے کو نہیں کھولتی جو وہ بند کر چکی تھی۔ اس تیر کے ذریعہ اس نے دو شکار کی کوشش کی ہے۔ اول یہ کہ اپوزیشن اتحاد کمزور ہو جائے، دوم یہ کہ اس کے ووٹ فیصد میں کچھ اضافہ ہو جائے۔ اس میں وہ کتنا کامیاب ہوگی، یہ تو وقت بتائے گا لیکن اتنا تو طے ہے کہ نتیش اپنا بڑا نقصان کر بیٹھے ہیں۔ اس نقصان کا اندازہ نتیش کمار اور ان کی پارٹی کو بھی ہے، اس کے باوجود اگر یہ فیصلہ کیا گیا ہے تو یقیناً ان کی کوئی ایسی نس دبی ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ چوں چراں کئے بغیر این ڈی اے کا حصہ بن گئے ہیں۔ کچھ اسی طرح کا معاملہ جینت کے ساتھ بھی پیش آیا ہے۔ بی جے پی نے ان دونوں کو اپنے ساتھ آنے کیلئے ’بھارت رتن‘ کا سہارا لیا ہے تاکہ عوام کے سامنے یہ ظاہر نہ ہوسکے کہ ان کی کوئی ’نس‘ دبی ہوئی ہے لیکن ’’یہ جو پبلک ہے، یہ سب جانتی ہے۔ ‘‘ بی جے پی جھارکھنڈ میں بھی وہی حربہ استعمال کرنا چاہتی تھی لیکن ہیمنت سورین نے اس کے ساتھ اتحاد کرنے سے جیل جانا بہتر سمجھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد جے ایم ایم کے دوسرے لیڈروں کو بھی توڑنے کی کوشش کی گئی لیکن اس معاملے میں وہ کامیاب نہیں ہوسکی۔ اس کی وجہ سے جھارکھنڈ میں وہ بوکھلائی بوکھلائی سی گھوم رہی ہے۔ آئندہ کچھ دنوں میں وہاں پر’ای ڈی‘ کی سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں اور بی جے پی کی پیشکش ٹھکرانے والے کچھ دیگر لیڈروں کو بھی جیل کی ہوا کھانی پڑسکتی ہے۔ 
جے ڈی یو اور آر ایل ڈی معاملے میں کامیابی اور جے ایم ایم معاملے میں ناکامی کے بعد اب بی جے پی نے اپنی توجہ عام آدمی پارٹی اور ترنمول کانگریس پر مرکوز کردی ہے۔ کیجریوال اور ابھیشیک بنرجی کی گرفتاری اسی صورت میں ٹل سکتی ہے کہ وہ این ڈی اے کا حصہ بنے بغیر ’انڈیا‘ اتحاد کو نقصان پہنچائیں۔ کچھ اسی طرح کی تلوار سماجوادی پارٹی پر بھی لٹک رہی ہے۔ قابل غور ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک کے تمام اپوزیشن لیڈر ’ای ڈی‘کی زد پر ہوں، اُترپردیش میں سماجوادی پارٹی کے تمام بڑے لیڈر اس طرح سے چین کی نیندکیوں کر سوسکتے ہیں ؟ یقیناً دال میں کچھ کالا ہے جس کا پردہ لوک انتخابات کے قریب آتے آتے فاش ہوگا۔ ان کے علاوہ مرکزی حکومت کی ایجنسیوں کی زد پرسکھ بیر سنگھ بادل، چندرابابو نائیڈو اور جگن موہن ریڈی بھی ہیں۔ لوک سبھاانتخابات سے قبل بی جے پی ان سے بھی کچھ کام لینا چاہتی ہے۔ مطلب صاف ہے کہ بی جے پی کو اقتدار چاہئے، اس کیلئے وہ کچھ بھی کرسکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بی جے پی کے ان حربوں کو عوام کس حد تک سمجھ پاتے ہیں اور ان حربوں کو ناکام بنانے کیلئے کیا کرتے ہیں؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK