Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس ہفتے اخبارات کا موضوع: گھاٹ کوپر سانحہ، ڈرائیورز کا مراٹھی جاننا اور جین زی

Updated: August 24, 2026, 2:56 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

رواں ہفتے غیر اردو اخبارات میں ممبئی اور مہاراشٹر سے جڑے کئی اہم مسائل نمایاں رہے۔ گھاٹ کوپر میں چٹان کھسکنے کے المناک سانحے نے شہری انتظامیہ کی تیاری اور انسانی غفلت پر سوالات اٹھائے، جبکہ پارلیمنٹ میں جاری ہنگامہ آرائی اور تعطل بھی اخبارات کے تبصروں کا اہم موضوع بنا۔ اسی دوران راہل گاندھی کے بدلتے سیاسی انداز، نوجوانوں سے بڑھتے رابطے اور حکومت کو گھیرنے کی حکمت عملی پر بھی تجزیے سامنے آئے۔ دوسری جانب ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی زبان کی لازمی شرط پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے زبان کے بجائے روزگار، معاشی مواقع اور شہری حقوق کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

Tragedies like Ghatkopar are not caused by nature but purely by human negligence and criminal negligence. Photo: INN
گھاٹ کوپر جیسے سانحات قدرت کے نہیں بلکہ خالصتاًانسانی غفلت اور مجرمانہ چشم پوشی کے پیدا کردہ ہیں۔ تصویر: آئی این این

رواں ہفتے غیر اردو اخبارات کے صفحات پر ممبئی اور مہاراشٹر سے جڑے کئی اہم مسائل نے خاصی جگہ بنائی۔ گھاٹ کوپر میں چٹان کھسکنے کے المناک سانحے نے ایک بار پھر شہری انتظامیہ کی تیاری اور ممکنہ غفلت پر سنگین سوالات کھڑے کیے جبکہ پارلیمنٹ میں جاری ہنگامہ آرائی اور تعطل بھی اخبارات کے تبصروں کا اہم موضوع بنا رہا۔ اسی دوران کانگریس قائد راہل گاندھی کے سیاسی انداز،ان کی خطابت میں نمایاں ہوتی پختگی اور حکومت کو گھیرنے کی حکمت عملی پر بھی تجزیے سامنے آئے۔دوسری جانب مہاراشٹر میں ٹیکسی اور رکشے ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی زبان کی لازمی شرط کے فیصلے پر بھی بعض اخبارات نے سوالات اٹھاتے ہوئے اسے زبان کے بجائے روزگار اور شہری حقوق کے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات میں طلبہ احتجاج، جوہر یونیورسٹی اور ایف ڈی اے زیر بحث رہے

گھاٹ کوپر سانحہ انسانی غفلت کا نتیجہ ہے

نوشکتی( مراٹھی، ۱۴؍اگست)

’’ہر سال جب مانسون کی پہلی پھواریں ممبئی کے لیے راحت اور خوشگواری کا پیغام لاتی ہیں، ٹھیک اسی وقت شہر کے پہاڑی دامن میں آباد غریب بستیوں کے دل دہل جاتے ہیں۔ بارش ان کے لیے قدرت کا انعام نہیں بلکہ موت کا دستک نامہ بن کر آتی ہے۔ گھاٹکوپر کے چراغ نگر میں مٹی اور چٹانوں کے تودے گرنے سے ملبے تلے دب کر آٹھ شہریوں کا لقمۂ اجل بن جانا محض کوئی پہلا حادثہ نہیں بلکہ یہ اس سنگین اور مسلسل لاپروائی کا تسلسل ہے جس کی قیمت برسوں سے یہ پسماندہ طبقات اپنی جانوں سے ادا کر رہے ہیں۔انتظامیہ اور ارباب اقتدار کے لیے یہ بے حد آسان نسخہ ہے کہ ہر حادثے کو موسلادھار بارش اور قدرتی آفت کا لیبل لگا کر اپنی ذمہ داریوں سے پلہ جھاڑ لیا جائے۔ لیکن سچائی اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔بلاشبہ بارش اس تباہی کا فوری محرک ضرور بنتی ہے مگر درحقیقت یہ سانحات قدرت کے نہیں بلکہ خالصتاًانسانی غفلت اور مجرمانہ چشم پوشی کے پیدا کردہ ہیں۔بے ہنگم شہری تعمیرات، پہاڑوں کے سینے کو چیر کر بنائے جانے والے راستے، درختوں کی بے دریغ کٹائی، نکاسی آب کے ناقص انتظامات اور غیر معیاری حفاظتی دیواریں وہ کھلے شواہد ہیں جو چیخ چیخ کر انسان ساختہ تباہی کی گواہی دیتے ہیں۔ ۱۹۹۲ء سے اب تک ۳۴۰ سے زائد بے گناہ شہریوں کا ان حادثات میں مارا جانا کوئی معمولی اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک طویل خونیں تاریخ ہے۔سب سے بڑا المیہ جھگی مافیا اور سیاسی سرپرستی کا ناپاک گٹھ جوڑ ہے۔چھت کی تلاش میں بھٹکتے غریب عوام کو خطرناک پہاڑی ڈھلوانوں پر قائم غیر قانونی جھوپڑیاں بیچی جاتی ہیں اور جب وہی چٹانیں کھسک کر ان کے آشیانوں کو قبرستان میں بدل دیتی ہیں تو یہی عوامی نمائندے مگرمچھ کے آنسو بہانے اور کھوکھلی تسلیاں دینے جائے حادثہ پر نمودار ہو جاتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ضمنی انتخابات کے نتائج، برج بھوشن شرن سنگھ کی رہائی اور وزیراعظم کے ویڈیو پیغام

پارلیمنٹ کا حالیہ سیشن  تاریخ میں درج ہوگا

لوک مت( مراٹھی ،۱۴؍اگست)

’’بالآخر حسبِ روایت شدید شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کی نذر ہو کر پارلیمنٹ کا مانسون سیشن اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ میڈیکل کے داخلہ جاتی امتحان نیٹ کے پرچوں کے لیک، مظاہرین پر وحشیانہ لاٹھی چارج اور پیلٹ گنوں کے بے دریغ استعمال اور ایودھیا کے رام مندر میں چندے کی چوری جیسے سنگین و حساس معاملات پر اقتدار اور حزب اختلاف کے مابین تلخ جھڑپوں اور تکرار کی بدولت یہ سیشن ملکی تاریخ میں ایک مایوس کن باب کے طور پر درج ہوگا۔کارکردگی کا عالم یہ رہا کہ لوک سبھا میں محض ۱۹؍ فیصد اور راجیہ سبھا میں صرف ۳۹؍ فیصد ہی کام کاج ممکن ہو سکا۔ ہنگاموں کے اسی غبار میں حکومت نے چور دروازے سے بارہ بل ضرور منظور کروا لیے لیکن دوسری طرف ترنمول کانگریس کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور ادھو گروپ کے چھ اراکینِ پارلیمنٹ کے این ڈی اے کی گود میں جا بیٹھنے کے باوجود لوک سبھا کی حلقہ بندی اور خواتین کے تحفظات سے متعلق اہم آئینی ترمیم التوا کی دھول چاٹتی رہ گئی۔ایک عام ہندوستانی یہ سادہ لوح امید پالے رہتا ہے کہ اس کے حال اور مستقبل کی سمت کا تعین پارلیمنٹ کے تینوں اجلاسوں میں ہوگا مگر ہر بارجمہوریت کے یہ نام نہاد ٹھیکیدار عوام کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ معمول کے مطابق دونوں فریق ایک دوسرے کی طرف انگلی اٹھا کر بری الذمہ ہونے کا ناٹک کرتے ہیں۔ جمہوریت کا مندر اور اس کے تقدس ہونے کے فرسودہ دعوے تو بہت سنے گئے ہیں مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ اب دانستہ ہنگامہ آرائی ہی تمام سیاسی جماعتوں کی پہلی سیاسی مجبوری بن چکی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو بے سود ثابت ہونے والے اس سیشن نے ملک کا نقصان تو کیا مگر تمام سیاسی کھلاڑیوں کے ذاتی مفادات کی تسکین ضرور کر دی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: وانگچک، ایس آئی آر اور امریکہ۔ ایران تنازع اس ہفتے اخبارات کی توجہ کا مرکز رہے

راہل گاندھی کو اب نظر انداز نہیں کیاجاسکتا

نوبھارت( ہندی، ۱۱؍اگست)

’’ہندوستانی سیاست اس وقت ایک اہم موڑ سے گزر رہی ہے جہاں اپوزیشن کی سیاست محض روایتی نعرے بازی اور رسمی مخالفت کے خول سے نکل کر ٹھوس عوامی مسائل کی طرف گامزن ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے نوجوانوں کے مسائل اور تشنہ سوالات کو اپنی حکمت عملی کا بنیادی محور بنا کر جس فکری و سیاسی بیانیے کو آگے بڑھایا ہے اس کے اثرات واضح ہیں۔ ان کے حالیہ سیاسی حملے نہ صرف نشانے پر ہیں بلکہ وہ موجودہ بوسیدہ اور ناانصافی پر مبنی نظام پر کاری ضرب لگا کر ایک بنیادی تبدیلی کا حوصلہ بھی ظاہر کرتے ہیں۔راہل گاندھی نے پارلیمان اور عوامی فورم پر چکرویوہ کا جو استعارہ پیش کیا ہے وہ دورِ حاضر کے سیاسی و معاشی حالات کاانتہائی حقیقت پسندانہ اور جامع احاطہ کرتا ہے۔اگر مہابھارت کے اساطیری تناظر سے نکل کر دور جدید کا جائزہ لیا جائے تو ان کا موقف یہ ہے کہ بی جے پی، آر ایس ایس، مودی، شاہ اور اڈانی مل کر ملک کے عوام کو ایک ہمہ جہت معاشی و سماجی گھیراؤ میں جکڑ رہے ہیں۔ دور حاضر میں اس چکرویوہ کی حقیقت یہ ہے کہ روزگار کے مواقع مسدود کر دیے گئے ہیں، جمہوری اداروں کی خود مختاری سلب کر لی گئی ہے، امتحانی پرچوں کے لیک کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے اور نئی نسل کو مستقل روزگار فراہم کرنے کے بجائے سوشل میڈیا کی غیر تعمیری دنیا کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق راہل گاندھی کا انداز خطابت اب جذباتی اپیلوں سے آگے بڑھ کر ٹھوس اعداد و شمار اور ناقابلِ تردید حقائق پر استوار ہو چکا ہے۔ انہوں نے جو چونکا دینے والے معاشی تفاوت عوام کے سامنے رکھے ہیں وہ حکومتی پالیسیوں کے تضاد کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ سیاسی حریف راہل گاندھی کو جتنا بھی نظر انداز کرنے کی کوشش کریں مگر حقیقت یہ ہے کہ بھارت جوڑو یاترا اور عوامی سطح پر زمینی رابطوں کے بعد ان کا سیاسی موقف اب انتہائی گہرا اور ٹھوس بنیادوں پر کھڑا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات نے بارش کے واقعات، پیپر لیک اور سیاسی جوڑ توڑ کو موضوع بنایا

مراٹھی کو لازم کرنے کا فیصلہ خالص سیاسی ہے

ہندوستان ٹائمز( انگریزی،۱۴؍اگست)

’’کیا ایک جمہوری ریاست کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے شہریوں پر جبر کرے کہ وہ روزمرہ کے روزگار کے لیے کون سی زبان بولیں اور کون سی نہیں؟کسی بھی آئینی اور باشعور جمہوری معاشرے میں اس سوال کا جواب قطعا نفی میں ہوگا۔مہاراشٹر حکومت کی جانب سے موٹر وہیکل رولس ۱۹۸۹ء میں حالیہ ترمیم، جس کی رو سے مراٹھی زبان سے نابلد آٹو رکشے، ٹیکسی اور ایپ بیسڈ کیب ڈرائیوروں کے لائسنس معطل اور منسوخ کیے جا سکیں گے سراسر تشویش ناک اور بنیادی جمہوری و معاشی حقوق پر ضرب ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مہاراشٹر جیسے صوبے میں جہاں لسانی جذبات ہمیشہ سیاسی نفع و نقصان کا آسان ذریعہ رہے ہیں یہ فیصلہ مراٹھی بولنے والی اکثریتی آبادی کو رجھانے اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمراں اتحاد کے سیاسی مفادات کو وقتی جلا بخشنے کا ایک حربہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خالصتا ووٹ بینک اور انتخابی مفاد کو ملکی معیشت اور آئینی مساوات پر ترجیح دی جانی چاہیے۔بین الریاستی نقل مکانی جدید  ہندوستان کی سب سے بڑی اور ناگزیر حقیقت ہے۔ ممبئی کو ملک کا معاشی دارالحکومت بنانے اور مہاراشٹر کو ترقی یافتہ بنانے میں انہی غیر مقامی محنت کشوں کا خون پسینہ شامل رہا ہے۔ایک ذمہ دار اور سنجیدہ حکومت کا اولین فریضہ معاشی مواقع پیدا کرنا اور باہمی ہم آہنگی پیدا کرنا ہوتا ہے نہ کہ لسانی تفرقے کی آگ پر سیاسی روٹیاں سیکھنا اور ماحول کو مزید زہر آلود کرنا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK