Inquilab Logo Happiest Places to Work

تعلیم کو عام کرنے کا زبانی دعویٰ اور تعلیمی شعبےکی حقیقی صورتحال

Updated: June 14, 2026, 7:19 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai

نیتی آیوگ کے ذریعہ جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک گیر سطح پر تقریباً ایک لاکھ سرکاری اسکول بند ہوئے ہیں اور اس عرصے میں اسکول میں داخلہ لینے والے بچوں کی تعداد میں بھی خاصی کمی آئی ہے، صرف سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں مجموعی طورپر تقریباً سوا دو کروڑ کی کمی آئی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

گزشتہ ماہ نیتی آیوگ نے ملک میں اسکولی تعلیم کے متعلق جو رپورٹ شائع کی ہے، اس کے مندرجات اس شعبہ کے متعلق حکومت کی غیر سنجیدگی کو واضح کرتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک گیر سطح پر تقریباً ایک لاکھ سرکاری اسکول بند ہوئے ہیں اور اس عرصے میں اسکول میں داخلہ لینے والے بچوں کی تعداد میں بھی خاصی کمی آئی ہے۔ ۱۵۔ ۲۰۱۴ء میں سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کی تعداد۲۶ء۹۵؍کروڑتھی جو ۲۵۔ ۲۰۲۴ء میں گھٹ کر۲۴ء۶۹؍کروڑ رہ گئی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں تقریباً سوا دو کروڑ کی کمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ عام آدمی کی تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانے میں حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تعلیم کے تئیں حکومت کی غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ نہ صرف سرکاری اسکولوں میں تالے لگ رہے ہیں بلکہ سرکاری امداد سے چلنے والے اسکولوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران ایسے تقریباً پانچ ہزار اسکول بند ہوئے ہیں۔ سرکاری اور نیم سرکاری اسکولوں کی اس صورتحال کا موازنہ اگر پرائیویٹ اسکولوں سے کیا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ عوامی زندگی سے متعلق دیگر شعبوں میں جس طرح حکومت نجکاری کو ترجیح دے رہی ہے اسی طرح تعلیم کو بھی پرائیویٹ کر دینا اس کی ترجیح میں شامل ہے۔ 
نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق ایک دہائی کے دوران ملک میں پرائیویٹ اسکولوں کی تعداد ۲ء۸۸؍ لاکھ سے بڑھ کر۳ء۳۹؍ لاکھ ہوگئی ہے۔ سرکاری اسکولوں کی کم ہوتی تعداد اوراسی تناسب سے پرائیویٹ اسکولوں کی روز افزوں صورتحال نہ صرف تعلیم کے متعلق حکومت کے غیر سنجیدہ رویہ کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اس غیر سنجیدگی کے سبب سماجی سطح پر جہالت کے بڑھتے امکانی دائرے کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: میڈیا کے یہ ملازمین سماج کیلئے نقصاندہ ہوگئے ہیں

ملک گیر سطح پر سرکاری اسکولوں کی تعداد میں کمی واقع ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ کئی ریاستوں میں یہ تجربہ بھی کیا گیا کہ آس پاس کے دو سرکاری اسکولوں کو ایک میں ضم کر دیا گیا۔ اقتدار نے اس انضمام کیلئے کئی حیلوں کا سہارا لیا جس میں نمایاں طور پر اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں کمی اور وسائل کے بیجا استعمال کو جواز بنایا گیا۔ جہاں تک وسائل کے بیجا استعمال کا معاملہ ہے تو اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ ملک کی کچھ ایک ریاستیں ہی ایسی ہیں جہاں کے سرکاری اسکولوں میں وہ تمام ضروری وسائل مہیا ہیں جو طلبہ کے تعلیمی مراحل کو آسان بناتے ہیں جس سے انھیں مزید تعلیم حاصل کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں غیر معیاری تعلیمی وسائل کے استعمال اور طلبہ کیلئے بنیادی سہولتوں کے فقدان کے معاملے میں شمالی ہند کی ان ریاستوں کی ابتر صورتحال ایک مدت سے بحث کا موضوع رہی ہے جن ریاستوں میں مذہبی منافرت اس وقت عروج پر ہے۔ 
سرکاری اسکولوں میں داخلے میں کمی کی ایک بڑی وجہ اسکولوں کے انضمام کی یہ پالیسی بھی ہے۔ اقتدار کو اپنے وسائل اور سہولت کی توفکر ہے لیکن ان بچوں کی مطلق پروا نہیں جو اپنے گھر اور گاؤں سے دور دراز کے علاقوں میں جا کر تعلیم حاصل کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ حکومت نے پائیدار ترقی کے اہداف کے ذیل میں ۲۰۳۰ء تک تعلیم کی ہمہ گیریت کا جو عزم ظاہر کیا ہے وہ بھی اسکولوں کے انضمام کی پالیسی سے تشنہ ٔ تکمیل رہ سکتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سرکاری اسکولوں کو درپیش مسائل اور ان مسائل کے تدارک کیلئے حکومتی اقدام کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اقتدار نے ان اسکولوں کی خستہ حالی کے گراف میں ہونے والے بتدریج اضافے کی روک تھام کیلئے کوئی کارگر حکمت عملی اختیار نہیں کی۔ یہ حکومتی رویہ تعلیم کی مکمل طور پر نجکاری کے منشا کو بھی ظاہر کرتا ہے جس کا ایک ثبوت پرائیویٹ اسکولوں کی تعداد میں ہونے والا اضافہ ہے۔ 
پرائیویٹ اسکول معیاری تعلیم کے نام پر طلبہ اور ان کے سرپرستوں کا مختلف طریقوں سے جو استحصال کرتے ہیں وہ بھی جگ ظاہر ہے اور تعلیم کے تئیں حکومت کی غیر سنجیدگی نے ایسے حالات پیدا کر دئیے ہیں کہ اس استحصال کو برداشت کرنا طلبہ اور ان کے سرپرستوں کی مجبوری بن گئی ہے۔ اس ضمن میں تعلیم، عوام اور اقتدار کے حوالے سے یہ بنیادی سوال اب بھی باقی ہے کہ سماج کے ہر طبقہ کیلئے مہنگے پرائیویٹ اسکولوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانا کار دارد کے مصداق ہے تو حکومت کیوں نہیں کوئی ایسا پختہ بندو بست کرتی ہے کہ تعلیم تک سب کی رسائی یقینی ہو سکے۔ عوام کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے بجائے اقتدار نے عوام کو دھرم کے خمار میں مبتلا کر کے بڑی چالاکی کے ساتھ اس آئینی ذمہ داری سے اپنا پلہ جھاڑ لیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سچ تو یہی ہے کہ حشرات الدہر سے زیادہ عوام کی حیثیت نہیں

گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک میں سماجی مسائل نے جو پیچیدہ صورتحال اختیار کر لی ہے اس کی ایک بڑی وجہ جہالت کا وہ بڑھتا ہوا دائرہ ہے جو حقائق کو جاننے، سمجھنے اور سماجی تقاضوں کے مطابق عمل کرنے سے انسان کو محروم کر دیتا ہے۔ یہ حالات ان فسطائی سیاسی عناصر کو مزید حوصلہ عطا کرتے ہیں جو سماج میں تعصب و تفریق کے رجحان کو بڑھاوا دے کر اپنے سیاسی اہداف سر کرتے ہیں۔ تعلیم کے تئیں اقتدار کی سرد مہری اس حوصلہ مندی کا ایک واضح ثبوت ہے جس کا بنیادی مقصد عوام کو تعلیم سے محروم رکھنا اور ان کے ذہنوں پر دھرم کا ایساخمار چڑھائے رکھنا ہے جو انھیں اپنی حقیقی صورتحال کا ادراک نہ ہونے دے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK