Inquilab Logo Happiest Places to Work

قوم کو بااختیار، بااثر و باخبر بنانے کیلئے۸؍دہائیوں کی پیش رفت کا اجمالی جائزہ

Updated: March 15, 2026, 11:21 AM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

جمعہ کے اجتماع میں بڑی طاقت ہے۔ یہ نعمت ہے کہ کسی مسجد میں ہر مکتبۂ فکر اور مختلف زبانوں کے جاننے والے جمعہ کی نماز کے اجتماع میںشریک ہوتے ہیںکیوں نہ اس اجتماع سے قوم و ملّت کے مستقبل کی راہیں تلاش کریں۔

A small box should be placed near the box kept for expenses in our mosques and labeled: Aid for Education. Photo: INN
ہماری مساجد میں اخراجات کیلئے جو ایک ڈبہ رکھا ہوتا ہے ، اُسی کے قریب ایک چھوٹی سی صندوق رکھی جائے اور اُس پر لیبل لگایا جائے: امداد برائے تعلیم۔ تصویر: آئی این این

آزادی کے بعد کی آٹھ دہائیوںکا جائزہ لیتے وقت ہمیں ایک اصطلاح سُنائی پڑتی ہے اور وہ ہے: اِمپاورمنٹ۔ نوجوانو! یہ کوئی نئی اصطلاح نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں کم و بیش چار دہائیوںسے اس محاذ پر کام ہونے لگا ہے۔ ہم اُسے با اختیار بنانا یا تقویت کاری کہتے آئے ہیں۔ اس ضمن میں ایک اہم بات ہم یہ عرض کرتے چلیں کہ ہر مدبّراور ہر مفکّر تمام تر دلائل سے پُر اپنے بحث و مباحثوں کے بعد اسی نتیجے پر پہنچتا ہے کہ کسی بھی فرد، معاشرہ یا قوم کو بااختیار بنانے کا واحد ذریعہ علم ہی ہے۔اب اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہونے کے ناطے ہمیں اپنے راستے اور اپنی منزل کا تعین تعلیم کے ذریعے اِمپاورمنٹ ہی سے کرناہے۔ اس پیش رفت کے ضمن میں چند موٹی موٹی باتوں کا تذکرہ کرنا چاہیں گے:

(الف) اب رفتہ رفتہ ہمارے ہاں ’تعلیم کیوں؟‘اور ’کون سی تعلیم؟‘  کے بادل چھٹتے جا رہے ہیں۔ قوم جو کبھی دینی تعلیم و عصری تعلیم کی بے فیض بحث میںاُلجھی تھی، اب وہ اس سوچ پر اتفاق کرتی دکھائی دیتی ہے کہ دین کی روشنی میں تمام تر عصری علوم حاصل کئے جائیں۔

یہ بھی پڑھئے: اخباروں میں ایران جنگ، رسوئی گیس اور نیپال انتخابی نتائج اداریوں کا موضوع رہے

(ب) مدرسے کے فارغین کو عصری علوم سے جوڑنے کی کامیاب کوششیں ہر جگہ ہورہی ہیں۔

(ج) نوجوانو! اب بھی جس محاذ پر آپ کو بڑی دل جمعی سے کام کرنا ہے وہ ہے ہماری ترجیحات سے آگہی۔ ہماری قوم آج اپنے ہی خول میں سمٹ گئی ہے اور اس بناء پر ہماری تعلیمی و ذہنی پسماندگی مزید سنگین ہوگئی ہے۔ آج ہمارے یہاں۲۵۔۳۰؍لاکھ روپے والے اونچے اونچے مینار، گنبد اور برقی قمقموں کے جھومر والی مساجد تعمیر ہورہی ہیںمگراُن کے امام کی تنخواہ ۸؍ہزار روپے اور موذّن کی تنخواہ ۵؍ہزار روپے ہے۔ظاہر ہے اِس صورت میں وہ امام و موذّن صاحبان اپنے بچّوں کی اعلیٰ تعلیم کا کوئی خواب دیکھ ہی نہیں سکتے۔ اب ہمارے نوجوانوں کو اس محاذ پردُور اندیشی اورحق و انصاف والے اقدام کرنے ہیں۔

(د)دوستو! ہماری پیش رفت اور اِمپاورمنٹ میں ایک رُکاوٹ ہے ہمارے مسلکی اختلافات کی بناء پر آپسی عصبیت و عداوت۔ہمارے یونیورسٹی کے طلبہ، ہمارے نوجوان کسی بھی قول و فعل کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمارے اکابرین کے دماغ میںنصب کمپیوٹر فوراً اُنھیں بتاتے ہیںکہ وہ شخص، وہ گروہ، وہ جماعت، وہ تنظیم کس مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔ اصل موضوع اور ایشو دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے اور مسلکی اختلافات پر دھواں دھار بحث شروع ہوجاتی ہے۔بہت ہوچکا ، نئی نسل اب اعلان کرے کہ وہ اِن اختلافات کا حصّہ بننے کو تیار نہیںہیں۔

نوجوانو! دین کی ایک ہی روح ہے اور وہ ہے : تقویٰ۔ جو اس کا حامل نہیں ہیں وہ مسلکی اختلافات کی بحث میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہیں اور آج آزادی کے بعد کی آٹھ دہائیوں کی ہماری پیش رفت کا جائزہ لیتے وقت اِن مسلکی اختلافات کا ذکر کر رہے ہیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ معاملہ کتنا سنگین ہے۔

جمعہ پاور:اسلام کی ہر شہ میں حکمت پوشیدہ ہے۔ جمعہ کو ہمارے دین میںہفتے کی عید کا مقام حاصل ہے۔ ہم  خوشبو کے استعمال اور ۲؍ رکعت فرض نماز کی ادائیگی سے سمجھ بیٹھتے ہیں کہ جمعہ کا حق اداہوا۔ ہم جمعہ کی نماز کے اجتماع سے ملّت کیلئے خیر کے پہلوئوں کو تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اسلام کے ابتدائی دَور میں مساجد ملّت کی تعمیر کامرکز ہوا کرتی تھیں قوم و ملّت کے سارے بڑے فیصلے وہیں ہوا کرتے تھے۔ قوم کی فلاح و بہبودی کے ضمن میں ذکر و فکر وہیں ہوتا تھا۔ آزادی کے اِن ۷۵؍برسوں میں اس محاذ پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے البتہ اگر نئی نسل چاہے تو آج بھی یہ سب ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یاہو اور ٹرمپ بین الاقوامی قوانین کے پرخچے اُڑا رہے ہیں

جمعہ کی نماز کے اجتماع میں بڑی طاقت ہے۔ یہ اللہ کی جانب سے  نعمت ہے کہ کسی مسجد میں ہر مکتبۂ فکر اور مختلف زبانوں کے جاننے والے جمعہ کی نماز کے اجتماع میںشریک ہوتے ہیںکیوں نہ اس اجتماع سے قوم و ملّت کے مستقبل کی راہیں تلاش کریں۔ اس طرح ممکن ہے:

(ا)ہم ہر بار گھر گھر جاکر اس کی تشہیر کریں کہ والدین اپنے بچّوںکو جمعہ کی نماز کیلئے صرف فرض نماز ادا کرنے کی غرض سے نہ بھیجیں بلکہ نماز سے کم و بیش ۴۵؍منٹ سے ایک گھنٹہ پہلے روانہ کریںاور  وہ مختلف موضوعات پر تقاریر کرنے والے خطیبوں کو سُنیں۔ (ہم تو اپنی تقاریر میں بچّوں کو یہ ترغیب دیتے  ہیںکہ  جمعہ کی نماز  میں ڈائری  اور قلم ساتھ لے جائیں اور خطیبان کی تقاریر کے نکات کو نوٹ کرلیں ۔)

(۲)ہم جمعہ کی نماز کیلئے خصوصی خطیبان کی ٹیم تیار کریں جو دینی امور  کے علاوہ عصری موضوعات جیسے بچّوںکی تربیت، والدین کے فرائض و حقوق، برادران وطن سے حسنِ سلوک، ہر شدّت میں بھی صبر، رزق حلال کے مواقع،  معاشی بدعنوانیوں سے قوم کیسے با خبر رہے؟ ہمارے محلے، بستی کی موجودہ تعلیمی کیفیت، صفائی کی اہمیت، موبائیل، آٹو موبائیل اور ہمارے نوجوان: حل کیا ہے؟ کیمپس میںدین سے وابستگی، تعلیم ِ نسواں کے ساتھ ساتھ اب تعلیم مرد اں کیلئے کیا کریں، کامیاب طالب علم وغیرہ وغیرہ موضوعات پر پُر مغز، بامعنی اور مدلّل تقاریر کرنے والے اور موجودہ نسل کو اُن کے انداز میں سمجھانے والے مقررین کی ایک ٹیم تیار کریں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسلام میں خواتین کے حقوق: کیا سماج انصاف کر رہا ہے؟ کوتاہی کو کیسے دور کیا جائے؟

(۳) ہمارے تعلیمی پیش رفت میں ایک بڑی رُکاوٹ ہے : وسائل کی کمی۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ہماری قوم کے طلبہ میںذہانت کی کوئی کمی نہیں ہے اُن میںکئی طلبہ کے پاس سمت کی نشاندہی بھی ہے، ذہن کی  یکسوئی بھی البتہ وسائل کی کمی سے اُن کے سارے خواب چکنا چور ہوجاتے ہیں۔آج ہماری ہر بستی میں اکّا دُکّا چیرٹیبل ٹرسٹ دکھائی دیتے ہیں وہ بھی ضرورت مندوں کی حاجت پوری نہیںکرپاتے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے طلبہ اور برقعہ پوش مائیں مندرو ں کے ٹرسٹ کے سامنے قطار لگا کر کھڑی ہونے پر مجبور ہوجاتی ہیں ۔ کیوں نہ ہم اس مسئلے کے حل کیلئے مساجد کا استعمال کریں یعنی ہماری مساجد میں تعمیرمسجدکیلئے جو ایک بڑی تجوری ہوتی ہے، اُسی کے قریب ایک چھوٹی سی صندوق رکھی جائے اور اُس پر لیبل لگایا جائے: امداد برائے تعلیم۔ جمعہ کی نماز کیلئےیکجا ہوا مجمع اِس چھوٹی سی صندوق پر بھی توجہ دینے لگے گا اور اس طرح قوم کے وسائل سے ہمارے مسائل کو ہم حل کرسکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK