نیتن یاہو کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کے تناظر میں اسے اسرائیلی جمہوریت کیلئے تشویشناک پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایم ایل سی انتخابات میں بی جے پی اور کانگریس کو ملنے والی شکست کے سیاسی اثرات اوردونوں کی حکمت عملی پر بھی تبصرے کیے گئے ہیں۔
EPAPER
Updated: November 01, 2026, 4:29 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
نیتن یاہو کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کے تناظر میں اسے اسرائیلی جمہوریت کیلئے تشویشناک پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایم ایل سی انتخابات میں بی جے پی اور کانگریس کو ملنے والی شکست کے سیاسی اثرات اوردونوں کی حکمت عملی پر بھی تبصرے کیے گئے ہیں۔
رواں ہفتے مختلف مراٹھی اخبارات میں شائع ہونے والے اداریوں میں جہاں بھیماشنکر جنگل میں درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ اور حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہیں اسرائیل کی سیاسی صورتحال بھی اداریہ نگاروں کی توجہ کا مرکز رہی۔نیتن یاہو کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کے تناظر میں اسے اسرائیلی جمہوریت کیلئے تشویشناک پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایم ایل سی انتخابات میں بی جے پی اور کانگریس کو ملنے والی شکست کے سیاسی اثرات اوردونوں کی حکمت عملی پر بھی تبصرے کیے گئے ہیں۔دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے من مانے فیصلوں اور انتخابی کمیشن کے دیگر ارکان کو اعتماد میں نہ لینے کے طرز عمل پر بھی سخت تنقید کی گئی ہے۔
جنگل صرف چند درختوں کا نام نہیں.....
نوشکتی( مراٹھی،۲۷؍اکتوبر)
’’موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی بحران اب کسی دور افتادہ مستقبل کا غیر واضح خطرہ نہیں رہے بلکہ ہمارے سروں پر منڈلاتی ہوئی ایک تلخ اورہولناک حقیقت بن چکے ہیں۔ مہاراشٹر میں ایک طرف زمین پیاس سے چٹخ رہی ہے۔ دوسری جانب کسان فصلوں کی بربادی پر خون کے آنسو رو رہے ہیں ۔اس نازک اور تشویش ناک موڑ پر بھی اگر اربابِ اقتدار ترقی کے نعرے کی آڑ میں صدیوں پرانے جنگلات اور سبزہ زاروں پر کلہاڑیاں چلانے کو اپنی فتح گردانیں تو یہ طے ہے کہ ہم نے مستقبل کے تحفظ کی فکر کو مکمل طور پر فراموش کر دیا ہے۔کرجت تعلقہ میں مجوزہ تین ہزار میگاواٹ کے پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹ کیلئے ہزاروں درختوں کی کٹائی کا قضیہ دراصل اسی سنگ دلانہ حکومتی ذہنیت کا آئینہ دار ہے۔ حزب اختلاف کے ایم ایل اے روہت پوار کا یہ الزام کہ بارہ ہزار سے زائد قیمتی درختوں کی قربانی دی جا رہی ہے ماحولیاتی بربادی کے ایک بڑے سانحے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ دوسری جانب وزیر اعلیٰ فرنویس کی جانب سے اسے ماحول دوست منصوبہ قرار دے کر مخالفین پر گمراہ کن تشہیر کا جوابی الزام عائد کیا جا رہا ہے اور کاغذی خانہ پوری کیلئے ۹۰؍ ہزار نئے پودے لگانے کے پرکشش دعوے دہرائے جا رہےہیں مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے ان گورکھ دھندوں سے زمینی تباہی پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔کہا جا رہا ہے کہ متبادل اراضی پر شجرکاری کرکے پرانے جنگل کا متبادل پیدا کر دیا جائے گامگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کاغذ پر لگائے گئے یا نرسریوں سے لا کر بوئے گئے ننھے پودے کبھی دہائیوں پرانے ان گھنے اور تناور درختوں کی جگہ لے سکتے ہیں جو بادلوں کو کھینچ لاتے ہیں، کاربن کے زہر کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور زمینی کٹاؤ کے سامنے ڈھال بنتے ہیں۔ جنگل صرف چند درختوں کا نام نہیں بلکہ یہ حیاتیاتی تنوع اور لاتعداد چرند پرند کا ایک مکمل مسکن ہوتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ملکی بدعنوانی، لا اینڈ آرڈر اور عالمی مسائل اس ہفتے اخبارات کے اداریوں میں
اسرائیل سیاسی عدم استحکام کا شکار
لوک مت( مراٹھی، ۳۰؍اکتوبر )
’’اسرائیل کے حالیہ انتخابی نتائج نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام محض ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ءکو حماس کے حملے کے بعد یہ پہلا عام انتخاب تھا جسے بجا طور پر وزیراعظم نیتن یاہو کی قیادت ان کی جنگی پالیسیوں اور ساکھ پر ایک براہِ راست عوامی ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا تھا تاہم عوام نے جس منقسم مینڈیٹ پر مہر تصدیق ثبت کی ہے اس نے ملک کو کسی واضح سمت پر گامزن کرنے کے بجائے ایک شدید آئینی بحران سے دوچار کردیا ہے۔ ۱۲۰؍ رکنی کنیسٹ میں یاہو کاکیمپ ۵۳؍ اور اپوزیشن کا ۴۸؍ نشستوں کے گرد گھومنا اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہے کہ تل ابیب کا معاشرہ گہری نظریاتی اور سیاسی خلیج کا شکار ہو چکا ہے۔یاہو پر بدعنوانی کے سنگین مقدمات، غزہ میں طویل اور تباہ کن جنگ اور ایران کے ساتھ خطرناک تصادم کے سائے میں ہونے والا یہ انتخاب کسی بحران کا حل نکالنے میں سراسر ناکام رہا ہے۔ جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ وہ بظاہر اکثریت کا نظام کہلاتی ہے لیکن موجودہ منظرنامے میں اقلیتوں اور چھوٹی جماعتوں کی بلیک میلنگ کااکھاڑا بن چکی ہے۔انتخابی نتائج میں عرب جماعتوں کی جانب سے ریکارڈ ۱۹؍ نشستیں جیتنا ایک غیرمعمولی پیش رفت ضرور ہے لیکن اس نے اسرائیلی سیاست کی منافقت کا پردہ بھی فاش کر دیا ہے۔انتخابات سے قبل خود یاہو نے یہ کہہ کر انتخابی فضا کو زہر آلود کیا تھا کہ عرب ووٹر الیکشن’چرا‘ لیں گے مگر آج ریاضی کا کھیل یہ ہے کہ عرب نمائندوں کے بغیر مستحکم حکومت کا قیام تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔صہیونی قیادت خواہ وہ نیتن یاہو کا ہو یا آئزن کوٹ ،اپوزیشن اتحاد اقتدار کی ہوس میں عرب جماعتوں سے بالواسطہ مدد لینے کی تدبیریں تو سوچتی ہے مگر اپنے نظریاتی تعصبات کی وجہ سے انہیں باضابطہ شراکت دار تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ عرب اتحاد نیتن یاہو کو بے دخل کرنے کیلئے مفاہمت پر آمادہ نظر آتا ہے لیکن حماس کے سوال پر ان کے تحفظات ان کے لیے ایک نیا امتحان بنے ہوئے ہیں۔‘‘
حکمراں محاذ کیلئے بھی جشن منانے جیسا کچھ نہیں
دی فری پریس جنرل(انگریزی، ۳۰؍اکتوبر )
’’ایم ایل سی کے حالیہ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد روایتی فتح کے شادیانے اور سیاسی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔تاہم سیاسی مبصرین کیلئے یہ نتائج محض نشستوں کے اعداد و شمار نہیں بلکہ گہرے تنقیدی تجزیے کا تقاضا کرتے ہیں۔ان نتائج کو عام انتخابات یا ریاستی اسمبلیوں کے متبادل عوامی رجحان کے طور پر پیش کرنا مغالطہ ہوگا۔ان انتخابات میں عام ووٹر کے بجائے صرف مخصوص طبقات بالخصوص اساتذہ اور گریجویٹ کے رجسٹرڈ ووٹر ہی حصہ لیتے ہیں لہٰذا اس محدودانتخابی حلقے کے فیصلے کو پورے صوبے یا ملک کا حتمی عوامی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔چار ریاستوں اتر پردیش، مہاراشٹر، بہار اور کرناٹک کی ۲۸؍ نشستوں پر ہونے والے مقابلوں میں’این ڈی اے‘ نے ۱۶؍ نشستیں حاصل کیں اور بی جے پی سب سے بڑی فاتح بن کر ابھری۔ وزیر اعظم مودی نے کانگریس کی کارکردگی پر چوٹ کرتے ہوئے یہ یاد دلانا ضروری سمجھا کہ یہ انتخابات ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر کے ذریعے ہوئے تھے۔ سیاسی طنز و مزاح اپنی جگہ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ خود بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کیلئے بھی ان نتائج میں جشن منانے سے زیادہ خود احتسابی کے اشارے موجود ہیں۔اسے حکمران اتحاد کے حق میں عوامی لہر یا غیر مشروط تائید سمجھنا محض خود فریبی ہوگی۔ریاستی سطح پر نتائج کا جائزہ لیا جائے تو حکمران اتحاد کی کمزوریاں واضح ہو جاتی ہیں۔کرناٹک میں جہاں کانگریس چاروں نشستیں ہار کر صفر پر سمٹ گئی وہیں مہاراشٹر میں حکمراں مہایوتی اتحاد اپنی برتری کا وہ رعب قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔سب سے بڑا دھچکا ناگپور میں لگا جوآر ایس ایس کا مرکز اور وزیراعلیٰ فرنویس کا سیاسی گڑھ ہے جہاں کانگریس نے اہم نشست چھین کر ہلچل مچا دی۔‘‘
الیکشن کمیشن کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے
نوبھارت( ہندی، ۲۹؍اکتوبر)
’’ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد جن ستونوں پر استوار ہے ان میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی آئینی حیثیت اور خودمختاری کو مرکزی مقام حاصل رہا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل اور کمیشن کے داخلی طریقہ کار پر اٹھنے والے تنازعات نے اس ادارے کے وقار اور شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔سپریم کورٹ میں اپوزیشن کے انڈیا اتحاد کی جانب سے دائر عرضی پر کمیشن کی جانب سے داخل کردہ حلف نامے نے شکوک و شبہات کے بادل چھاٹنے کے بجائے مزید الجھنیں اور فکرمندیاں پیدا کر دی ہیں۔سب سے زیادہ پریشان کن امر ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے تقریبا ۱۳؍ کروڑ افراد کے ناموں کا خارج کیا جانا ہے۔اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کا ووٹ کے بنیادی حق سے محروم ہونا کوئی معمولی یا محض تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ ایک سنگین سیاسی اور جمہوری بحران ہے۔ اگرچہ کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپنے تمام فیصلوں کو متفقہ اور قواعد کے عین مطابق قرار دے کر اپنےاقدامات کا دفاع کیا ہے لیکن اندرونی حقائق اس دعوے کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فیصلوں پر دیگر دو کمشنروں ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر وویک جوشی کا ۱۴؍ مرتبہ تحریری اعتراض درج کرانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ کمیشن کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں تھا۔جب ایک آئینی ادارے کے باوقار اراکین ہی فیصلوں کے عمل سے خود کو الگ تھلگ یا بے خبر پائیں، تو پھر اتفاق رائے کا دعویٰ محض دفتری پردہ پوشی سے زیادہ کچھ نہیں رہتا۔چیف الیکشن کمشنر کو لامحدود اور یکطرفہ اختیارات دینے کی درپردہ کوششیں اور دیگر اراکین کو پس پشت ڈال کر فیصلے نافذ کرنے کا رجحان کسی بھی جمہوری ادارے کیلئے زہر قاتل ہے۔‘‘