یونیسکو کا اس تاریخ کو کتابوں سے منسوب کرنے کا مقصد لوگوں میں مطالعہ کا ذوق پیدا کرنا، کتابوں کی اشاعت کی ترغیب اور حقوق اشاعت کے تحفظ کے تئیں بیداری پیدا کرنا ہے۔ اس تاریخ کو یوم کتاب کے طور پر منانے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ۲۳؍اپریل کو ممتاز ڈراما نگار شیکسپیئر کی ولادت اور وفات ہوئی تھی۔
۲۳؍اپریل کو عالمی یوم کتاب کا ۳۰؍واں سال تھا۔ یونیسکو نے ۲۳؍اپریل ۱۹۹۶ء کو اس کی شروعات کی تھی۔ اس تاریخ کو عالمی یوم کتاب کے طور پر منانے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ۲۳؍اپریل ہی کو انگریزی زبان کے ممتاز ڈراما نگار شیکسپیئر کی ولادت ۱۵۶۴ء میں اور وفات بھی اسی تاریخ کو ۱۶۱۶ء میں ہوئی تھی۔ یونیسکو کے ذریعہ اس تاریخ کو کتابوں سے منسوب کرنے کا مقصد لوگوں میں مطالعہ کا ذوق پیدا کرنا، کتابوں کی اشاعت کی ترغیب اور حقوق اشاعت کے تحفظ کے تئیں بیداری پیدا کرنا ہے۔ یونیسکو ان مقاصد کے حصول میں کس حد تک کامیاب رہا ہے، اس کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن عوام کا کتابوں سے رشتہ جو صورت اختیار کرتا جا رہا ہے اس کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر چہ ہر سال۲۳؍ اپریل کوتعلیمی، سماجی و فلاحی اداروں میں عالمی یوم کتاب کے عنوان سے مختلف قسم کے پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے جن کا مقصد بھی بہ ظاہر مطالعہ کو فروغ دینا ہوتا ہے لیکن ان پروگراموں سے وابستہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان کی مقررہ میعاد کے ختم ہونے کے بعد کتابوں سے انس کا جوش بھی ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ کتابوں کی اہمیت سے متعلق موبائل پر اسٹیٹس لگانے میں مثالی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا جوش و خروش بیشتر انہی لوگوں کے ذریعہ دکھایا جاتا ہے جو بھولے سے بھی کبھی مہینے، دو مہینے یا چھ مہینے میں کتابوں کے اوراق پلٹنے کی زحمت نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھئے: تعلیم کو سماجی رتبہ کی علامت سمجھنے کا رجحان اضافی مسائل کا سبب
مندرجہ بالا سطور سے یہ بھی اندازہ نہیں لگانا چاہیے کہ عالمی یوم کتاب پر اسٹیٹس لگانے میں پیش پیش رہنے والے افراد نے مطالعہ سے بالکل کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ ان میں سے بیشتر کے ذوق مطالعہ کی تسکین کا سامان ان کا اسمارٹ فون یا ٹیب فراہم کرنے لگا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کے اس ہوش ربا دور میں ان تکنیکی وسائل سے مکمل طور پر گریز بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ اسمارٹ فون یا ٹیب ہی کو کتابوں کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اسکرین پر رینگنے والی انگلیاں کشف و وجدان کی اس لذت سے بیشتر محروم ہوتی ہیں جو کتابوں کی ورق گردانی کرنے والی انگلیوں کا مقدر ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات کا یہ ماننا ہے کہ کتابوں سے قربت نہ صرف اسرار زیست کی آگہی عطا کرتی ہے بلکہ صفحات پر کندہ الفاظ کو مس کرنے والی نظر شعور و آگہی کی رمق سے اس قدر منور ہو جاتی ہے کہ انسان فہم و دانش کی بلندی سے ہمکنار ہو کر زندگی جینے کا وہ ڈھب حاصل کر لیتا ہے جو اسے دوسروں سے منفرد اور ممتاز بناتا ہے۔ جدید تکنیکی وسائل کو کتاب کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے والے بجا طور پر یہ سوال کر سکتے ہیں کہ کیا انھیں زندگی کا یہ ڈھب حاصل نہیں ہے؟ اس سوال کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ صد فیصد تو دعویٰ نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ کتابوں سے پڑھنے اور اسکرین سے پڑھنے میں فرق یہ ہے کہ کتابیں یکسوئی عطا کرتی ہیں جو حصول علم کی بنیادی شرط ہے جبکہ اسکرین سے پڑھنے کا عمل، اسکرین پر نمودار ہونے والے خودکار مواد کے سبب انتشار سے دوچار ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ صفحات پر نقش حروف سے نکلنے والی خوشبو ذہن کو بالیدگی عطا کرتی ہے جبکہ اسکرین سے نکلنے والی برقی لہریں آنکھوں کی بینائی کو متاثر کرتی ہیں اور اگر ان لہروں کا رابطہ متواتر آنکھوں سے قائم رہے تو آتشی عینک چہرے کی وجاہت پر حرف گیری کرنے لگتی ہے۔
عالمی یوم کتاب کے حوالے سے اس دلچسپ اور کسی حدتک افسوس ناک حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس دن کو سرکاری سطح پر بیشتر اسی طرح منایا جاتا ہے جس طرح دیگر مخصوص ایام کا انعقاد رسمی طور پر کیا جاتا ہے۔ اقتدار لاکھ یہ جتانے کی کوشش کرے کہ وہ علم کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے لیکن سچائی ہے کہ اس وقت عنان حکومت جن ہاتھوں میں ہے، وہ یہی چاہتے ہیں کہ عوام کے اذہان جہالت کی اس تاریکی میں ہی غوطہ زن رہیں جوزندگی کے شعور اور فرد کو سماجی وابستگی کے تئیں حساس بنانے کے امکان کو مسدود کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ کتاب خوانی کے فروغ کے عنوان سے منعقد ہونے والے سرکاری پروگرام کے نام نہاد تعلیم یافتہ شرکا کتاب کھلی رکھ کر موبائل چلانے میں عار نہیں محسوس کرتے۔ کتاب بیزاری کا یہ رویہ ان لوگوں میں بھی گھرکرتا جا رہا ہے جن کی عملی زندگی کا بنیادی مقصد ہی دوسروں کو مطالعے کی ترغیب عطا کرنا ہے۔ اس گروہ میں اب ایسے لوگوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے جو اپنے اطراف میں کتابوں کی الماریاں سجانے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن ان الماریوں میں قید کتابوں سے اس حد تک بیگانہ ہوتے ہیں کہ کتابیں ان کی عدم توجہی پر ماتم کرتی ہیں۔
عالمی یوم کتاب کو رسمی طور پر منانے والوں سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ کم از کم اس دن تو کتابوں سے اخلاص برتیں اور صرف اسی دن ہی نہیں بلکہ ہر دن اپنے ذوق مطالعہ کی تسکین کے لیے کتابوں کی ورق گردانی کریں جس سے علم و آگہی کا رزق حاصل ہوتا رہے۔