تعلیم کے بنیادی مقصد پر زور دینے کے بجائے بیشتر والدین صرف امتیازی نمبرات کے حصول پر ہی سارا زور دیتےہیں اوران امتحانی نتائج کی تشہیر بھی کرتے ہیں ۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 7:51 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai
تعلیم کے بنیادی مقصد پر زور دینے کے بجائے بیشتر والدین صرف امتیازی نمبرات کے حصول پر ہی سارا زور دیتےہیں اوران امتحانی نتائج کی تشہیر بھی کرتے ہیں ۔
ان دنوں ملک گیر سطح پر اسکول اور کالج کے تعلیمی ماحول میں وہ گہماگہمی ہے جو نئے تعلیمی سال کے آغاز میں طالب علم، اسکول یا کالج کا تدریسی و غیر تدریسی عملہ اور والدین تینوں کو بہ یک وقت مصروف رکھتی ہے۔ بعض ریاستی سطح کے بورڈ امتحانات اور سی بی ایس ای جیسے مرکزی بورڈ کے نتائج نکل چکے ہیں۔ ان امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ اپنے تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھانے کیلئے نئے کورس یا درس گاہ میں داخلے کیلئے کوشاں ہیں اور ان کی اس کوشش میں ان کے والدین یا سرپرست بھی حسب استطاعت تگ و دو میں مصروف ہیں۔
فی الوقت تعلیم کا سماجی عمل جس سانچے میں ڈھل چکا ہے اس نے طالب علم پر اضافی دباؤ اور ودالدین کی توقعات کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ تعلیمی مراحل کی تکمیل میں آئے دن نئی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ یہ پیچیدگیاں طالب علم کی ذہنی صلاحیت اور والدین کی اقتصادی صورتحال دونوں کو متاثر کر رہی ہیں اور اس کے سبب ان کے باہمی روابط میں ایسے نفسیاتی مسائل پیدا ہورہے ہیں جو اس رشتے سے یقین و اعتماد اور محبت و ہمدردی کی مقدار کو کم کر رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اب بیشتر والدین اپنے بچوں کی تعلیم کو سماجی رتبہ کی اس علامت کے طور پر دیکھنے لگے ہیں جو معاشرے میں انھیں امتیازی حیثیت عطا کرتی ہے۔ ہرسال مارچ تا جون والدین کے اس رجحان کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا ہے اور جب سے سوشل میڈیا تک رسائی آسان ہوئی ہے اس رجحان کے اظہار کو مزید موثر اور دلکش بنانے کی تدابیر کی جارہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: طاقت کے زعم میں مبتلا حکمرانوں کو عوامی مسائل کی پروا نہیں
ایک طالب علم کی زندگی میں دسویں اور بارہویں کے بورڈ امتحانات میں امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کرنے کی خاص اہمیت ہوتی ہے۔ یہ مراحل نہ صرف ان کی تعلیمی لیاقت کو نئے چیلنجز قبول کرنے کا اہل بناتے ہیں بلکہ اسی دور میں ان کے اندر وہ نفسیاتی اور فکری تبدیلیاں بھی رونما ہو تی ہیں جو ان کی سماجی وابستگی پختگی عطا کرتی ہیں۔ اس مرحلے سے بہ حسن و خوبی گزرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی فطری نشو ونما کے عمل کو ان پیچیدگیوں سے محفوظ رکھا جائے جو تعلیم کو سماجی رتبہ کی علامت سمجھنے کے رجحان کے سبب انھیں اضافی دباؤ میں مبتلا کر سکتی ہیں۔ یہ رجحان کچھ تو والدین کے اس خودساختہ تصور کا زائید ہ ہے جو اپنے بچوں کی تعلیم کو اپنے سماجی امتیاز کا وسیلہ سمجھتا ہے اور کچھ اسکولوں کے اس تعلیمی ماحول کا نتیجہ ہے جو طالب علم کی تعلیمی لیاقت کو بڑھانے سے زیادہ اس کے امتحانی نتائج کو مد نظر رکھتا ہے۔ ملک کے بیشتر تعلیمی ادارے جو طالب علم کیلئے معیاری تعلیم کی فراہمی کا دعویٰ کرتے ہیں ان اداروں میں طلبہ کے امتحانی نتائج کی تشہیر اس طور سے کی جاتی ہے جو ان کے دعوے کو سچ ثابت کر تی ہے لیکن اس دعوے کی اصل حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے زیادہ تر طلبہ اپنی تعلیمی استعداد کو بڑھانے کیلئے ٹیوشن کا سہارا لیتے ہیں۔ معیاری تعلیم کے نام پر اسکول یا کالج کو مہنگی فیس دینے والے والدین اپنے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے اپنے سماجی رتبہ کو پرشکوہ بنانے کیلئے مہنگے ٹیوشن کا بندو بست بھی چار و ناچار کرتے ہیں اور پھر ان کی توقعات میں اس قدر اضافہ ہو جاتا ہے جو طالب علم کو اضافی دباؤ میں مبتلا کرد یتا ہے۔ اس دباؤ کے سبب طالب علم کا حتمی مقصد ان نمبرات کا حصول ہو جاتا ہے جسے فیصد کی شکل میں بتا کر وہ اور اس کے اہل خانہ فخر و مباہات کا مظاہرہ کر سکیں۔ امتیازی نمبرات حاصل کرنا یقیناً طالب علم کی محنت کا ثمرہ ہوتا ہے لیکن یہ محنت اب جس طور سے انجام دی جارہی ہے اس میں علم کے حصول کو ثانوی اور مشینی عمل کی صورت امتحان دے کر امتیازی نمبرات کے حصول کو ترجیح حاصل ہو گئی ہے۔ جبکہ تعلیم کا بنیادی مقصد طالب علم کی ہمہ گیر ترقی اور فکر وعمل کی سطح پر اسے ان اوصاف سے مزین کرنا ہے جو اس کی شخصیت کو ایک ذمہ دار اور حساس شہری کے سانچے میں ڈھال سکے۔ تعلیم سے وابستہ اس بنیادی مقصد پر زور دینے کی بجائے بیشتر والدین صرف امتیازی نمبرات کے حصول پر ہی سارا زور دینے لگے ہیں اور اپنے بچوں کے امتحانی نتائج کی تشہیر اکثر اس انداز میں کرتے ہیں جو ان کے فکری سطحی پن کو نمایاں کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راگھو چڈھا نے’’ فارمولہ‘‘ تو سمجھ لیا لیکن ’’ مساوات‘‘ پر مات کھا گئے
والدین اور بعض اساتذہ کے ذریعہ طالب علم کے دسویں اور بارہویں کے امتحابی نتائج کو فخریہ بیان کرنا تو پھر بھی غنیمت ہے لیکن اب اس رجحان کا دائرہ اس قدر وسیع ہو گیا ہے کہ چھوٹے کلاس میں پڑھنے والے طلبہ بھی اس کی زد میں آ گئے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اب نرسری اور پہلی و دوسری جماعت میں پڑھنے والے طلبہ کے امتحانی نتائج کی تشہیر بھی بڑے پر شکوہ اندا ز میں کی جاتی ہے۔ یہ رجحان طلبہ کو ابتدائی دور ہی سے ایسے اضافی دباؤ میں مبتلا کر دیتا ہے جو ہمہ وقت انھیں صرف امتیازی نمبرات کی دھن میں مگن رکھتا ہے اور اس دھن میں مگن طلبہ بعض اوقات ایسی تدابیر بھی کرتے ہیں جنھیں تعلیمی اخلاقیات کی رو سے معیوب سمجھا جاتا ہے۔ امتحانی نتائج کو سماجی رتبہ کی علامت سمجھنے کا رجحان طلبہ اور ان کے والدین کو ہمہ وقت مضطرب رکھتا ہے اور اس اصطراب میں اضافہ بعض اوقات ایسے نفسیاتی مسائل کے پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے جن کا تدارک آسان نہیں ہوتا۔