Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسکولوں کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کیلئے اچھی پہل

Updated: August 01, 2026, 9:49 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai

گزشتہ دنوں تمل ناڈو سرکار نے ایک سرکیولر جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں میں سیاسی افراد داخل نہیں ہو سکتے، نہ ہی وہاں کسی لیڈر کی سالگرہ کی تقریب کا اہتمام کیا جائے گا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

تعلیمی نظام کو متاثر کرنے والے تشویش ناک مسائل میں ایک بڑا مسئلہ تعلیمی مراکز میں وہ بیجا سیاسی مداخلت ہے جو ان مراکز کے تعلیمی ماحول کو آلودہ کر رہی ہے۔ تعلیمی مراکز میں سیاسی مداخلت کا یہ معاملہ بھی اسی سیاست کا زائیدہ ہے جو عوامی زندگی سے متعلق تمام اداروں کو اپنے سیاسی ایجنڈے کی تشہیر کا مرکز بنانے کو ترجیح دیتی ہے۔ گزشتہ بارہ برسوں سے مرکز میں برسر اقتدار پارٹی نے فلاحی و ترقیاتی منصوبوں کی تعمیل میں اتنی سنجیدہ دلچسپی کا مظاہرہ کم ہی کیا ہے جتنی دلچسپی ان منصوبوں کو روبہ عمل لانے والے اداروں کے توسط سے اقتدار کی ثناخوانی کے مواقع پیدا کرنے میں دکھائی ہے۔ ملک کا تعلیمی نظام اقتدار کے اس طرز عمل سے مبرا نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ اب تعلیمی مراکز میں معیاری تعلیم اور طلبہ کی فہم و دانش میں ترقی کو یقینی بنانے والی فضا تعمیر کرنے پر توجہ کم ہی دی جاتی ہے جبکہ اقتدار کے دھرم آمیز سیاسی ایجنڈے کی تشہیرکیلئے پورا عملہ ہمہ وقت آمادہ ٔ کار رہتا ہے۔ یہ صورتحال سرکاری، نیم سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ سرکاری اور نیم سرکاری تعلیمی اداروں کے ذمہ داران نے اقتدار کی خواہش کے احترام کو خود پر واجب قرار دے دیا ہے اور پرائیویٹ اداروں کی مجبوری یہ ہے کہ اگر وہ اس خواہش کے برعکس عمل کریں توارباب اقتدار مختلف قسم کے محکمہ جاتی ضابطوں میں محصور کرکے ان اداروں کے مالکان کے مالی مفادپر قد غن لگا سکتے ہیں۔ تعلیمی نظام پر سیاسی غلبہ کے اس ماحول میں تمل ناڈو حکومت نے اسکولوں کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کیلئے جو احکام جاری کیا ہے وہ یقیناً لائق ستائش ہے۔ 
تمل ناڈو میں وجے تھلاپتی کی سربراہی والی حکومت میں اسکولی تعلیم کے وزیر راج موہن نے گزشتہ دنوں ایک سرکیولر جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں میں سیاسی افراد داخل نہیں ہو سکتے، نہ ہی کسی سیاسی لیڈر کے یوم ولادت کی تقریب کا اہتمام اسکولوں میں کیا جائے گا۔ سرکیولر کے ذریعہ حکومت نے اسکولوں میں سوشل میڈیا ریل بنانے پر بھی پابندی لگائی ہے اورصرف ان منتخب عوامی نمائندوں کو اسکولوں میں جانے کی اجازت دی گئی ہے جن کا کسی سرکاری ڈیوٹی کے تحت اسکول میں جانا ضروری ہو۔ اس سرکیولر میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ اسکول کسی شخص کی تعریف و ستائش کیلئے نہیں بلکہ یہ طلبہ کے سیکھنے کے مراکز ہیں۔ ملک گیر سطح پر سرکاری اسکولوں کی صورتحال کے تناظر میں یہ فیصلہ تمل ناڈو حکومت کی اس سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے جس کا مقصد اسکولی تعلیم کے معیار کو اس ترقی سے ہمکنار کرنا ہے جو طلبہ کی علمی صلاحیت کو جلا بخشنے میں مدد گار ثابت ہو۔ ایسا بھی نہیں کہ اس ریاست میں سرکاری اسکولوں کی کارکردگی ملک کی ان ریاستوں کی مانند ہے جہاں سرکاری اسکولوں کے حالات دن بہ دن بدتر شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ملک کی وہ ریاستیں جہاں زندگی کے تقریباً ہر معاملے میں فرقہ واریت کو ترجیح حاصل ہو گئی ہے ان ریاستوں میں سرکاری اسکولوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کے بجائے حکومت اسکولوں کو بند کرنے میں زیادہ دلچسپی دکھا رہی ہے۔ ان ریاستوں میں حکومت کے اس رویے ہی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ان ریاستی حکومتوں کے نزدیک تعلیم کو کیا حیثیت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بے حس سماج کی خیر خواہی اب بے کار اور بے مقصد ہے

ان ریاستوں کے مقابلے تمل ناڈو میں سرکاری اسکولی تعلیم کا منظرنامہ قدرے حوصلہ افزا ہے۔ اس ریاست میں ۵۷؍ ہزار ۵۶۶؍سرکاری اسکولوں میں ۱ء۲۴؍ کروڑ طلبہ زیر تعلیم ہیں جن کیلئے ۵ء۶۹؍ لاکھ اساتذہ مقرر کئے گئے ہیں۔ یہاں ۲۲؍ طلبہ پر ایک استاذ کا تناسب ہے جو قومی تناسب ۲۴؍ طلبہ پر ایک استاذ سے قدرے بہتر ہے۔ ریاست گیر سطح پر اوسطاً ہر اسکول میں ۲۱۵؍ طالب علم ہیں جن کیلئے ۱۰؍ اساتذہ مقرر ہیں جبکہ قومی سطح پر ایک اسکول میں ۱۶۹؍ طلبہ کا تناسب ہے اور ان اسکولوں میں تدریس پر مامور اساتذہ کی تعداد کا معاملہ اس قدر تشویش ناک ہے کہ بعض اسکولوں میں صرف ایک یا دوٹیچر پہلی تا پانچویں یا پہلی تا آٹھویں جماعت کے طلبہ کو پڑھاتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں داخلہ لینے اور دوران تعلیم اسکول چھوڑنے والے طلبہ کے تناسب کے معاملے میں بھی تمل ناڈو قومی تناسب سے قدرے بہتر ہے۔ ایسے اطمینان بخش تعلیمی ماحول کو مزید بہتر بنانے کی غرض سے ریاستی حکومت نے جو احکام جاری کیا ہے وہ اسکولی تعلیم کو طلبہ مرکوز بنانے نیز تعلیمی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ ریاستی حکومت کے اس فیصلے کو مزید مفید بنانے کیلئے ہر سطح کے تعلیمی اداروں کو اس احکام کا پابند بنایا جا سکتا ہے کیونکہ صرف اسکول ہی نہیں بلکہ کالج اور یونیورسٹی میں بھی سیاسی مداخلت کا دائرہ وسیع تر ہو تا جارہا ہے جو طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کو مختلف طریقوں سے متاثر کر رہا ہے۔ 
اسکولوں سے متعلق تمل ناڈو حکومت کے اس فیصلے کو بعض افراد تلافی مافات کا عنوان دے رہے ہیں کیونکہ گزشتہ ماہ ریاست کے کچھ اسکولوں میں وزیر اعلیٰ کے یوم ولادت کی تقریب منعقد کی گئی تھی جس پر مدراس ہائی کورٹ نے حکومت سے وضاحت طلب کی تھی۔ اگر حکومت کا حالیہ فیصلہ تلافی مافات ہی ہے تو بھی اس کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ یہ فیصلہ اسکولوں کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے امر کو یقینی بناتا ہے۔ ملک گیر سطح پر تعلیمی مراکز کو جس طرح اقتدار کی مدح سرائی اور حکومت کے نام نہاد ترقیاتی اقدامات کی تشہیر کا پلیٹ فارم بنا دیا گیا ہے اس کے تناظر میں اس فیصلے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK