سونم وانگ چک کے احتجاج پر عوام کا جو امتیازی رویہ نظر آ رہا ہے وہ یہ واضح کرتا ہے کہ ان کی فکروں پر ایسے مصنوعی اور عارضی موضوعات کا غلبہ ہو چکا ہے جو عوام کی زندگی کے بنیادی مسائل کو بھی مخصوص سیاسی و مذہبی چوکھٹے میں رکھ کر دیکھنے اور پھر اس ناقص مشاہدہ کی بنیاد پر عمل کرنے کی تحریک عطا کرتی ہے۔
ایک ساٹھ سال کا بوڑھا شخص گزشتہ ۲۰؍ دنوں سے دہلی کے اسی جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کر رہا ہے جہاں ۱۵؍سال قبل ہوئے احتجاجی مظاہرے کو تاریخی قرار دیا گیا تھا ۔ انا ہزارے کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا اصل مقصد اب بہت کچھ عیاں ہو چکا ہے۔ ان مظاہروں نے اقتدار پر ایسے عناصر کو قبضہ جمانے میں مدد فراہم کی جو کسی بھی معاملے یا مسئلے پر عوام کے اختلاف یا احتجاج کی مطلق پروا نہیں کرتے۔ گزشتہ دس بارہ برسوں میں بارہا یہ دیکھا گیا کہ جب عوام نے کسی بھی موضوع پر اقتدار سے اختلاف اور عوام کے تئیں اس کی جوابدہی کو یقینی بنانے کا جتن کیا تو انھیں ہراساں کرنے اور قانونی پیچیدگیوں میں الجھانے کے مختلف حربے استعمال کئے گئے۔ ان حالات سے دو چار ہونے کے بعد عوام کو اب یہ احساس ہو چلا ہے کہ اس وقت ’میں بھی انّا‘کی ٹوپی پہن کر اقتدار کی بدعنوانی کے خلاف جس جوش و خروش کا مظاہرہ کیا گیا تھا اس میں اس دور اندیشی کا فقدان تھا جو نظام میں کسی مثبت تبدیلی اور عوام دوست ماحول کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ’میں بھی انا‘ کی ٹوپی پہننے والوں کوا ب یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ انھیں یرقانی عناصر کی تیار کردہ ایسی ٹوپی پہنائی گئی تھی جس نے ان کے مغز سے وہ جوہر ہی نچوڑ لیا ہے جو انسان کو سماج کے تئیں حساس بناتا ہے اور اسے وہ قوت عطا کرتا ہے کہ اقتدار کی من مانی اور بیجا ضد کے خلاف آواز بلند کرنے میں تمام تعصبات و تحفظات سے بالاتر ہو کر صرف سماج کی ترقی اور خوشحالی کو پیش نظر رکھے۔
سونم وانگ چک کی زندگی اخلاص و ایثار کی ایسی روداد ہے جو ملک و معاشرہ کی ترقی و خوشحالی کو ہمہ وقت پیش نظر رکھتی ہے۔ انھوں نے لداخ کی برفیلی فضاؤں میں عوام کے دلوں میں تعلیم اور تحفظ ماحولیات کی جو حرارت پیدا کی ہے وہ مادر وطن سے ان کی بے لوث محبت و عقیدت کی مظہر ہے۔ ملک ہی نہیں بیرون ملک میں بھی ان کی مساعی کی پذیرائی ہوئی اور اس وقت بھی وہ جس اہم موضوع پر اقتدار کی توجہ ملتفت کرانا چاہتے ہیں اسے ملک و معاشرہ کی خوشحالی و ترقی میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ نظام تعلیم میں شفافیت از بس کہ لازم ہے لیکن جب اس محکمے کی بدعنوانی اس مقام پر پہنچ جائے کہ طلبہ کی برسوں کی محنت متواتر پیپر لیک کی نذر ہونے لگے اور اس مسئلے پر ارباب اقتدار کی مثالی بے پروائی معمول بن جائے تو اس پر پورے سماج کو بیدار اور متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ۸۰؍ سے زائد ایسی وارداتیں ہو چکی ہیں جن کی زد پر آنے والے طلبہ مایوسی، اضطراب اور بے بسی کی اس کیفیت میں مبتلا ہوئے جس نے ان کے مستقبل اور ان کی صلاحیت دونوں پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ طلبہ کو اس کیفیت سے آزاد رکھنے اور ملک کے نظام تعلیم میں شفافیت کو یقینی بنانے کی خاطر اب سونم وانگ چک تمام تر نقاہت کے باوجود اگر میدان میں جمے ہیں تو ان کا ساتھ اسی جوش و خروش سے دیا جانا چاہیے جس کا مظاہرہ اب سے پندرہ برس قبل کیا گیا تھا، تاکہ اقتدار ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے پر آمادہ ہو جائے۔
یہ بھی پڑھئے: مظاہروں پر آہنی شکنجہ، جوابدہی کا فقدان اور تیزی سے ختم ہوتی ہوئی جمہوریت
سونم وانگ چک کے احتجاج پر عوام کا جو امتیازی رویہ نظر آ رہا ہے وہ یہ واضح کرتا ہے کہ ان کی فکروں پر ایسے مصنوعی اور عارضی موضوعات کا غلبہ ہو چکا ہے جو عوام کی زندگی کے بنیادی مسائل کو بھی مخصوص سیاسی و مذہبی چوکھٹے میں رکھ کر دیکھنے اور پھر اس ناقص مشاہدہ کی بنیاد پر عمل کرنے کی تحریک عطا کرتی ہے۔ ایسی ہی فکر عوام کوکسی حساس مسئلے کے اسباب اور ان اسباب کے ممکنہ تصفیہ پر سنجیدگی سے غور کرنے سے محروم کر دیتی ہے۔ نظام تعلیم میں شفافیت کو یقینی بنانے اور اس اہم و حساس موضوع پر اقتدار کی ذمہ داری کو طے کرنے کے سلسلے میں وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ اسی لئے موثر نہیں ثابت ہو پا رہا ہے کہ بے حس عوام اور مردہ ضمیر میڈیا کے نزدیک اس موضوع کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔
سونم وانگ چک کی امید کہ ان کے احتجاج کو وسیع پیمانے پر اسی جوش و خروش کا سہارا ملے گا جو اب سے پندرہ برس قبل نام نہاد تاریخی مظاہرے کو ملا تھا اور یہ توقع کہ وہ اقتدار کو اپنے جائز و عوام دوست مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادہ کر لیں گے، دونوں فی الحال غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں ۔ عوام کے ذہنوں کو علم و دانش کی رمق سے منور کرنے کے جتن میں مصروف وانگ چک نے شاید اس تلخ حقیقت کو فراموش کر دیا کہ احتجاج کے دوران سیکڑوں کی تعداد میں مرنے والے کسانوں کی موت پر جس اقتدار کا دل نہیں پسیجا تھا وہ اب ان کے مطالبات پر کیوں کان دھرے گا؟عوام کی زندگی سے وابستہ اہم و حساس معاملات پر اقتدار کی جوابدہی طے کرنے میں ملک و معاشرہ کے تئیں عوام کی حساسیت و بیداری کا اہم رول ہوتا ہے لیکن اس وقت ماحول پر جو حبس ناکی اور عوام کے دلوں پر جو پژمردگی طاری ہے اس نے عوام اور اقتدار کے باہمی روابط کی نوعیت ہی تبدیل کر دی ہے۔ اس تبدیلی نے اقتدار کو عوامی مسائل سے یکسر بے پروا بنا دیا ہے اسی لئے پیپر لیک کے سبب خودکشی کرنے والے طلبہ کی موت پر ہائے واویلا بھی عارضی ثابت ہوتا ہے۔ نوجوان طلبہ کو ایسے انتہائی اقدام سے محفوظ رکھنے نیز نظام تعلیم میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے اپنے چند حامیوں کے ساتھ سونم وانگ چک جس عز م و استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ قابل تعریف تو ہے لیکن بے حس سماج میں ان کی آواز نقار خانہ میں طوطی کی آواز بن کر رہ گئی ہے۔