تعلیمی سال ہمیں ایک محدود نصاب کا اسیر اور پابند کردیتا ہے، مگر یہ چھٹیاں ہمیں اس دائرہ سے باہر نکلنے کا موقع دیتی ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب آپ اپنا ’’پرسنل سلیبس‘‘ (ذاتی نصاب) خود بنا سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: April 05, 2026, 9:12 PM IST | Syed Khushnaz Jafar Hussain | Mumbai
تعلیمی سال ہمیں ایک محدود نصاب کا اسیر اور پابند کردیتا ہے، مگر یہ چھٹیاں ہمیں اس دائرہ سے باہر نکلنے کا موقع دیتی ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب آپ اپنا ’’پرسنل سلیبس‘‘ (ذاتی نصاب) خود بنا سکتے ہیں۔
جو سویا وہ کھویا، جو جاگا وہ پایا۔
دو مہینے یعنی ساٹھ دن، انہی ساٹھ دنوں میں کچھ لوگ اپنی زندگی بدل لیتے ہیں، جبکہ کچھ صرف وقت گزار دیتے ہیں۔ مئی کی آمد کے ساتھ ہی طلبہ کے ذہن میں ایک لفظ چراغاں کر دیتا ہے: ’’چھٹیاں !‘‘
یہ لفظ بظاہر خوشی، آزادی اور سکون کی علامت ہے، مگر کیا ہم نے کبھی اس میں چھپے امکانات پر غور کیا ہے؟ کیا یہ محضآرام کا وقفہ ہے، یا پھر زندگی کا وہ نادر عرصہ جس میں انسان خود کو نئے سرے سے تلاش سکتا ہے، تراش سکتا ہے؟
ایک معلمہ کی حیثیت سے میرا مشاہدہ ہے کہ اکثر طلبہ ان دنوں کو کتابوں سے وقتی نجات سمجھ کر گزار دیتے ہیں، حالانکہ یہ وقت تعلیم کا ایک خاموش مگر طاقتور ’’تھرڈ سمیسٹر‘‘ ہوتا ہے، ایسا سمیسٹر جہاں نہ کوئی امتحان ہوتا ہے اور نہ کوئی نمبر، مگر سیکھنے والا روز بہ روز خود کو بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ تعطیلات تعلیم کا ایک غیر رسمی ’تھرڈ سمیسٹر‘ ہیں، جن میں طالب علم خود اپنا معلم اور اپنی کامیابی کا معمار بنتا ہے۔ کبھی کبھی زندگی کی سب سے بڑی سیکھ کسی کلاس روم میں نہیں، بلکہ گھر کے بزرگوں کے ساتھ وقت گزارنے، ان کی باتیں سننے اور ان کی کہانیوں سے سیکھنے میں چھپی ہوتی ہے۔
تعلیمی سال ہمیں ایک محدود نصاب کا اسیر اور پابند کردیتا ہے، مگر یہ چھٹیاں ہمیں اس دائرہ سے باہر نکلنے کا موقع دیتی ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب آپ اپنا ’’پرسنل سلیبس‘‘ (ذاتی نصاب) خود بنا سکتے ہیں۔ اس سلیبس میں کتابی علم کے ساتھ ساتھ وہ مہارتیں شامل کی جائیں گی جو آنے والے وقت میں آپ کی اصل پہچان بنیں گی۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ چھوٹے لمحات کچھ نہیں بدلتے، تو یاد رکھیں کہ مسلسل محنت اور وقت کا درست استعمال ہی انسان کو آگے لے جاتا ہے۔ فارغ وقت کو ضائع کرنے کے بجائے اسے اپنی بہتری کے لیے استعمال کرنا ہی اصل کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔
آج کا دور صرف ڈگری کا نہیں بلکہ اسکل کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس چھٹی کو ’’مائیکرو لرننگ‘‘ کا موقع بنائیں یعنی روزانہ تھوڑا سیکھیں مگر مسلسل سیکھیں۔ کیونکہ بڑی کامیابی مستقل چھوٹے قدموں میں ہے۔ چاہے وہ ڈیجیٹل اسکلز ہوں جیسے گرافک ڈیزائننگ، کوڈنگ یا ڈیٹا مینجمنٹ، یا پھر زبان سیکھنا، یہ سب مستقبل میں کی جانے والی سرمایہ کاری ہے۔ یہ وقت Consumerبن کر معلومات استعمال کرنے کا نہیں بلکہ Creator بن کر کچھ نیا تخلیق کرنے کا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مسائل سے انکار اور اپوزیشن کو موردِ الزام ٹھہرانے والا رویہ
موبائل فون کے بارے میں یاد رکھئے کہ یہ آپ کا سب سے بڑا دشمن بھی بن سکتا ہے اور سب سے بہترین استاد بھی۔ اگر آپ اسے صرف تفریح تک محدود رکھیں گے تو یہ آپ کو پیچھے لے جائے گا، لیکن اگر آپ اسے سیکھنے کا ذریعہ بنائیں گے تو یہی آپ کو آگے بڑھائے گا اور راستہ دکھائے گا۔ مسلسل سیکھنے کی عادت ہی انسان کو کامیابی کی بلندی تک پہنچاتی ہے۔
ایک طالب علم وہ ہے جو چھٹیاں ختم ہونے پر کہتا ہے: ’’وقت کہاں گزر گیا؟‘‘
اور دوسرا وہ ہوتا ہے جو کہتا ہے: ’’میں بدل گیا۔ ‘‘ کیا آپ اپنی چھٹیوں کے اختتام پر خود کو پہچان بھی پائیں گے؟
چھٹیاں صرف اپنی ذات تک محدود رہنے کا وقت نہیں، بلکہ سماج کے لیے کچھ کرنے کا موقع بھی ہیں۔ اپنے محلے کے کسی پسماندہ بچے کو پڑھانا، کسی فلاحی تنظیم کے ساتھ کام کرنا، یا ماحولیاتی مہمات میں حصہ لینا یہ سب وہ تجربات ہیں جو آپ کو ایک بہتر انسان بناتے ہیں۔ کیونکہ جب ایک طالب علم بدلتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں، ایک خاندان، ایک معاشرہ اور ایک مستقبل بدلتا ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ آرام تضیع وقت نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔ جسمانی اور ذہنی صحت کے بغیر کوئی کامیابی ممکن نہیں۔ اس لیے اپنی روزمرہ زندگی میں کوئی نہ کوئی جسمانی سرگرمی شامل کریں چاہے وہ چہل قدمی ہو، یوگا ہو یا کوئی کھیل۔ اس کے ساتھ کسی ایسے مشغلے کو اپنائیں جو آپ کے دل کو سکون دے، جیسے مصوری، باغبانی یا موسیقی۔ اگر آپ اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو یہ وقت کریئر کو سمجھنے کا بھی بہترین موقع ہے۔ مختلف شعبوں کے لوگوں سے بات کریں، ان کے تجربات سنیں، اور اگر ممکن ہو تو کسی کے ساتھ چند دن کام کو Observe کریں۔ یہ تجربہ کسی بھی کتاب سے زیادہ سکھا سکتا ہے۔
اپنی چھٹیوں کو بامقصد بنانے کے لیے ایک سادہ اصول اپنائیں، ہر دن اپنے لیے تین کام ضرور کریں :
اپنے مستقبل کے لیے (پڑھائی یا ہنر)،
اپنے جسم کے لیے (صحت یا ورزش)، اور
اپنے دل کے لیے (شوق یا سکون)۔
علاوہ ازیں، اپنے خیالات قلمبند کرنے کی عادت ڈالیں، کیونکہ اکثر یہی خاموش لمحے ہمیں اپنی اصل سمت دکھاتے ہیں۔ اور سب سے اہم بات، موبائل کے استعمال کو محدود رکھیں، کیونکہ مسلسل موازنہ (comparison) انسان کی خود اعتمادی کو کمزور کر دیتا ہے۔
اب ذرا خود سے ایک سوال کیجئے: جب آپ نئی کلاس میں داخل ہوں گے، تو کیا آپ وہی پرانے طالب علم ہوں گے؟ یا ایک نئی سوچ، نئی مہارت اور نیا اعتماد آپ کے ساتھ ہوگا؟ یاد رکھیں، چھٹیاں صرف آرام کے لیے نہیں ہوتیں، انسان کو ارتقاء (Evolution) کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دو مہینے آپ کی زندگی کا رخ بدل سکتے ہیں، اگر آپ چاہیں تو۔ فیصلہ آج کریں، کیونکہ کل ہمیشہ دیر سے آتا ہے اور وقت ہمیشہ گزر جاتا ہے۔ اہم یہ نہیں کہ آپ کے پاس کتنا وقت ہے، اہم یہ ہے کہ وقت کا درست استعمال کیسے ہو۔ انتخاب آپ کا ہے، سونا ہے یا جاگنا ہے؟