Inquilab Logo Happiest Places to Work

راگھو چڈھا نے’’ فارمولہ‘‘ تو سمجھ لیا لیکن ’’ مساوات‘‘ پر مات کھا گئے

Updated: April 06, 2026, 4:55 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

’آپ‘ کے جواں سال راجیہ سبھا رکن نے عوامی نمائندگی کا حق تو ادا کیا لیکن پردہ کے پیچھے کھیلی جانے والی سیاست میں شہ اور مات کا کھیل نہیں سمجھ سکے۔

Raghav Chadha is accused of being close to the BJP, which is why he does not directly criticize the central government. Photo: INN
راگھو چڈھا پر الزام ہے کہ وہ بی جے پی سے قریب ہوتے جارہے ہیں، اسلئے وہ مرکزی حکومت پر براہ راست تنقید نہیں کرتے۔ تصویر: آئی این این

سیاست میں کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جو اپنی کم عمری کے باوجود بڑی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ کے ایوانوں تک لے جانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ راگھو چڈھا بھی انہی سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف دہلی کی سیاست میں اپنی پہچان بنائی بلکہ قومی سطح پر بھی ایک مضبوط آواز کے طور پر ابھرے۔ تاہم ان کا سیاسی سفر صرف کامیابیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ حالیہ واقعات نے ان کے کریئر میں ایک نیا موڑ بھی پیدا کیا جب انہیں ان کی ہی پارٹی کی جانب سے راجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ راگھو چڈھا کا شما ر ان لیڈروں میں ہوتا ہے جنہوں نے شروعات سے ہی عوامی مسائل کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔ دہلی اسمبلی سے لے کر راجیہ سبھا تک انہوں نے مہنگائی، تعلیم، صحت، اور شہری سہولیات جیسے اہم مسائل پر آواز اٹھائی۔ ان کی تقریریں عموماً اعداد و شمار اور ٹھوس دلائل پر مبنی ہوتی تھیں جس کی وجہ سے وہ نوجوان طبقے میں خاصے مقبول ہوئے اور سوشل میڈیا پر ان کی تقریر کے کئی کلپ بھی وائرل ہوئے۔ پارلیمنٹ میں ان کی موجودگی نے پارٹی کو ایک نیا چہرہ دیا۔ ایک ایسا چہرہ جو نہ صرف تعلیم یافتہ تھا بلکہ معیشت اور پبلک پالیسی کی گہری سمجھ بھی رکھتا تھا۔ انہوں نے کئی بار حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے اور عوامی مفاد کے معاملات میں حکومت کو جوابدہ بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے جتنے بھی موضوعات اٹھائے اتفاق سے وہ تمام عام آدمی کے مسائل سے جڑے ہوئے تھے۔ ان میں عام بجٹ پر مشورے، مردوں کے لئے پیٹرنٹی لیو (تعطیل)، میٹرو شہروں میں بڑھتے ٹریفک کا مسئلہ، ۲۸؍ دن کا موبائل ریچارج اور اِن کمنگ کال بند کردینے کا مسئلہ، ایئر پورٹ پر ملنے والا مہنگا کھانا اور پانی کی قیمت، گگ ورکرس کے مسائل، بلنک اِٹ کی ۱۰؍ منٹ ڈیلیوری اور اس کی وجہ سے ڈیلیوری بوائز کو ہونے والی شدید پریشانی۔ ان میں سے بہت سے مسائل پر حکومت کی توجہ فوری طور پر مبذول ہوئی اور اس نے اقدامات کئے جیسے ۱۰؍ منٹ ڈیلیوری کا سسٹم بند کیا گیا، ایئر پورٹ پر پانی اور چائے کی قیمت ۱۰؍ روپے ہوئی، سرکاری کینٹین کھولی گئی۔ اس کے علاوہ جو سب سے بڑا موضوع انہوں نے اٹھایا وہ اپنے عوامی نمائندےکا ’رائٹ ٹو ری کال ‘، یعنی اگر اس کی کارکردگی ٹھیک نہیں ہے تو اس عوامی نمائندے کو ہٹادیا جائے۔ ان کے اس مطالبے نےسیاسی و سماجی حلقوں میں کافی ہلچل مچادی تھی اور اس پر کافی دنوں تک بحث بھی ہوئی کیوں کہ اب تک عوامی نمائندوں کی جوابدہی طے کرنے کی بات کسی بھی حلقے سے نہیں اٹھی تھی۔ 
راگھو چڈھا کی اسی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے پارٹی قیادت نے انہیں راجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈر مقرر کیا تھا۔ یہ عہدہ نہ صرف ان کی صلاحیتوں کا اعتراف تھا بلکہ پارٹی کے اندر ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی بھی عکاسی کرتا تھا۔ بطور ڈپٹی لیڈر بھی انہیں بولنے کا کافی اہم وقت ملتا تھا جس کی وجہ سے راجیہ سبھا جیسے اہم فورم پر وہ کھل کر ان مسائل کی جانب توجہ مبذول کروارہے تھے جو براہ راست عام آدمی سےجڑے ہوئے ہیں۔ اس حیثیت میں انہوں نے پارلیمنٹ میں پارٹی کی حکمت عملی کو آگے بڑھانے، اپوزیشن کے ساتھ تال میل پیدا کرنے اور اہم بلوں پر پارٹی کا موقف پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: طاقت کے زعم میں مبتلا حکمرانوں کو عوامی مسائل کی پروا نہیں

لیکن جس طرح سے سیاست میں غیر متوقع کامیابی ملے تو تنازعات بھی ساتھ جڑ جاتے ہیں، ویسا ہی راگھو چڈھا کے ساتھ بھی ہوا۔ راگھو چڈھا کو ایک ایسے ہی تنازع کا سامنا کرنا پڑا جب راجیہ سبھا کی ایک کمیٹی میں نامزدگی کے معاملے پر ان پر الزامات عائد ہوئے۔ اس معاملے نے نہ صرف ان کی ساکھ کو متاثر کیا بلکہ انہیں پارلیمنٹ سے معطل بھی کیا گیا۔ یہ واقعہ ان کے سیاسی کریئر کیلئےبڑا دھچکا ثابت ہوا۔ بعد ازاں پارٹی نے انہیں ڈپٹی لیڈر کے عہدہ سے ہٹا دیا جسے سیاسی حلقوں میں تشویش کی نظروں سے دیکھا گیا۔ اس فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دیا، کیا یہ اقدام صرف ایک رسمی کارروائی تھی یا پارٹی کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ؟ سیاسی جماعتوں میں داخلی سیاست ایک عام امر ہے اورعام آدمی پارٹی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ راگھو چڈھا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کی آزادانہ رائے بعض اوقات پارٹی کے دیگر لیڈروں کیلئے چیلنج بن سکتی تھی۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ ان کی برطرفی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں ہے بلکہ پارٹی کے اندر طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش بھی ہے۔ ان پر یہ الزام بھی لگ رہے تھے کہ وہ بی جے پی سے قریب ہوتے جارہے ہیں۔ اسی لئے وہ مرکزی حکومت پر براہ راست تنقید نہیں کرتے تھے اور بی جے پی کی اعلیٰ لیڈر شپ کو بھی نشانہ نہیں بناتے تھے۔ حالانکہ راگھو نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ 
راگھو چڈھا کی برطرفی پر عوامی ردعمل ملا جلا رہا۔ ایک طرف ان کے حامیوں نے اسے ناانصافی قرار دیا اور کہا کہ ایک فعال اور باصلاحیت لیڈر کو غیر ضروری طور پر نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسری طرف ناقدین کا کہنا تھا کہ پارٹی ہی سب سے اہم ہے۔ اگرچہ راگھو چڈھا کو ایک اہم عہدے سے ہٹا دیا گیا لیکن یہ ان کے سیاسی کیریئر کا اختتام نہیں ہے۔ ہندوستانی سیاست میں ایسے کئی لیڈرگزرے ہیں جنہوں نے مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد مزید مضبوط ہو کر واپسی کی۔ راگھو چڈھا پر ہونے والی تنقید کا اگر قدرے تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو یہ معاملہ صرف ایک عہدے سے ہٹانے تک محدود نہیں بلکہ پارٹی کے اندرونی نظم و ضبط، قیادت کے انداز اور اختلافِ رائے کے سوالات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ راگھو چڈھا اگرچہ عوامی مسائل خاص طور پر مہنگائی، گورننس اور شہری سہولیات کو مؤثر انداز میں پارلیمنٹ میں اٹھاتے رہےلیکن بعض مواقع پر ان کے بیانات اور حکمت عملی پارٹی کی طے شدہ لائن سے مختلف نظر آئے۔ اس وجہ سے پارٹی قیادت کو لگا کہ وہ اجتماعی فیصلوں کے بجائے ذاتی سیاست کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔ پارٹی کے اندر یہ بھی کہا گیا کہ ڈپٹی لیڈر جیسے اہم عہدے پر رہنے والے شخص سے توقع ہوتی ہے کہ وہ قیادت کے فیصلوں کی مکمل نمائندگی کرے اور داخلی اختلافات کو عوامی سطح پر نہ لائے۔ اسی پس منظر میں انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ ’’ڈسپلن قائم رکھنے‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔ 
دوسری طرف ان کے حامیوں اور بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام کسی حد تک سخت تھا اور اس سے پارٹی کے اندر اختلاف رائے کی گنجائش کم ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ ان کے مطابق راگھو چڈھا ایک نوجوان اور متحرک لیڈر ہیں جو عوامی مسائل کو جارحانہ انداز میں اٹھاتے ہیں اور یہی انداز بعض اوقات سینئر قیادت کے لئے غیر آرام دہ ہو جاتا ہے۔ انہیں صرف تنبیہ کرکے چھوڑاجاسکتا تھا۔ ایسے میں راگھو چڈھا کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ثابت کریں، عوامی مسائل پر اپنی توجہ برقرار رکھیں اور ایک ذمہ دار سیاستدان کے طور پر اپنی ساکھ کو بحال کریں۔ ان کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہی ہوگا کہ وہ اس بحران کو ایک موقع میں تبدیل کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK