ایک سال قبل جنوری ۲۰۲۵ء میں سپریم کورٹ نے بھی والدین کی دیکھ بھال سےمتعلق ایک تاریخی فیصلہ سنایا تھا کہ ’’اگر کوئی والدین کی دیکھ بھال سے متعلق لاپروائی کرتا ہوا پایاگیا تو اس سے ساری جائیداد واپس لے لی جائے گی۔ ‘‘
EPAPER
Updated: April 06, 2026, 4:56 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai
ایک سال قبل جنوری ۲۰۲۵ء میں سپریم کورٹ نے بھی والدین کی دیکھ بھال سےمتعلق ایک تاریخی فیصلہ سنایا تھا کہ ’’اگر کوئی والدین کی دیکھ بھال سے متعلق لاپروائی کرتا ہوا پایاگیا تو اس سے ساری جائیداد واپس لے لی جائے گی۔ ‘‘
سماجی قدروں کواستحکام بخشنے کے سلسلے میں گزشتہ دنوں تلنگانہ حکومت نے اسمبلی میں ایک بل منظور کیا ہےجس کی چوطرفہ پزیرائی ہورہی ہے۔ اس بل کی پزیرائی کا مطلب ہے کہ وطن عزیز میں سماجی قدریں ابھی باقی ہیں لیکن اس قانون کی ضرورت یہ بھی بتاتی ہے کہ سماجی قدروں کو بحال رکھنے کیلئے وقت ضرورت ’ڈنڈے‘ کا استعمال بھی ناگزیر ہے۔ اس بل کے تحت ایسے تمام افراد جو اپنے والدین کی مناسب دیکھ بھال نہیں کرتے، اگر ان کے والدین شکایت کرتے ہیں تو ان کی تنخواہ کا۱۵؍ فیصد یا (زیادہ سے زیادہ) ۱۰؍ ہزار روپے ماہانہ کاٹ لیا جائے گا اور وہ رقم ان کے والدین کے اکاؤنٹ میں منتقل کردی جائے گی۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب کسی حکومت کو والدین کی دیکھ بھال کیلئے قانون بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔ تلنگانہ کے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ والدین اور بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال اور فلاح کا ایکٹ موجود ہے، انہوں نے کہا کہ’’ ایک زیادہ مؤثر اور قابل نفاذ نظام کی ضرورت باقی ہے تاکہ خاص طور پر سرکاری اور نجی شعبوں سے تنخواہ لینے والے بچوں کو اپنے زیر کفالت والدین کی دیکھ بھال اور بہبود کیلئے جوابدہ بنایا جا سکے۔ ‘‘
ایک سال قبل جنوری ۲۰۲۵ء میں سپریم کورٹ نے بھی والدین کی دیکھ بھال سےمتعلق ایک تاریخی فیصلہ سنایا تھا کہ ’’اگر کوئی والدین کی دیکھ بھال سے متعلق لاپروائی کرتا ہوا پایاگیا تو اس سے ساری جائیداد واپس لے لی جائے گی۔ ‘‘ اسی طرح نومبر۲۰۲۳ء میں کرناٹک ہائی کورٹ نےایک فیصلے میں کہا تھا کہ ’’ والدین کی دیکھ بھال کرنا بچوں کی ذمہ داری ہے۔ یہ کوئی خیرات کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ بچوں کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ بڑھاپے میں اپنے والدین کی دیکھ بھال کریں۔ ‘‘
والدین کےتئیں غیر ذمہ دارانہ رویوں کا مظاہرہ صرف ہندوستان میں نہیں ہورہا ہے بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی ہورہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ۲۰۲۳ء میں چین کو بھی اس حوالے سے ایک قانون کی ضرورت محسوس ہوئی تھی جس کے مطابق جو بالغ بچے اپنے والدین سے علاحدہ رہیں گے اور والدین سے ملاقات نہیں کریں گے، ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا اور انہیں جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔
آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک بیٹا یا بیٹی اپنے والدین کو اُس وقت جب انہیں ان کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، تنہا چھوڑ دیتا ہے؟ اس سوال کا جواب کوئی ’راکٹ سائنس‘ نہیں ہے کہ سمجھ میں نہ آسکے۔ مشہور محاورہ ’جیسی کرنی، ویسی بھرنی‘ اس کا بہترین جواب ہے جسے ہمارے یہاں مذہبی اور سماجی تائید بھی حاصل ہے۔
کچھ دنوں قبل ہمارے ایک بزرگ، ایک متمول خاندان کا احوال بیان کر رہے تھے، جس میں سارے بچے کامیاب ہیں۔ اس خاندان کے سربراہ کاابھی چند سال قبل انتقال ہوا ہے۔ ان کی اہلیہ ابھی حیات ہیں جو کافی معمر ہوچکی ہیں۔ انہوں نے اپنے دور میں اپنے بچوں کی ’پرورش‘کیلئے کافی کچھ کیا ہے اور بچوں کیلئے کافی جائیدادیں بنائی ہیں۔ گھر کی معمر خاتون کے آنکھ کاکچھ مسئلہ ہوا تو ڈاکٹر نے’موتیا بند‘ کے آپریشن کا مشورہ دیا۔ اس خاندان کیلئے موتیا بند جیسا چھوٹا اور کم خرچ کا آپریشن کرانا کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن اس خاتون کے ایک بیٹے نے اپنی ماں سے ایک عبرت انگیز بات کہی کہ ’’اب آپ کی عمر ہی کتنی بچی ہے، اتنا پیسہ خرچ کرنے کا کیا مطلب ہوگا؟‘‘ کہا جاتا ہے کہ اپنے دور میں اپنے بچوں کیلئے دوسروں کی حق تلفی میں اُس ماں نے بھی اہم کردار نبھایا ہے۔
ہم اور آپ اگر اپنے آس پاس نظر دوڑائیں تو ایسے کئی پریشان حال معمر افراد مل جائیں گے جنہوں نے اپنے دور میں والدین کو پریشان کیا ہوگا۔ مشہور واقعہ ہے کہ ایک بیٹے نے اپنے باپ کے گلے پر ہاتھ رکھا اور انہیں دھکیلتے ہوئے کچھ دور تک لے گیا۔ کچھ دور جاکر باپ اچانک ایک جگہ رُک گیا اور بولا کہ ’اب بس‘۔ بیٹا رک گیا اور پھراپنے باپ کو وہیں چھوڑکر چلا گیا۔ وہاں کچھ اور لوگ تھے۔ باپ کی ’جرأت‘ دیکھ کر وہ حیران رہ گئے، پوچھے کہ آپ نے پہلے ہی یہ بات کیوں نہیں کہی؟ باپ نے کہا کہ جب بیٹے نے میری گردن پر ہاتھ ڈالا تو مجھے اپنا واقعہ یاد آگیا۔ اپنے باپ کے ساتھ میں نے بھی ایسا ہی کیا تھا، اسلئے میں خاموش رہا لیکن اُس جگہ آکر میں نے اسے روک دیا، جہاں تک میں اپنے باپ کو دھکیلتے ہوئے لایا تھا۔
الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اور اس بات پر ہمارا ایمان ہے کہ یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ یہاں جو کچھ بھی ہم کریں گے، اس کا پھل ہمیں آخرت میں ملے گا .... لیکن ہمارے کچھ اعمال ایسے بھی ہیں جن کے نتائج ہمیں دنیا میں ہی مل جاتے ہیں، انہیں اعمال میں سے ایک والدین کے ساتھ ’سلوک‘ کا معاملہ بھی ہے۔ حسن سلوک بچوں میں خوشحالی اور برا سلو ک بدحالی لاتا ہے۔ وہ لوگ خود کو خوش قسمت سمجھ سکتے ہیں جنہیں والدین کی خدمت کا موقع ملتا ہے، وہ اس طرح سے اپنا بڑھاپا خوشحال بناسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’چَیت‘ میں کسان ہی نہیں ، پیڑ، پودے اور پرندے بھی نئے رنگ میں نظر آتے ہیں
بچوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ بڑھاپے میں والدین کی دیکھ بھال کرنا والدین کے ساتھ کوئی احسان نہیں ہے بلکہ اُس قرض کی ادائیگی ہے جو انہوں نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔ ہم اُن کے ساتھ کتنا بھی کچھ کرلیں اور حسن سلوک کا جس قدر چاہیں، مظاہرہ کرلیں، پھر بھی ہم اس قرض کی ادائیگی نہیں کرسکتے جو انہوں نے ہمارے ساتھ کیا ہے اور ہمیں دیا ہے۔ اس کیلئے ہمیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اپنے والدین کی جگہ پرہم خود کو اور اپنی جگہ پر اپنے بچوں کو رکھ کر اندازہ کر سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے اسمبلی میں اس بل کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’والدین کے حقوق کا تحفظ خیر سگالی کے جذبے سے ہونا چاہئے۔ یہ بل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ جب کوئی والدین بے توجہی کا شکار ہوں تو قانون ان کے ساتھ کھڑا ہو۔ ‘‘ خیال رہے کہ وطن عزیز میں اس وقت تقریباً ۷؍ فی صد آبادی۶۰؍ سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی ہے اور۲۰۵۰ء تک یہ تعداد۲۰؍ فیصد پہنچنے کا اندازہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں بزرگوں کی دیکھ بھال کیلئے این جی اوز اور پرائیوٹ اداروں کے تحت ڈیڑھ ہزار سے زیادہ اولڈ ایج ہوم چل رہے ہیں جہاں اپنے بچوں سے دور ۱۵؍ سے۲۰؍ لاکھ معمر افراد رہنے پر مجبور ہیں۔
اتنی بڑی تعداد میں والدین کا اولڈ ایج میں رہنا اُن تمام والدین کیلئے عبرت کا مقام ہے جو اپنے ’دنوں ‘ میں اپنے بچوں کیلئے ’کچھ بھی‘ کر نے کو تیار رہتے ہیں۔ یہ وہ تعداد ہے جو ریکارڈ پر ہے اور جو اولڈ ایج ہوم میں پناہ گزیں ہے۔ اس کے علاوہ ایسے والدین کی تعداد بہت زیادہ ہے جو اپنے ہی گھروں میں ’قید وبند‘ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ملک کی مشہور کپڑا کمپنی ’ریمنڈ‘ کے بانی وجے پت سنگھانیہ اور سہارا کمپنی کے مالک سبرتو رائے کی مثال ہمارے سامنے ہے جنہوں نے اپنے بچوں کیلئے کیا کچھ نہیں کیا اور ان کے بچوں نے اس کے بدلے میں انہیں کیا دیا۔ اسلئے ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں کی پرورش کرتے وقت، ان کی آسائش کا خیال رکھنے کے ساتھ ہی ان کی تربیت کا خاص خیال رکھیں اور ان کیلئے زمین جائیداد بنانےاوربینک بیلنس بڑھانے کیلئے ہر جائز و ناجائز کام کرنے سے احتیاط برتیں۔ آخرت میں یقین رکھنے والے یہ بات جانتے ہیں کہ ان کے ہرعمل کا حساب انہیں خود ہی دینا ہے، خواہ وہ کام انہوں نے کسی کیلئے بھی کیا ہو اور جنہیں آخرت پر یقین نہیں ہے، وہ دنیا میں اس کا انجام دیکھ سکتے ہیں۔
کسی نے کیا اچھی بات کہی ہے کہ ’’ بچوں کیلئے بہت زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر بچے لائق ہوئے تو اپنا انتظام وہ خود کرلیں گے اور اگر نالائق ہوئے تو ایسے بچوں کیلئے ہم کیوں پریشان ہوں ؟‘‘