• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

احتجاج کی ابتدائی کامیابی،الیکشن کمیشن کی پشیمانی اور دہلی پولیس کی عالمی بدنامی

Updated: October 18, 2026, 6:16 PM IST | Asim Jalal | Mumbai

چھوٹے ہوئے ووٹرس کی شمولیت کیلئے مہم، مشین ریڈیبل الیکٹورل لسٹ کی فراہمی، کچھ ریاستوں  میں  بی ایل اوز اور ای آر اوز کے اختیارات کی بحالی وہ اقدامات ہیں  جو مظاہروں کی ابتدائی کامیابی اور الیکشن کمیشن کی پشیمانی کا ثبوت ہیں  ۔

The treatment meted out to protesters in Delhi has caused the Delhi Police to emerge as a blot on the nation’s democracy. Image: INN
دہلی میں مظاہرین کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا ہے، اس کی وجہ سے دہلی پولیس ملک کی جمہوریت کیلئے ایک کلنک بن کر ابھری ہے۔ تصویر: آئی این این

ایس آئی آر کے تعلق سے ۲۳؍ ستمبر کے انڈین ایکسپریس کے انکشاف کے بعد ملک بھر میں جو احتجاج شروع ہوا ہے وہ کچل دیئے جانے کی تمام تر کوششوں  کے باوجود بلا رُکے جاری ہے۔ بظاہر دہلی پولیس نے وزیر داخلہ امیت شاہ کی قیادت میں کام کرتے ہوئے اب تک مظاہروں  کو کوئی فیصلہ کن رُخ اختیار نہیں کرنے دیا مگر یہ صاف ہے کہ نہ صرف چیف الیکشن کمشنر سکتے میں ہیں بلکہ مودی سرکار بھی ڈری ہوئی ہے۔ آہنی پنجوں  سے مظاہروں  کو کچل دینے کی حکمت عملی جہاں   اسی خوف کا نتیجہ ہے وہیں الیکشن کمیشن کے یکے بعد دیگرے یوٹرن بھی مظاہروں  کی جزوی کامیابی کا مظہر ہیں۔ 
الیکشن کمیشن کے یوٹرن، مظاہروں  کی جزوی کامیابی
کاکروچ جنتا پارٹی، بائیں  محاذ کی طلبہ تنظیموں، انڈیا اتحاد اورشہریوں کا احتجاج ۳؍ بنیادی مطالبوں کیلئے ہے۔ اوّل: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ دیں، دوم: ایس آئی آر کو رد کیا جائے، ایس آئی آر سے پہلے کی ووٹر لسٹ بحال کی جائے، اور سوم : الیکشن کمشنروں کی تقرری کا وہ قانون جو حکومت کو اپنی پسند کا الیکشن کمشنر مقرر کرنے کا اختیار دیتا ہے منسوخ کیا جائے۔ بظاہر زائد از ۳؍ ہفتوں سے ان ۳؍ میں سے ایک بھی مطالبہ نہ پورا ہوا ہے، نہ پورا ہونے کی ابھی کوئی امید نظر آرہی ہے اس کے باوجود اب تک کے احتجاج کو لاحاصل یا ناکام نہیں  قرار دیا جاسکتا۔ یہ ان مظاہروں  کا ہی نتیجہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے قدم پیچھے لیتے ہوئے اعلان کیا ہے (۱) جن ووٹرس کو ’منطقی تضاد‘ کے نام پر نوٹس جاری کئے گئے ہیں انہیں ای آر او کے سامنے حاضر ہوکر دستاویز پیش کرنے ضرورت نہیں   ہے بلکہ بی ایل او خود ان کی رہائش گاہ پر جاکر دستاویز حاصل کریں گے، (۲) دہلی میں  بی ایل اوز کو یہ اختیار دیا گیا کہ اگر وہ کسی ووٹر کے تعلق سے مطمئن ہیں  تو اپنی صوابدید پر ایس آئی آر میں ا س کے نام کی شمولیت کو منظوری دے سکتے ہیں، (۳) جن ریاستوں میں  ایس آئی آر مکمل ہو چکاہے، وہاں چھوٹے ہوئے ووٹرس کو دوبارہ انتخابی فہرست میں شامل کرنے کیلئے خصوصی مہم چلائی جائے گی، (۴) ۱۷؍ ریاستوں   میں اسپیشل سمری ریویژن شروع کردیا گیا ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے نہیں  کیا جارہاتھا۔ (اس کے تحت نئے ووٹرس کے ساتھ ساتھ دیگر اہل ووٹرس کو ووٹر لسٹ میں  شامل کیا جائےگا)، اور سب سے بڑا یوٹرن یہ کہ (۵) الیکشن کمیشن نے سیاسی پارٹیوں  کو مشین ریڈیبل ووٹر لسٹ فراہم کرنے کا اعلان کردیاہے۔ یاد رہے کہ’’ووٹ چوری‘‘ کی اصطلاح راہل گاندھی کی دی ہوئی ہے۔ ۲۰۲۴ء میں اس ضمن میں اپنی پہلی پریس کانفرنس کے پہلے سے وہ الیکشن کمیشن سے ووٹر لسٹ کی مشین ریڈیبل پی ڈی ایف فائلیں  مانگ رہے تھے تاکہ ان کے تجزیہ میں  کمپیوٹر کی مدد لی جاسکے اور چوری پکڑی جاسکے مگر کمیشن نے اس سے انکار کیا تھا۔ گیانیش کمار نے اسے ووٹرس کی پرائیویسی کا معاملہ بنا کر پیش کیا اور اسکینڈ کاپی دینے پر ہی مصر رہے۔

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: ملک کے موجودہ حالات میں سرسید احمد خاں اوراُن کے پیغام کی کیا معنویت ہے؟

یوٹرن کے ذریعہ بھی دھول جھونکنے کی کوشش
اگر ملک کا نوجوان اور اپوزیشن اتحاد سینہ سپر ہوکر الیکشن کمیشن کے خلاف دہلی میں   بطور خاص اور ملک بھر میں عمومی طورپر سڑکوں پر نہ اترتا تو الیکشن کمیشن کےحالیہ چند برسوں   کے رعونت آ میز رویہ کو دیکھتے ہوئے ان فیصلوں اور یوٹرن کی امید بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔ احتجاج کے نتیجے میں  یہ جزوی کامیابیاں بلا شبہ مظاہرین کا حوصلہ بڑھانے کا سامان ہیں مگر احتیاط کاتقاضہ یہ ہے کہ غصہ شانت کرنے کی ہر کوشش کو شک کے ساتھدیکھا جائے۔ مثال کے طور پرجن ریاستوں  میں  ایس آئی آر مکمل ہوچکاہے وہاں  چھوٹے ہوئے ووٹر س کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کی مہم پر اطمینان کا اظہار توکیا جا رہا ہے مگر کیا یہ اُس نقصان کی بھرپائی ہے جو ایس آئی آر سے ہوا ہے۔ اس نقصان کو بہار، مغربی بنگال، پڈو چیری اور آسام کے الیکشن تک محدود رکھ کر نہیں دیکھا جاسکتا جہاں   بی جےپی نے کامیابی حاصل کی اوراس کامیابی کا سہرا ایس آئی آر کے سر بندھ رہا ہے۔ بڑا نقصان یہ ہے کہ ایس آئی آر کےبعد ووٹر لسٹ میں دوبارہ شمولیت کی مہم کے بعدجن ووٹرس کے نام انتخابی فہرستوں  میں شامل ہوں گے، وہ ایس آئی آر ۲۰۲۶ء میں  تو نہیں  ہوں گے۔ آج سے ۱۰-۱۵؍ سال بعد اگر پھر کوئی سرپھرا اسی طرح کے ضوابط کے ساتھ ایس آئی آر کا اعلان کرتا ہے تو جن لوگوں یاجن کے والدین کے نام ۲۰۲۶ء کی ایس آئی آرلسٹ میں  نہیں  ہوں گے ان کیلئے اگلی ایس آئی آر میں  اپنے ناموں کی شمولیت مشکل ہوگی۔ اسلئے ایس آئی آر کی منسوخی یا نکالے گئے ناموں  کو ایس آئی آر ۲۶ء میں  ہی شامل کرنے سے کم پر راضی ہونا آنےوالی نسلوں   کے مستقبل کو داؤ پر لگانا ہوگا۔ 
دہلی پولیس کا رویہ اور جمہوریت پر کلنک
کوئی نہیں  جانتاکہ مستقبل کے بطن میں کیا ہے۔ حکومت شاید اس حکمت عملی پر کام کررہی ہے کہ ’’مظاہرین کو تھک لینے دو، کب تک احتجاج کریں  گے۔ ‘‘ ساتھ ہی مظاہروں  کو روکنے کیلئے جو طریقہ کار اختیار کیا جارہاہے اس میں  ایک طے شدہ پیٹرن نظر آتا ہے۔ مثال کے طورپر طالبات اور لڑکیاں جو مظاہروں  میں  پیش پیش ہیں، کو ان کی نسوانیت کے حوالے سے نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ وہ مظاہروں  میں  آنے سے ڈریں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK