Inquilab Logo Happiest Places to Work

’نیٹ‘ کا امتحان بھی ’جے ای ای‘ کی طرز پر کئی شفٹوں میں لیا جانا چاہئے

Updated: May 17, 2026, 7:02 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

کیا ہمارےپاس کئی کئی پرچے مرتّب کرنے والے ماہرین نہیں ہیں جونیٖٹ کے ایک سے زائد پرچے مرتّب کر سکیں یا پھر حکومت کی نیّت ہی نہیں ہے کہ یہ امتحان ایمان داری سے منعقد ہو؟

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

دنیا کا تعلیمی نظام مسدّس نُما ہے : طلبہ، اساتذہ، والدین، انتظامیہ، معاشرہ اور حکومت۔ ہمارے ملک کو چھوڑ کر دیگر تمام ممالک میں آخری عنصر حکومت کے بجائے تھِنک ٹینک یعنی اہل فکر، ماہرین یا فکر ساز کابرین پرمشتمل ہوا کرتا ہے۔ ہمارے یہاں اُس کی جگہ سیاستدانوں نے لے رکھی ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ ہمارے یہاں سیاست دانوں کی اکثریت تعلیم سے نابلد ہے۔ اُن کے پاس کوئی ویژن، کوئی منصوبہ اور کوئی فکر نہیں ہے۔ اسی بناء پر آج تعلیمی مسدّس کے سارے عناصر کو حکومت کا عنصر دیمک کی طرح کھائے جا رہا ہے۔ سارے مفکرین اور دانشوران کوئی پالیسی طے کرتے ہیں اور حکومت کا عنصراُس کو یک لخت ویٹو کر دیتا ہے اور اس طرح وہ پالیسی کبھی وجود ہی میں نہیں آپاتی۔ دراصل دنیا بھر میں ہر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملک میں تعلیمی پالیسی ہمیشہ طالب علم پر مرکوز ہوتی ہے۔ ہمارا ملک غالباً واحد ملک ہے جہاں طالب علم کو مرکزیت حاصل نہیں۔ وجہ ؟ ہمارے اَن پڑھ سیاست داں ہیں جن کی نظر میں طلبہ کی بڑی اکثریت نہیں ہے کیونکہ ان کی عمر ۱۸؍ سال سے کم ہے، یعنی اُنہیں ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں، اسلئے طلبہ کو خوش کر کے کچھ فائدہ نہیں ہے۔ 
ایسے میں وہ’ والدین کو خوش کرو‘کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جیسے (الف) آٹھویں تک کوئی امتحان نہیں ( والدین کی ایک بڑی تعداد خوش ہے کہ اس کے بچّے آٹھویں جماعت تک فیل ہی نہیں ہوں گے) (ب) اسکول میں بچّوں کو ہلکی پھلکی ڈانٹ ڈپٹ بھی نہ کریں ( والدین خوش ہیں کہ تعلیمی نظام سے اساتدہ کا دبدبہ ختم ہورہا ہے) (ج) پروفیشنل کو رسیز کیلئے طلبہ کو۲۵؍ فیصد تک اسکالر شپ دی جائے گی (۵۰؍ فیصد سے زائد فیس بڑھا کر یہ فیصلہ کیا گیا)۔ 

یہ بھی پڑھئے: جب سب کچھ جنتا ہی کو کرنا ہے تو سرکار کیا کرے گی؟

تعلیمی محاذ کے اسی اندھیارے میں ہماری حکومت نے سارے مقابلہ جاتی امتحانات کے انعقاد کی بھی ذمہ داری لی ہے اور برسوں سے ان سارے امتحانات میں ہر قسم کی بدعنوانی اور دھاندلی ہو رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سارے معاملات دانستہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ حکمراں پارٹی کے ورکرس یونیورسٹیوں میں چانسلر اور وائس چانسلر مقرر ہو رہے ہیں (ب)پارٹی کے ورکرس ہی’ ماہرین تعلیم‘بن کربیرون ملک جا کرتعلیمی پالیسی کے انعقاد کیلئے اسٹڈی گروپ کی قیادت کر رہے ہیں ( ج )سوِل سروسیز کے امتحان کی اہمیت کو کم کرنے کیلئے لیٹرل انٹری کا چور دروازہ استعمال ہورہا ہے جس سے چور اُچکوں کا بھی تقرر کیا جاسکے۔ 
اب رہا سوال موجودہ زمانے کے تین چارا ہم امتحانات کا جن سے بچّوں کے کریئر کا فیصلہ ہوتا ہے۔ لاکھوں طلبہ ان امتحانات میں شریک ہوتے ہیں۔ بر سہا برس سے والدین ان امتحانات کی تیاری کیلئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ بڑی بڑی قربانیاں دیتے ہیں اور حکومت ان امتحانات کے انعقاد میں کچھ ایسی غیر ذمہ داری اور لاپروائی برتتی ہے کہ ان امتحانات میں شریک ہوئے طلبہ کی۱۰؍ فیصد تعداد کامیاب ہوتی ہے اور ۹۰؍فیصد صرف ذہنی مریض۔ اس سال بھی میڈیکل امتحان نیٖٹ کا پرچہ لیک ہو گیا۔ اب اس تعلق سے تمام حقائق کا جائزہ لیجئے :
(۱) ہر سال ہر بڑے امتحان کا پرچہ لیک یا ظاہر ہو جاتا ہے۔ جب وہ بڑے پیمانے پر ہو جاتا ہے، تب اُس کا واویلا مچ جاتا ہے ورنہ ساری دھاندھلی بڑی راز داری سے ہوتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: دانتے واڑہ کے جنگلوں میں اروندھتی کے ساتھ انجم بھی تھی

(۲) اس سال پر چہ لیک ہونے کی بنا پر حکومت کا فور اًحرکت میں آنے کی وجہ کیا ہوگی ؟ حکومت کی دیانت داری؟ جی نہیں ، حکومتِ وقت کی اب تک کی کار کردگی دیکھ کر ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ حکومت کے ذمہ دار اسلئے تلملائے کہ (الف) اُن کا حصہ کہاں ہے ؟ اس انتہائی اہم امتحان کا پرچہ لیک ہونے کا پورا کر پشن کم و بیش ایک ہزار کرو ڑروپے کا ہے۔ اس میں حکومت کے کارندوں کا حصہ کد ھر ہے ؟ انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا، ایسا کیسے چلے گا؟ (ب) دوم یہ کہ حکومت کے ذمہ داران اس لئے بپھرے ہوئے ہیں کہ ہر سال کی طرح یہ پیپر لیک کا کاروبار خاموشی سے کیوں نہیں کرسکتے؟ جی ہاں الیکٹورل بانڈ اور پی ایم کیئر فنڈ جیسے بڑے بڑے گھپلوں والی اس حکومت کیلئے یہ سب بد عنوانیاں بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ؟ (۳) نیٖٹ، جے ای ای وغیرہ کے امتحانات کے ذریعے طلبہ کو مسلسل ذہنی اضطراب میں مبتلا رکھنا سیاست دانوں کا محبوب مشغلہ ہے۔ اسلئے ہر سال لا کھوں طلبہ اور اُن کے والدین کو شدید ذہنی تنائو کا شکار بنانے کے اربابِ حکومت نت نئے ہتھکنڈے اپناتے رہتے ہیں، مثلاً (الف) کبھی وہ ذمہ داران اعلان کرتے ہیں کہ نیٖٹ/جے ای ای کے لیے این سی آرٹی کا نصاب ہوگا اور عین امتحان کے وقت اعلان کر کے سب کو چونکا دیتے ہیں کہ گیارہویں /بارہویں ریاستی بورڈ کا نصاب بھی شامل ہوگا۔ کچھ روز بعد اپنا یہ حکم نامہ واپس لیتے ہیں (ب) سب سے بڑا غضب ڈھاتے ہیں ان امتحانات کو مرتّب کرنے والے، ہم بار ہا کہتے آئے ہیں کہ ان کی برین میپنگ ہونی چاہیے کہ کون لوگ ہیں اور کہاں کہاں سے آتے ہیں ، کیا اُن کے لاشعور میں اُن کی ناکامیاں پوشید ہ ہیں جن کی بناء پر وہ اس درجہ شدّت پسند بن گئے ہیں کہ وہ اس امتحان میں کسی کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے (ج) اُن امتحانات میں سب سے بڑا غضب وہ ڈھاتے ہیں کہ غلط سوالات مرتّب کرتے ہیں۔ اُن کو حل کرنے میں طلبہ اچھا خاصا وقت (صَرف نہیں بلکہ) ضائع کرتے ہیں۔ ۱۰۔ ۱۵؍سوالات کا وقت ایک غلط سوال کیلئے گنوانے کے بعد وہ کچھ سنبھلنے کی کوشش کرتے ہیں مگر بڑی ذہنی کوفت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ذمہ داران ہنستے کھِلکھِلاتے اعلان کرتے ہیں کہ غلط سوال پر ہرکسی کو پورے نمبر دیئے جائیں گے مگر اُن کو حل کرنے میں ۱۰۔ ۱۵؍ سوالات چھوٹ گئے اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ (د) معروضی سوالات کا عالمی پیمانے پر دستور یہ ہے کہ وہ سوال ایک سے دو سطروں پر مشتمل ہوں مگر یہ ذمہ داران جان بوجھ کر طویل سوالات مرتّب کرتے ہیں جن کے ہر سوال کو پڑھنے میں ایک منٹ، سمجھنے میں دوسرا منٹ، حل کرنے کیلئے تیسرا منٹ اور منفی مارکنگ کے ڈر سے حل کروں یا نہیں طے کرنے میں مزید ایک منٹ اوران معروضی سوالات پر مشتمل امتحان میں ہر سوال کے لئے زیادہ سے زیادہ ۳۰؍ سکینڈ ہی رہتے ہیں۔ اس معاملے میں ایک افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ بائیو لوجی میں چیلنجنگ سوال مرتّب کرنے کے اہل نہیں ہیں، اسلئے اس قسم کے ہتھکنڈے اپناتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: جس مٹی میں کھیل کود کر بچے، بڑے ہوتے ہیں، وہ اُسے کیسے بھول سکتے ہیں؟

(۴) اس مرتبہ نیٖٹ کا امتحان دوبارہ ہوگا۔ پھر کیا ہوگا ؟ اب پر چہ مشکل بنانے کی بھی کوشش ہوگی تاکہ پر چہ لیک کرنے کی خبر کو چھپانہ پانے والوں سے بدلہ لیا جا سکے۔ پرچہ دوبارہ لیک نہ ہو، اس کے لئے کسی احتیاط کی خبر نہیں پڑھی۔ ملک بھر میں ایک دن پہلے پرچہ بھیجا جائے گا۔ کوچنگ کلاسزمافیا منتظر ہے کہ پرچہ کب اور کہاں پہنچ رہا ہے، اُس پر اے آئی سے بھی نظر رکھی جائے۔ علاج تو اس کا یہ تھا کہ کئی پرچے مرتّب ہوں اور جے ای ای کی طرز پر کئی قسطوں میں امتحان لیا جائے۔ پھر رُکاوٹ کیا ہے؟ اوّل تو یہ ہو سکتی ہے کہ کئی کئی پرچے مرتّب کرنے والے ماہرین ان کے پاس نہیں ہیں جونیٖٹ کے کئی کئی متوازن پرچے مرتّب کر سکیں یا پھر حکومت کی نیّت ہی نہیں ہے کہ یہ امتحان ایمان داری سے منعقد ہو یا پھر یہ کہ ذمہ داران یہ خواہش رکھتے ہیں کہ یہ امتحان مکمل طور پر بدعنوانی اورکرپشن کا شکار رہے اور اُنھیں حصہ برابر کا ملتا رہے۔ 
ہم اب زین جی جنریشن سے مخاطب ہیں۔ پورا ملک کرپشن میں مبتلا ہو گیا ہے۔ ہر جگہ، ہر معاملے میں صرف بد عنوانی ہو رہی ہے۔ صرف ایک ریاست سے لگ بھگ ایک کرو ڑووٹروں کو اپنا بنیادی حق ادا کرنے سے روکا گیا ہے۔ امتحان کے پرچے لیک ہو رہے ہیں ، عدالتیں بھی بڑی حد تک مجبور دکھائی دے رہی ہیں۔ نیپال کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ اب کوئی پردھان سیوک جھولا اُٹھاکر جائے، اس سے پہلے اُسے روک لو۔ زین جی! ڈیجیٹل دنیا سے باہر نکلو اور اپنے حق کیلئے غور کرو۔
 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK