• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی احتجاج میں شرپسندوں نے کھلے طور پر قانون کا مذاق اڑایا

Updated: October 18, 2026, 5:37 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai

پولیس پر الزام لگ رہا ہے کہ طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج کو ناکام بنانے کیلئے اس نے سماج دشمن عناصر کی مدد لی اور اُن کے ساتھ تعاون کیا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

چیف الیکشن کمشنر کے ذریعہ مبینہ طور پر اپنے عہدے سے وابستہ آئینی ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے کے خلاف وسیع پیمانے پر ہونے والے احتجاج میں قانون کے محافظوں کے ذریعہ غنڈہ عناصر کی پشت پناہی نے نظم و نسق کیلئے سنگین مسائل پیدا کر دئیے ہیں۔ اقتدار کی خواہش پر اس احتجاج کو ناکام بنانے کی خاطر پولیس نے مظاہرین کے خلاف اور غنڈہ عناصر کی حمایت میں جو تشویش ناک طریق کار اختیار کیا اس نے اس محکمے سے وابستہ آئینی ضابطوں کی بحث کوبھی بے معنی بنادیا ہے۔ آئین کی دفعہ ۱۹؍ میں واضح طور پر نظم و نسق کے نفاذ، اظہار رائے کی آزادی اور پرامن عوامی مظاہروں کے دوران پولیس کو جن قانونی التزامات کا پابند قرار دیا گیا ہے، دہلی احتجاج کے دوران دہلی پولیس اور نیم فوجی و فوجی اہلکاروں نے اقتدار کی خواہش کو مقدم مانتے ہوئے ان التزامات کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا۔ پرینکا گاندھی نے دوران احتجاج قانون کی پاسبانی پر مامور ان باوردی اہلکاروں کو ان کی آئینی ذمہ داری سے آگاہ کرنے کی مخلصانہ کوشش بھی کی تھی لیکن انھوں نے جیسے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ وہ صرف اقتدار کی مرضی ہی کو پیش نظر رکھیں گے، خواہ اس سے آئینی ضابطوں کی پامالی ہی کیوں نہ ہو۔ انتخابی جمہوریت میں کسی بھی سرکاری محکمے اور اس سے وابستہ ملازمین کا یہ رویہ جمہوریت کو کمزور اور آمریت کو طاقتور بناتا ہے۔ حالانکہ اس کے ساتھ ہی یہ بھی اٹل سچائی ہے کہ انتخابی جمہوریت میں کوئی بھی سیاسی پارٹی ہمیشہ برسر اقتدار نہیں رہتی، اگر چہ مرکز کے بعض قد آور وزرا اس کا دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ آئندہ تیس چالیس برسوں تک مسند حکومت پر براجمان رہیں گے۔ اب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی کارستانیوں نے یہ بھی عیاں کردیا ہے کہ ایسے دعووں کو عملی شکل دینے کیلئے کیا کچھ کیا جارہا تھا۔ 
ملک گیر سطح پر کروڑوں رائے دہندگان کو ان کے حق جمہوریت سے محروم کر دینے والی تدابیر اختیار کرنے والے سی ای سی کے خلاف احتجاج میں اقتدار نے کھل کر گیانیش کمار کی حمایت میں سامنے آئی۔ گیانیش کو بچانے کیلئے حکومت نے جس طرح اپنی ساری طاقت و توانائی لگائی ہے وہ قومی وسائل کے ناجائز استعمال اور مبینہ طور پر ایک بدعنوان افسر کے دفاع کو یقینی بنانے کی خاطر عوام کو مختلف قسم کی پریشانیوں میں مبتلا کردینے والے اس کے آمرانہ رویہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس امر میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ گیانیش کمار اپنے مثالی اصلاحی اقدامات کی شفافیت اور اپنی منصبی دیانت داری و آئینی جوابدہی پر میڈیا سے روبر و ہوتے لیکن اب تک ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس کے برعکس اقتدار نے ان کی حمایت میں مظاہرین کے خلاف ایسا محاذ کھول دیا جو خود اس کی شفافیت اور دیانت داری پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ اقتدار کی تمام تر آمرانہ حکمت عملی کے باوجود یہ احتجاج ان معنوں میں کامیاب رہا کہ کل تک انتخابی عمل میں بددیانتی کی جو باتیں محدود طور پر ہوا کرتی تھیں اب عوام کی اکثریت ان باتوں پر متفق نظر آتی ہے۔ اس انتہائی حساس موضوع کو عوامی مباحث کے مرکز میں لانے والے مظاہرین نے جس حوصلے اور ہمت کا مظاہرہ کیا ہے وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک میں مذہبی منافرت کو عام کرکے اپنے سیاسی اہداف کو حاصل کرنے والے فسطائی عناصر کی وہ کوششیں رائیگاں ہو گئی ہیں جن کے ذریعہ وہ اس احتجاج کو بھی ہندو مسلم کا رنگ دینا چاہتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: اقلیتوں کو دیوار سے لگانے کیلئے قومی وسائل کا ناجائز استعمال

ان مظاہروں میں جو سب سے زیادہ تشویش ناک اور تکلیف دہ حقیقت عیاں ہوئی وہ یہ کہ فرقہ ورانہ سیاست نے ملک کی عوامی فضا کو اس قدر سم آلود کر دیا ہے کہ عوام اگر اپنے جائز حق کا مطالبہ کریں تو ان کی آواز کو دبانے والے غنڈوں کا ایسا گروہ وجود میں آ گیا ہے جسے اقتدار کی پشت پناہی اور قانون کے پاسبانوں کی حمایت حاصل ہے۔ یہ گروہ اس حد تک بے لگام ہو چکا ہے کہ وہ حق جمہور کا مطالبہ کرنے والے پر امن مظاہرین کو زدو کوب کرنے اور ان مظاہروں میں شامل خواتین کے ساتھ نازیبا حرکتیں کرنے میں ذرا بھی جھجھک نہیں محسوس کرتا۔ ان غنڈوں کی دیدہ دلیری کا یہ عالم ہے کہ وہ صحافیوں سے بھی بدتمیزی کرنے حتیٰ کہ فخریہ انداز میں انھیں جان سے مارنے کی دھمکی بھی دیتے ہیں اور یہ سب کچھ قانون کے باوردی محافظوں کے سامنے کرتے ہیں۔ مظاہرین کے ساتھ کسی مجرم جیسا برتاؤ کرنے والے ان باوردی اہلکاروں نے ان غنڈوں کی جس طور سے ناز برداری کی وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اب پولیس محکمہ نفسیاتی طور پر شرپسندی سے راغب ہو گیا ہے۔ قانون کے ان باوردی پاسبانوں کی یہ رغبت وسیع پیمانے پر نظم و نسق کے ایسے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے جس کا ازالہ بہ آسانی ممکن نہ ہوگا۔ 
گیا نیش کے دفاع میں حکومت کا پیش پیش رہنا اور اس دفاع کو یقینی بنانے کیلئے آئین سے بالاتر ہو کر اختیارات کا استعمال کرنا الگ بات ہے لیکن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کیلئے غنڈوں کی حوصلہ افزائی کرنا جو خود کو تمام قانونی ضابطوں سے بالاتر سمجھتے ہیں، کسی طور بھی درست نہیں کہا جا سکتا۔ اس ضمن میں مزید تشویش ناک سچائی یہ ہے کہ قانونی خانہ پری کے بعد ان غنڈوں نے جس دیدہ دلیری کے ساتھ قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے عزم کا مظاہرہ میڈیا کے روبرو کیا ہے اس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ آئندہ حالات مزید سنگین شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ایک بدعنوان نوکر شاہ کے دفاع میں اقتدار جس راہ پر آگے بڑھ رہا ہے وہ راہ یقینی طور پر اس کیلئے سخت مسائل کا سبب بنے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK