ملک کےسیاسی، سماجی حالات کے ساتھ ساتھ عالمی منظرنامہ بھی اس وقت اخبارات کے اداریوں کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 7:29 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
ملک کےسیاسی، سماجی حالات کے ساتھ ساتھ عالمی منظرنامہ بھی اس وقت اخبارات کے اداریوں کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔
ملک کےسیاسی، سماجی حالات کے ساتھ ساتھ عالمی منظرنامہ بھی اس وقت اخبارات کے اداریوں کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ ایک جانب سپریم کورٹ اور دیگر اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے یو اے پی اے کے غیر ضروری استعمال پر ظاہر کی گئی گہری تشویش نے قومی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے جس کی بنیاد پر متعدد ہندی اور مراٹھی اخبارات نے سنجیدہ اداریے شائع کئے ہیں۔ دوسری طرف مہاراشٹر میں اشوک کھرات نامی ایک نام نہاد بابا سے جڑی بدکاری کے انکشافات نے بھی ذرائع ابلاغ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ اسی دوران عالمی منظرنامے میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اخبارات نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے پانچ روزہ جنگ بندی کے اعلان اور ایران کی طرف سے امن کی شرائط کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس پیش رفت کے نتیجے میں جلد ہی پورے خطے میں امن و استحکام کی فضا قائم ہو سکے گی۔
قانون کی آڑ میں انسانی حقوق کی پامالی
مہاراشٹر ٹائمز( مراٹھی، ۲۵؍مارچ)
’’بنگلور میں سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن کی پہلی قومی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے جسٹس اجول بھویاں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ درحقیقت موجودہ عہد کے سیاسی و سماجی جبر کے خلاف ایک عدالتی احتجاج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موصوف کا یہ برملا اعتراف کہ ۲۰۴۷ء کے ’وِکست بھارت‘ کا خواب تب تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک کہ اختلاف رائے اور مکالمے کی بنیادیں مستحکم نہ ہوں، اقتدار کے ایوانوں کیلئے ایک آئینہ ہے۔ ان کا یہ موقف کہ نظریاتی اختلاف رکھنے والوں پر مقدمات کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے، اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح ’غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون‘( یو اے پی اے) جیسے کالے قوانین کو آزادی اظہار کی سرکوبی کیلئے بطور حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی جیسے سنگین جرائم کے تدارک کے نام پر وضع کردہ اس قانون کی آڑ میں جس طرح انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے وہ کسی المیہ سے کم نہیں۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالے تو صورتحال مزید بھیانک نظر آتی ہے۔ اس قانون کے تحت جیل میں ڈالے گئے ہزاروں افراد میں سے محض ۵ ؍فیصد پر جرم ثابت ہونا اس امر کی بین دلیل ہے کہ تفتیشی ایجنسیوں کے پاس ٹھوس شواہد کے بجائے محض سیاسی انتقام کا ایندھن موجود ہے۔ جب ۹۵؍ فیصد ملزمین برسوں کی اذیت ناک قید کے بعد بے گناہ قرار پاتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کے وہ قیمتی سال اور برباد شدہ ساکھ کا ہرجانہ کون ادا کرے گا؟ انصاف کا آفاقی اصول تو یہ ہے کہ’ضمانت ایک قاعدہ ہے اور جیل ایک استثنا‘ لیکن یو اے پی اے کے سیاہ سائے میں یہ اصول اپنی معنویت کھو چکا ہے۔ ۸۴ ؍سالہ اسٹین سوامی کی عدالتی حراست میں المناک موت ہماری عدلیہ اور نظامِ تفتیش کے ماتھے پر وہ کلنک کا ٹیکہ ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ اگر یہ قانون قبائلیوں، اقلیتوں اور دبے ہوئے طبقات کے حقوق کی آواز بلند کرنے والےسماجی کارکنوں صحافیوں اور طلبہ کو خاموش کرنے کا آلہ بن جائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ جمہوریت کا لبادہ تار تار ہو رہا ہے۔ ‘‘
قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ اندھی عقیدت کا راج
لوک مت(مراٹھی، ۲۶؍مارچ)
’’ریاست مہاراشٹر، جو شاہو، پھولے اور امبیڈکر جیسی عظیم مصلح شخصیات کی روشن خیالی کیلئے جانی جاتی ہے، آج ایک نام نہاد اور عیار بھوندو بابا کی شرمناک کرتوتوں کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔ ناسک کے اشوک کھرات نامی اس شعبدہ باز کے ایک کے بعد ایک سامنے آنے والے لرزہ خیز انکشافات نے عوامی حلقوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک جاہل اور عیار شخص کس طرح برسوں تک اقتدار کے گلیاروں، انتظامی افسران اور معصوم خواتین کو اپنے جال میں پھنسائے رکھتا ہے؟ یہ صورتحال مہاراشٹر کی پاکیزہ روایات پر ایک بدنما داغ ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے ایوان میں اس بات کا اعتراف کیا کہ پولیس نے گزشتہ بیس دنوں سے اس کے خلاف شکنجہ کسا ہے لیکن اصل سوال ان بیس برسوں کا ہے جن میں یہ شخص کھلے عام اپنی دکان چمکاتا رہا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ دو دہائیوں تک جاری رہنے والے اس گھناؤنے کھیل سے محکمہ داخلہ اور خفیہ ایجنسیاں لاعلم رہی ہوں ؟ حقائق چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اس فتنے کو نہ صرف سیاسی سرپرستی حاصل تھی بلکہ انتظامیہ کے طاقتور مہروں نے اسے تحفظ فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس عیار کے قدموں میں سیاسی رہنماؤں کا ڈھیر ہو جانا اور اسے’دیوتا‘ بنا کر پیش کرنا ہی دراصل اس سماجی بگاڑ کی علامت ہے جہاں ضمیر کا سودا کر کے مفادات حاصل کیے جاتے ہیں۔ خواتین کمیشن کی سابقہ عہدیداروں سے لے کر سابق وزراء تک کا اس کے سامنے ماتھا ٹیکنا اور سرکاری فنڈ سے اس کیلئے مندر تعمیر کروانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ اندھی عقیدت کا راج تھا۔ ‘‘
ٹرمپ ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں
دی ہندو( انگریزی، ۲۵؍مارچ)
’’امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی گھروں پر حملے مؤخر کرنے کا حالیہ فیصلہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ تہران کے خلاف شروع کی گئی مہم جوئی اب واشنگٹن کے قابو سے باہر ہو رہی ہے۔ ۴۸ ؍گھنٹے کا الٹی میٹم دینے کے باوجود پیچھے ہٹنا یہ ثابت کرتا ہے کہ جنگ کی بساط پر مہرے ٹرمپ کی خواہش کے مطابق نہیں چل رہے۔ ایک ہفتہ قبل جس فتح کا ڈھنڈورا پیٹا گیا تھا، وہ اب ایک سفارتی ڈراؤنا خواب بنتا جا رہا ہے۔ حقائق بتاتے ہیں کہ۲۸ ؍فروری کو شروع ہونے والے اس تصادم میں ایران نے نہ صرف امریکی دھمکیوں کو خاطر میں لانے سے انکار کیا بلکہ اس کا ترکی بہ ترکی جواب دینے کی پالیسی اپنائی۔ جب امریکہ نے ایران کے ایک جزیرے کو نشانہ بنایا تو جواب میں خطے کے امریکی اڈے دہل گئے۔ جب اسرائیل نے ایرانی تنصیبات پر ہاتھ ڈالا تو اس کی بازگشت سعودی عرب، قطر، کویت اور خود اسرائیل کے توانائی کے مراکز میں سنی گئی۔ یہاں تک کہ جب ایٹمی تنصیب پر حملہ ہوا تو تہران نے اسرائیل کے حساس ترین ایٹمی شہر ڈیمونا کو نشانہ بنا کر یہ پیغام دے دیا کہ اب کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ امریکی انتظامیہ کے عزائم بہت بلند تھے، وہ ایران کو گھٹنوں پر لا کر اس کا ایٹمی پروگرام اور میزائل صلاحیتیں ختم کرناچاہتے تھے۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ واشنگٹن کی تمام تر توانائیاں صرف آبنائے ہرمز کو کھلوانے پر لگی ہوئی ہیں جو عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ ٹرمپ اب ایک ایسے دلدل میں پھنس چکے ہیں جہاں سے نکلنے کیلئے ان کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں یا تو وہ تہران سے میز پر بیٹھ کر بات کریں یا پھر ایک خونیں زمینی جنگ کا آغاز کریں۔ ‘‘
حملوں کے بعد اب امن کی میز سجانے کی باتیں
نوبھارت ٹائمز(ہندی، ۲۶؍مارچ)
’’مشرق وسطیٰ کے افق پر منڈلاتے جنگ کے بادلوں کے درمیان امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ سفارتی ہلچل نے عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے۔ چارہفتوں سے جاری اعصاب شکن کشیدگی اور ہزاروں افراد کو موت کے منہ میں پہنچا دینے کے بعد اب امن کی میز سجانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اگرچہ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے لیکن کیا یہ محض ایک عارضی وقفہ ہے یا پائیدار امن کی بنیاد؟ اس کا فیصلہ تہران اور واشنگٹن کے اگلے اقدامات کریں گے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ نے پاکستان کے توسط سے ایران کو ۱۵؍ نکات پر مشتمل ایک جامع ’جنگ بندی تجویز‘ارسال کی ہے۔ اس حساس مشن میں پاکستان کا بطور ثالث انتخاب اس بات کی دلیل ہے کہ خطے میں اسلام آباد کا سفارتی اثر و رسوخ تاحال اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ کی ان شرائط میں تہران کے جوہری پروگرام کی بندش اور میزائل تجربات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کیلئےمکمل طور پر کھلا رکھنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی اپنے پتے واضح کر دیئے ہیں۔ تہران کا سب سے بڑا مطالبہ مغربی ایشیا سے امریکی فوجی اڈوں کا مکمل انخلاء ہے۔ ایرانی حکام کا خیال ہے کہ خطے میں غیر ملکی افواج کی موجودگی ہی بدامنی کی اصل جڑ ہے۔ ایرانی سفارتی حلقوں نے امریکی تجاویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے تضادات کا مجموعہ قرار دیا ہے کیونکہ ایک طرف واشنگٹن امن کا راگ الاپ رہا ہے اور دوسری طرف خطے میں اپنی فوجی نفری میں اضافہ بھی کر رہا ہے۔ ‘‘