• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک احتجاجی طالب علم کی ڈائری

Updated: October 18, 2026, 5:36 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

’’آج میرے ایک ساتھی نے کہا کہ اب مزید انتظار نہیں ہوتا۔ اس کی آنکھوں میں غصہ بھی تھا اور مایوسی بھی۔ میں اسے کیا سمجھاتا؟ میں خود اسی کیفیت سے گزر رہا ہوں۔ ہم روز امید لے کر اُٹھتے ہیں اور غیر یقینی کے ساتھ رات گزارتے ہیں۔ ‘‘

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

۷؍ اکتو بر۔ پہلا دن : ایک نئی اُمید
آج میں جنتر منتر پہنچا ہوں۔ ہاتھ میں پلے کارڈ ہے، آنکھوں میں خواب ہیں اور دل میں ایک چھوٹی سی امید کہ شاید ہماری آواز ایوانوں تک پہنچ جائے۔ آج میں نے زندگی میں پہلی بار محسوس کیا کہ کتابوں میں پڑھی جانے والی جمہوریت اور سڑکوں پر نظر آنے والی جمہوریت کے درمیان کتنا فاصلہ ہو سکتا ہے۔ 
ہم کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے، ہمارے مستقبل کو بے یقینی کے اندھیروں میں نہ دھکیلا جائے اور ہماری محنت کو ضائع نہ ہونے دیا جائے لیکن دل کے کسی کونے میں ایک سوال مسلسل سر اٹھا رہا ہے۔ آخر میں جنتر منتر پر احتجاج کرنے کیوں آیا؟ کیا اسلئے کہ مجھے پڑھائی سے نفرت ہے؟ یا اسلئے کہ میں اپنے والدین کی نصیحتیں سُن سُن کر تھک گیا ہوں ؟ یا اسلئے کہ مجھے نظم و ضبط پسند نہیں ؟ نہیں، میں صرف اسلئے آیا ہوں کہ اگر دنیا بھر میں تعلیم کو ترقی کی کنجی کہا جاتا ہے، وہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی ہم کروڑوں نو جوان آج اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار کیوں ہیں ؟ہمارے ہر امتحان کا پرچہ لیک کیوں ہورہا ہے؟ سرکاری امتحانات کا رزلٹ آنے کے بعد بھی دو دو سال تک بھرتی کیوں نہیں ہورہی ؟
۸؍اکتوبر۔ دوسرا دن: نعروں کے درمیان سوال
صبح سے شام ہوگئی۔ نعرے لگتے رہے، تقریریں ہوتی رہیں، لوگ آتے رہے، لوگ جاتے رہے۔ جمہوریت پر حملہ ہوا ہے اور منظم طریقے سے ہوا ہے۔ جمہوریت کا سب سے بڑا تحفہ ہے: ووٹ۔ ووٹ دینے کا ہر کسی کو حق حاصل ہے اور اِسے کوئی چھین نہیں سکتا مگر کروڑوں شہریوں کو اِس سے محروم کرنے کی دانستہ حرکتیں ہوئی ہیں۔ جمہوریت کو کون اس طرح اغواکر سکتا ہے ؟ یہ اس دھرتی کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ اس کا اغوا کیسے ہو سکتا ہے ؟ اسلئے ملک کا نوجوان طبقہ جو پہلے بے چین تھا، اب غصّے میں ہے۔ اس کے باوجود ہم سب دوسروں کو حوصلہ دیتے ہیں، مگر جب رات کو اپنے ملک اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارا اپنا حوصلہ جواب دینے لگتا ہے۔ 
۹؍اکتوبر۔ تیسرا دن: گھر سے آنے والا فون
آج گھر سے فون آیا تھا۔ امی نے پوچھا، ’’بیٹا، کھانا کھایا؟ طبیعت تو ٹھیک ہے؟ واپس کب آؤ گے؟‘‘میں نے کہا، ’’امی، سب ٹھیک ہے۔ آپ فکر نہ کریں۔ ‘‘ مگر کیا واقعی سب ٹھیک ہے ؟ امّی کو میں نے یہ نہیں بتایا کہ میں جنتر منتر جا رہا ہوں۔ صرف یہ کہا کہ ہم احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں مگر مجھے معلوم ہے کہ وہ ٹی وی کی اسکرین پر مجھے ڈھونڈ رہی ہوں گی اسلئے میں کیمرے کے سامنے نہیں آرہا ہوں۔ امّی کو کیسے بتائوں کہ جس عمر میں مجھے اپنے کریئر کی بنیاد مضبوط کرنی چاہیے، اس عمر میں میں اپنے مستقبل کی ضمانت مانگ رہا ہوں۔ ابّو نے میری تعلیم پر خرچ کیا، میری کامیابی کے خواب دیکھے۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں ایک باعزت زندگی گزاروں۔ اور میں ؟میں دہلی کی سڑکوں پر اپنے ہی مستقبل کے لیے آواز اٹھا رہا ہوں۔

یہ بھی پڑھئے: اُردو: آئیے ! اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جائیں

۱۰؍ اکتوبر۔ - چوتھا دن: وقت کس کا انتظار کر رہا ہے ؟
ہم سبھی نوجوانان جمہوریت کی بقا اور ووٹ کے حق کی بحالی کیلئے احتجاج کا منصوبہ کر رہے ہیں اور ہمیں اطلاع ملی کہ حکومت پولیس ایکشن کی تیاری کر رہی ہے۔ اس قدر تیاری گویا دہلی پر کوئی بیرونی حملہ ہونے والا ہے۔ ہمیں اعتراض نہیں کہ ہر قسم کی پولیس و حفاظتی فورس کا استعمال کیا گیا ہے البتہ ہمیں بے حد تشویش ہے کہ غنڈوں کو پولیس کی وردی پہنائی جارہی ہے۔ اُنہیں لاٹھیاں دی گئیں ، ممکن ہے مہلک ہتھیار بھی دیئے گئے ہوں۔ پولیس کو تربیت دی جا رہی ہے کہ دشمن ملک سمجھ کر اِن نوجوانوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جائے۔ لیڈی پولیس کو آزادی دی گئی ہے کہ وہ طالبات اور خواتین کے ساتھ جس قدر بد تمیزی بلکہ جارحیت برت سکتے ہوں وہ کر لیں پھر انکوائری کمیشن بٹھائیں گے جس کی رپورٹ ۲۵؍ سال بعد آجائے گی۔ آج ہمیں یاد آرہا ہے ہماری ہوسٹل میں کسی کے ہاتھ میں کتاب تھی، کسی کے پاس فائل، کوئی فون پر نوکریوں کے مواقع دیکھ رہا تھا، اور کوئی خاموشی سے صرف بیٹھا تھا۔ ہم سب کی کہانیاں مختلف ہیں، مگر خوف ایک جیسا ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں انصاف کے انتظار میں ہماری عمر نہ گزر جائے۔ 
۱۱؍ اکتوبر۔ پانچواں دن : کیا انصاف بھی تھک جاتا ہے ؟ 
آج احتجاج کے دوران ایک بزرگ نے ہماری طرف دیکھا اور کہا، ’’بچّو، ہمت مت ہارنا۔ ‘‘میں نے سوچا، ہمت تو ہم نے ابھی نہیں ہاری، لیکن کیا ہماری ہمت ہی ہمارے مطالبات کی منظوری کیلئے کافی ہے؟کیا انصاف کیلئے صرف سچ کا ساتھ دینا کافی ہوتا ہے؟کیا قانون کی دہلیز تک پہنچنے والے ہر شخص کو انصاف ملتا ہے ؟کیا حکومت تک پہنچنے والی ہر آواز کا جواب دیا جاتا ہے؟ میرے پاس ان سوالوں کے جواب نہیں ہیں۔ میں کسی سے دشمنی نہیں چاہتا۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ میری بات سنی جائے، میں چاہتا ہوں کہ احتجاج کے بعد جب گھر واپس جاؤں تو میرے پاس صرف تھکن اور یادیں نہ ہوں بلکہ یہ یقین بھی ہو کہ میری آواز بے اثر نہیں گئی۔ آج میرے ایک ساتھی نے کہا کہ اب مزید انتظار نہیں ہوتا۔ اس کی آنکھوں میں غصہ بھی تھا اور مایوسی بھی۔ میں اسے کیا سمجھاتا؟ میں خود اسی کیفیت سے گزر رہا ہوں۔ ہم روز امید لے کر اُٹھتے ہیں اور غیر یقینی کے ساتھ رات گزارتے ہیں۔ 
۱۲؍اکتوبر -چھٹا دن :ہماری اختراعی صلاحیتیں 
ہر رات ہمارے کو رکمیٹی کی میٹنگ ہوتی ہے جس میں دوسرے دن کی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ کوئی نت نئے نعرے تخلیق کرتا ہے، کوئی فلمی گانوں کی پیروڈی، کوئی پوسٹر ڈیزائن کرتا ہے اور کو ئی پلے کارڈ۔ یہاں ایک بات بار بار واضح ہورہی تھی کہ کئی نو جوانوں نے اپنے والدین کے اصرار پر ایسے کریئر کا انتخاب کیا تھا جو اُن کی دلچسپی یاصلاحیتوں کے مطابق نہیں تھا۔ انجینئرنگ کے طلبہ بہت ہی اچھی پینٹنگ کر رہے تھے۔ فارمیسی کے طلبہ نظمیں اور نعرے تخلیق کر رہے تھے۔ کامرس کے طلبہ مائیکروفون درست کر رہے تھے۔ ہر رات ۱۵؍ منٹ کوئی مخاطب ہو کر رہنمائی کرتا کہ احتجاج کا مطلب صرف شور مچانا نہیں، احتجاج کے ساتھ دلیل، ذمہ داری اور پُر امن طرز عمل ہونا ضروری ہے۔ جنتر منتر پر رات کا سنّاٹا کاٹنے کو دوڑتا کیونکہ ساری چیختی، چنگھاڑتی ٹرینیں بند تھیں، میٹرو کے اسٹیشنوں پر اندھیرے کا راج تھا۔

یہ بھی پڑھئے: حکومت کچھ تو بتائے، کچھ تو اشارہ دے کہ وہ چاہتی کیا ہے، آخر ایسی بھی کیا آمریت؟

۱۳؍ اکتوبر۔ ساتواں دن : پھر آمریت جاگ گئی
آج علی الصباح وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ۵؍بجے پولیس اور ملٹری کی گاڑیاں بھر بھر کرآ گئیں اور سوئے ہوئے طلبہ کو اُٹھا اُٹھاکر گاڑیوں میں بھرنے لگے۔ جس نے احتجاج کیا ان کو پیٹا گیا۔ اُن کے بال اور کپڑے نوچے گئے اور پھر بھی نہیں مانے تو اُن کو کیل والے ڈنڈوں سے پیٹا گیا۔ بے شمار نوجوان زخمی ہو گئے۔ انھیں مرہم پٹّی کا جھانسا دیا گیا مگر اُن کو جیل میں ٹھونسا گیا۔ ہمیں بعد میں علم ہوا کہ گزشتہ ہفتے پھر سے جیل میں ٹھونسنے کی تیاری چل رہی تھی اور ہم پُرامن طریقے سے احتجاج کرنے والوں پر سنگین الزامات کی فہرست تیار ہو رہی ہے۔ سنگین قسم کے دفعات عائد کرنے کا طریقہ کار طے تھا (الف)جس نے انقلاب زندہ باد کا نعرہ لگایا اُن پر ملک سے غدّاری کی دفعہ (ب)جس نے غریبی و بے روزگاری سے آزادی کا نعرہ لگایا ان پر ملک سے بغاوت کا مقدمہ (ج) ظلم و جبر نہیں سہیں گے کانعرہ لگا نے والوں پر بیرونی ملکوں کے ایجنٹ ہونے کا مقدمہ !
۱۴؍اکتوبر۔ آٹھواں دن : بھیانک اختتام
امّی ابّو کو معلوم ہوگیا تھا کہ میں بھی گرفتارہوا ہوں۔ وہ پہلی ٹرین پکڑ کر دہلی پہنچ گئے تھے۔ ہمیں غنڈے اور پاکٹ مار جیسے مجرموں کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ اُنھوں نے پوری رات ہم کو ماراپیٹا، جس کی آزادی اُنھیں پولیس نے دی تھی، اُن میں سے کچھ غنڈے توہم پر قہقہے لگا رہے تھے: ’’بڑے چلے تھے ڈاکٹر، انجینئر بننے۔ اب سڑو جیل میں ‘‘ وہیں ایک نے بتایا کہ اب منجھے ہوئے وکیلوں کو پکڑنے پڑیں گے۔ ہر نوجوان پر کم از کم تین دفعا ت عائد کی گئی ہیں۔ ہر دفعہ کو ہٹانے کیلئے پولیس کو کم از کم ۵۰؍ہزار روپے کی رشوت دینی ہوگی۔ انقلاب زندہ بادکا نعرہ لگانے والوں پر جو غدّاریٔ ملک کی دفعہ عائد ہوتی ہے اُس کو ہٹانے کیلئے ایک لاکھ کی رشوت دینی پڑے گی۔ ہر طالب علم پر ڈھائی ڈھائی لاکھ روپے خرچ آئے گا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ میرے امّی ابّو نے تو سارے زیور، کھیت کھلیان بیچ کر فیس ادا کی ہے، اب یہ ضمانت کی خاطر رشوت دینے کیلئے ڈھائی لاکھ کہاں سے آئیں گے ؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK