Inquilab Logo Happiest Places to Work

مختلف مقابلہ جاتی امتحانات میں دینی مدارس کے فارغین کی نمایاں کامیابی امید افزا

Updated: August 01, 2026, 9:48 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

گزشتہ چند برسوں میں مسلم معاشرے میں ایک مثبت اور امید افزا تبدیلی یہ آئی ہے کہ ہمارے دینی مدارس کے فارغین عا لمیت، فضیلت، قرآت اور حفظ میں مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بڑی کامیابی کے ساتھ جُڑ رہے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

گزشتہ چند برسوں میں مسلم معاشرے میں ایک مثبت اور امید افزا تبدیلی یہ آئی ہے کہ ہمارے دینی مدارس کے فارغین عا لمیت، فضیلت، قرآت اور حفظ میں مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بڑی کامیابی کے ساتھ جُڑ رہے ہیں۔ کئی طلبہ عصری علوم میں بھی اس درجہ نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں کہ دل عش عش کر اُٹھتا ہے۔ چند روز قبل میڈیکل داخلہ امتحان (نیٖٹ) اور انجینئرنگ داخلہ امتحان (سی ای ٹی) وغیرہ کے نتائج ظاہر ہوئے اور اُن امتحانات میں دینی مدارس کے فارغین نے بڑی میں زبردست کامیابی حاصل کی بلکہ لگ بھگ۱۲؍ سال اسکولی تعلیم سے وابستہ رہنے والے طلبہ سے بھی بڑی کامیابی دینی مدارس کے فارغین نے حاصل کی۔ اُن میں سے اکثریت ان طلبہ کی تھی جو بنیادی ریاضی، جنرل سائنس اور انگریزی زباندانی سے بھی بے نابلد تھی۔ محض دو سال کی محنت سے اتنی بڑی کامیابی کیسے حاصل ہوئی اور اس ضمن میں مزید بہتری کیسے ممکن ہے اس کا جائزہ لیں گے۔ 
دینی مدارس کے فارغین کو زندگی کی دھارا سے جوڑنے کی سبیلیں تلاش کرنی ہیں۔ ہر فکر مند اور دردمند انسان کو سوچنا ہے کہ دینی مدارس میں زیرِ تعلیم وہ طلبہ ہمارے اپنے ہیں۔ وہ قوم کا اثاثہ ہیں، اسلئے کہ ان طلبہ کا (۱) حافظہ سولہ آنے کھرا ہوتا ہے۔ (۲) ان کی یادداشت۲۴؍ کیرٹ کی ہوتی ہے تبھی تو وہ اس روئے زمین کی سب سے بڑی اور ضخیم کتاب کو زیر وزبر کے ساتھ اپنے ذہن میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ (۳) اُن طلبہ میں لگن بلا کی ہوتی ہے۔ (۴) یکسوئی مثالی ہوتی ہے، کمٹمنٹ زبردست ہوتی ہے۔ اور ان کی بھاری اکثریت میں ہر قسم کے ذہنی کرپشن سے پاک ہوتی ہے۔ 
ہمارے یہاں اِن قیمتی طلبہ کو زندگی و روزگار سے جوڑنے کا خیال بعد از خرابی بسیار گزشتہ صدی میں آگیا اور پھر سارے مدارس کے طلبہ کو روز گار سے جوڑنے کیلئے کارپینٹر (ستار) کا کام سکھایا جانے لگا۔ یا چند سلائی مشین خرید کر ان کو ٹیلر بنانے کی کوشش ہونے لگی۔ سارے دینی مدارس قائدین اور نیتاؤں کو بُلابُلا کر بتانے لگے کہ اب اُن کے یہاں حافظ بھی تیار ہو رہے ہیں اور کار پینٹر بھی۔ گزشتہ صدی کی آٹھویں دہائی میں جب کمپیوٹر کا چلن عام ہو ا تب ان مدارس میں سلائی مشین کی جگہ لی کمپیوٹر نے، آٹھ دس کمپیوٹر خرید کر بتایا جانے لگا کہ اب اِن حفّاظ، عالم و فاضل صاحبان کو کمپیوٹر کی تعلیم دی جا رہی ہے حالانکہ وہاں تعلیم صرف ڈیٹا انٹری آپریٹر کی دی جانے لگی۔ یعنی کمپیوٹر شناسی کو کمپیوٹر کی مہارت کہا جانے لگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دینی مدارس کے یہ انتہائی ذہین اور سنجیدہ فارغین صرف اس لائق ہیں کہ وہ (الف ) مدرسے سے فارغ ہونے کے بعد فٹ پاتھ پر رومال اور ٹوپی بیچیں ؟(ب) مسجد کے باہر عطر و سرمہ کا ٹھیلا لگا ئیں ؟ ( ج ) اُن کے کارپینٹر، الیکٹریشین یا ٹیلر بننے کو ہم ہنر مندی قرار دیں ؟ (د) کمپیوٹر کی معمولی تعلیم دے کر اُن کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کا دعوی کیا جائے؟ (ہ) یا پھر پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے جادو ٹو نا کرنے پر آمادہ ہو جائیں ؟

یہ بھی پڑھئے: نئی تعلیمی پالیسی کا مطلب غلبہ فرقہ پرستوں کا اور غلامی اونچی ذات کی

اس ضمن میں چند سنجیدہ احباب سر جوڑ کر بیٹھے اور پھر بڑے ہی کامیاب اور خوشگوار نتائج سامنے آتے ہیں، جنوبی ہندمیں خصوصاً حفّاظِ قرآن کیلئے ایک چھ ماہ کا فاؤنڈیشن کورس ترتیب دیا گیا ہے، جس میں انھیں انگریزی اور کوئی ایک ریاستی زبان سکھائی جاتی ہے اور بنیادی ریاضی کا ایک نصاب بھی مرتّب کیا گیا۔ اس کے بعد چھ ماہ کا ایک بریج کورس مرتّب کیا گیا، جس میں انگریزی، ریاضی اور سائنس کا ایک قدرے ایڈوانس نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ اس کے بعد انھیں ایک سال میں ایس ایس سی کے تمام مضامین پڑھائے جاتے ہیں، وہ پاس کرنے کے بعد دو سالہ جونیئر کالج کا کورس سائنس کے مضامین کے ساتھ پاس کرنے کے لائق بھی ہو رہا ہے، یعنی یہاں وہ حافظِ قرآن اب ڈاکٹر، انجینئر، آرکیٹکٹ یا فارمسسٹ بننے کو تیار ہے۔ گزشتہ ۷۔ ۸ برسوں سے ہر سال ۱۲۔ ۱۵؍ حفّاظ پر محنت ہوتی تھی اب ہر مدرسے کے ۵۰۔ ۱۰۰؍ حفّاظ کرام پر یہ محنت ہو رہی ہے اور یہ حفّاظ کرام زبردست کامیابی سے ہمکنار بھی ہو رہے ہیں۔ شاید یہ سوال اب پوچھا جائے کہ ایک حافظِ قرآن کو انجینئر ڈاکٹر کیوں بنانا ؟ ہمارا ان سے سوال یہ ہے کہ وہ حافظِ قرآن بڑھئی، سُتار، ہوٹل میں بیرا بنے تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے، البتہ وہ ڈاکٹر، انجینئر بنے تو ہمیں منظور نہیں ہے، کیوں ؟ ایک حافظ قرآن کسی انجینئر نگ کمپنی کا سربراہ بنے تو ہمیں خوشی محسوس نہیں ہوگی؟ ایک ڈاکٹر حافظ قرآن اگر رمضان میں اپنے مطب کو بند کر کے تراویح پڑھائے تو کیا ہمیں مسرّت نہیں ہوگی ؟ ہم ہمارے یہاں ایسے کسی معاشرے کا تصور ہی نہیں کرتے کہ لوگ کہنا شروع کریں : یہ ڈاکٹر ہے اور حافظ قران بھی۔ رمضان میں ان کا مطب بند رہتا ہے کیوں کہ یہ پورا مہینہ صرف تراویح پڑھاتے ہیں۔ 
دینی مدارس سے فارغ طلبہ کو عصری تعلیم اور روزگار کی دھارا سے جوڑنے کیلئے ایک کم و بیش دو سالہ بریج کورس کی ضرورت ہے، اب دینی و عصری تعلیمی اداروں کے ذمہ دار بڑی شدّت سے محسوس کر رہے ہیں۔ ایک ایسا کورس جو اُن طلبہ میں وسیع النظری، وسیع القلبی اور وسیع المشربی کا باعث ہے۔ ایک ایسا کورس جو بین المسالک اور بین المذاہب مفاہمت کیلئے نمایاں کردار ادا کرے۔ یہ وقت کا اہم تقاضا ہے۔ آج ہمارے مسلکی فروعی اور فقہی اختلافات جگ ظاہر ہیں۔ مسلمانوں میں معمولی معمولی مسلکی اختلافات آگے چل کر کس قدر بھیانک شکل اختیار کر رہے ہیں اس کا مشاہدہ ہم بخوبی کر رہے ہیں کہ صرف عقائد کی بناء پر چند مسلم ممالک دوسرے مسلم ممالک میں صرف خون ریزی نہیں کر رہے ہیں بلکہ ڈرون حملے تک کر رہے ہیں۔ عالمی طاقتیں خوش ہیں کہ اِن عقائد و مسلکی اختلافات کی بناء پر یہ مسلم ممالک اُن کی ہتھیاروں کی فیکٹری کے سب سے بڑے خریدار بن گئے ہیں۔ اس انتہائی افسوس ناک اور دردناک صورت حال کا ایک ہی علاج ہے کہ اب ہم ہمارے یہاں ایک مہذب اور صحت مند افہام تفہیم کی فضا قائم کریں کیونکہ آج مسلکی نظریاتی اختلافات ہی کی بناء پر ہمارے طلبہ میں بھی ایک دوسرے کے تئیں صرف کراہت کے نہیں بلکہ نفرت کے جذبات تک پیدا ہو رہے ہیں۔ 
دینی مدارس کے فارغین کیلئے برِج کورس کی نوعیت
ہمارے برِج کورس کے پہلے مضمون کا نام ہو: ’’ اتحاد با وجود اختلاف‘‘ اس مضمون کا نصاب کیا ہو اور اُس میں کیا پڑھایا جائے؟(۱) تمام مسالک کے عقائد کا ایک مختصر جائزہ لیا جائے۔ (۲) دوسروں کے عقائد کو سمجھنا اور ان کا احترام کرنا۔ (۳)حجّت، تکرار اور مناظرے کی کیفیت سے بچنا (۴)مختلف عقائد کے طلبہ ایک بینچ پر بیٹھیں۔ مثلاً دیو بندی مدرسے کا فارغ بریلوی عقیدے کے طالب علم کے ساتھ بیٹھے یا حنفی عقیدے کا طالب علم اہل حدیث عقیدے کے طالب علم کے ساتھ بینچ شیئر کرے۔ دوران کورس عملی کام کے پریڈ میں وہ ایک دوسرے سے خوشگوار ماحول میں یہ کلام کریں : میں نماز میں رفع الیدین کرتا ہوں آپ نہیں کرتے، پھر بھی آپ میرے دوست بن جائیں گے، یا میں آمین بآواز بلند پڑھتا ہوں ، آپ نہیں، کیا آپ مجھے قبول کریں گے؟ ہمیں اللہ کی ذات سے اُمید ہے کہ یہ جملے سننے کے بعد وہ نہ صرف قبول کریں گے بلکہ نم آنکھوں کے ساتھ ایک دوسرے کے گلے ملیں گے۔ عالمی سطح پر بھائی چارگی کی باتیں کرنے سے پہلے ہمیں ہمارے گھر درست کرنے ہیں۔ اگر ہم اس میں کامیاب ہو گئے تو یقین جانئے ہم اپنے وسائل، قوت اور وقت کا بہترین استعمال کر پائیں گے کیونکہ اُس وقت ہمارا نصب العین صرف ایک ہی ہوگا: تعمیر قوم۔ 
اب آیئے دینی مدارس سے فارغین کو عصری وجدید علوم سے جوڑنے والے بریج کورس کا ایک خاکہ تیار کریں۔ اس کو عملی شکل دے کر اگر اس پر سنجیدگی سے محنت ہوئی تو ہمیں یقین ہے کہ دینی مدرسے کا ہر فارغ صرف دو سال کے قلیل عرصہ میں عصری تعلیم کے انڈر گریجویٹ اور گریجویٹ سے برابر بلکہ آگے بھی دکھائی دے گا۔ اس ضمن میں پیش رفت کرتے وقت ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ وہ مضامین جو مدارس کے فارغین کو مفصل طور پر پڑھائے گئے ہیں انھیں بریج کورس میں نہ دہرائیں جیسے تاریخ منطق اور فقہ وغیرہ بلکہ اب انہیں جدید مضامین سے متعارف کرانا ہے بلکہ ان میں مہارت بھی دلانی ہے۔ اُن کی فہرست اور اُن پر عمل درآمد کرنے کی منصوبہ بندی کیسی ہو اس پر گفتگو جاری رہے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK