Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسکول کی پہلی گھنٹی اُمیدوں کے نئے سفر کا آغاز

Updated: June 18, 2026, 4:44 PM IST | Sayyed Khushnaaz Jafri | Mumbai

گزشتہ گفتگو میں ہم نے اس حقیقت پر غور کیا تھا کہ گرمیوں کی دو مہینے کی تعطیلات محض کیلنڈر کے چند بے جان دن گزارنے کا نام نہیں، بلکہ اپنا ’’ذاتی نصاب‘‘ (پرسنل سلیبس) تیار کرنے اور خود کو نئی مہارتوں سے جلا بخشنے کا ایک نایاب موسم ہے۔ اب وقت کا پہیہ اپنی پوری رفتار سے گھوم چکا ہے۔

This is how students were welcomed on the first day of the new academic year at a school in Indore. Photo: INN
اندور میں ایک اسکول میں نئے تعلیمی سال کے پہلے دن طلبہ کا یوں استقبال کیا گیا۔ تصویر: آئی این این

گزشتہ گفتگو میں ہم نے اس حقیقت پر غور کیا تھا کہ گرمیوں کی دو مہینے کی تعطیلات محض کیلنڈر کے چند بے جان دن گزارنے کا نام نہیں، بلکہ اپنا ’’ذاتی نصاب‘‘ (پرسنل سلیبس) تیار کرنے اور خود کو نئی مہارتوں سے جلا بخشنے کا ایک نایاب موسم ہے۔ اب وقت کا پہیہ اپنی پوری رفتار سے گھوم چکا ہے۔ مئی کی تپتی دھوپ اور چھٹیوں کا سحر انگیز خمار اب یادوں کے دھندلکے میں بدل رہا ہے، اور جون میں بارش کی رم جھم کی توقع کے ساتھ ہی اسکولوں  کے دروازے ایک بار پھر کھل گئے ہیں۔

صبحِ نو کی یہ پہلی گھنٹی ایک روایتی تعلیمی سال کا آغاز نہیں ہے؛ یہ ایک پکار ہے، ایک بیداری ہے، ایک ایسی صدا ہے جو طالب علموں، اساتذہ اور والدین تینوں کو ایک نئے سفر، نئے چیلنجز اور نئی امیدوں کی دعوت دے رہی ہے۔ لیکن بستے کے تسمے کستے ہوئے ہمیں خود سے ایک سچا اور بے باک سوال کرنا ہوگا: ہمارا بستہ تو تیار ہو گیا، کیا ہمارا ذہن بھی اس نئے سفر کیلئے تیار ہے؟

یہ بھی پڑھئے: فٹ بال کا عالمی جشن: یہ کھیل آج بھی کروڑوں لوگوں کے دل کی دھڑکن ہے

ماضی کے بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھنا آگے بڑھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پچھلے تعلیمی سال میں آپ سے جو بھی لغزشیں ہوئیں، امتحانات کے نمبروں نے دل دکھایا، یا کوئی مضمون آپ کیلئے ایک خوفناک خواب بنا رہا، اب اس ملبے کو وہیں چھوڑ دیجیے جہاں وہ تھا۔ زندگی میں کی ہرنئی شروعات اپنے ساتھ نئے امکانات اور نئے افق لے کر آتی ہے۔ یہ نیا تعلیمی سال صبح کی پہلی کرن کی طرح ایک صاف، اجلی اور’’خالی بیاضـ‘‘ ہے جس پر اب آپ کو اپنی محنت کی سیاہی اور عزم کے قلم سے کامیابی کا ایک نیا شاہکار لکھنا ہے۔ یاد رکھیے، سفر کا پہلا دن ہی اکثر پورے سال کی سمت اور رخ متعین کر دیتا ہے۔

l شاید آج کسی کلاس میں ایک ایسا بچہ بھی داخل ہو رہا ہو جو گزشتہ سال کی ناکامی کو اپنے دل میں لیے بیٹھا ہے، اور شاید کوئی ایسا طالب علم بھی ہو جو اپنی صلاحیتوں کے باوجود خود اعتمادی کی کمی کا شکار ہے۔ نئے تعلیمی سال کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ یہ ہر طالب علم کو ایک نئی پہچان، ایک نئی امید اور خود کو ازسرِ نو دریافت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔  

l تعلیم کا اصل مقصد صرف امتحانی پرچے میں اعلیٰ نمبر حاصل کر لینا نہیں، بلکہ سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ تاریخ کے واقعات اور سن ہوں، ریاضی کے فارمولے یا سائنس کے پیچیدہ نظریات، انہیں صرف اس لیے نہ پڑھیں کہ یہ امتحانی ہال میں کام آئینگے۔ علم کو رٹنے کے بجائے اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ کلاس روم میں خاموش تماشائی بن کر نہ بیٹھیں، بلکہ ایک متجسس ذہن بنیں۔ اپنے اساتذہ سے سوال کرنے کی جرأت کیجیے، کیونکہ سوال ہی وہ چابی ہے جو علم کے بند دروازے کھولتی ہے۔ جو طالب علم سوال کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ دراصل زندگی بھر سیکھنے کا ہنر حاصل کر لیتا ہے۔

l گزشتہ دو ماہ میں موبائل فون، سوشل میڈیا اور آن لائن دنیا شاید ہماری روزمرہ زندگی کا سب سے نمایاں حصہ بن چکی ہو، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس مجازی (Virtual) دُنیا اور حقیقی زندگی کے درمیان ایک مضبوط توازن پیدا کریں۔ موبائل فون بذاتِ خود بُرا نہیں، مگر اس کا بے جا استعمال آپ کے وقت، توجہ اور تخلیقی صلاحیتوں کو خاموشی سے نگل لیتا ہے۔ نئی کلاس کی نئی کتابوں کی وہ مخصوص خوشبو، صفحوں کی سرسراہٹ اور مطالعے کا حقیقی لطف کسی بے جان اسکرین سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ کتابیں صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں ہوتیں، بلکہ یہ انسان کے اندر فکر، تخیل اور بصیرت کے نئے چراغ روشن کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں کتابوں سے اپنا رشتہ مضبوط رکھتی ہیں، وہی علم اور ترقی کے عروج پر پہنچتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اپوزیشن کیلئے تعزیتی پیغامات لکھنے میں عجلت نہ کریں، ہم ہنوز میدان میں ہیں

l آج کی دنیا صرف روایتی نصابی کامیابی کی دنیا نہیں رہی۔ مصنوعی ذہانت(اے آئی)، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تخلیقی سوچ، مؤثر ابلاغ (کمیونیکیشن اسکلز)، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور قائدانہ اوصاف مستقبل کی نئی کنجیاں ہیں۔ اس نئے تعلیمی سال میں ہمیں خود کو صرف کتابی حدود تک مقید نہیں رکھنا ہے، بلکہ اپنے اندر وہ جدید مہارتیں بھی پیدا کرنی ہیں جو آنے والی دنیا کے چیلنجز کا سامنا کرنے میں ہماری ڈھال بن سکیں۔ یاد رکھیں، مستقبل صرف ان لوگوں کا ہے جو سیکھنے کا عمل کبھی نہیں روکتے۔

دانش وروں کا کہنا ہے کہ مستقبل ان لوگوں کا نہیں جو سب کچھ جانتے ہیں، بلکہ ان لوگوں کا ہے جو ہر روز کچھ نیا سیکھنے کیلئے آمادہ رہتے ہیں۔

ایک معلمہ کی حیثیت سے مَیں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوں کہ تعلیم کا یہ خوبصورت سفر صرف طالب علم کا تنہا سفر نہیں ہے۔ والدین، اساتذہ اور طلبہ تینوں اس کاروانِ علم کے مسافر ہیں۔ والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں پر پہلے ہی دن سے پوزیشن اور فیصد (پرسنٹیج) کی توقعات کا ایسا بھاری بوجھ نہ ڈالیں جس کے نیچے ان کا اعتماد اور معصوم بچپن دب جائے۔ انہیں خوف نہیں حوصلہ دیجیے؛ دباؤ نہیں محبت بھری رہنمائی دیجیے۔ اسی طرح اساتذہ کی ذمہ داری بھی صرف نصاب مکمل کرنے یا کتابی اسباق پڑھانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہماری اصل معراج کردار سازی، اعتماد سازی اور انسان سازی ہے۔ ایک سچا استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا، بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میناکشی نٹراجن کی امیدواری اور چھینا جھپٹی کی سیاست

انسان کی زندگی کی معراج اس کا جمود (تھم جانا) نہیں، بلکہ اس کا مسلسل ارتقاء ہے۔ اسکول کی یہ گھنٹی دراصل ہمیں کاہلی، سستی اور آرام طلبی کے خول سے باہر نکل کر اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے کی دعوت دے رہی ہے۔ نئی کلاس کی چمکتی میزیں، اساتذہ کی شفقت، نئے اسباق اور پرانے دوستوں کی مسکراہٹیں آپ کی منتظر ہیں۔ عزم کیجیے کہ یہ سال صرف آپ کے گریڈ بدلنے کا سال نہیں ہوگا، بلکہ آپ کی سوچ، کردار اور شخصیت کو ایک نئی پرواز عطا کرے گا۔

اسکول کی گھنٹی صرف کلاس کے آغاز کا اعلان نہیں کرتی، بلکہ یہ ہر طالب علم کو یاد دلاتی ہے کہ اس کی زندگی کا ایک نیا اور درخشاں باب لکھا جانے والا ہے، اور اس باب کا مصنف کوئی اور نہیں، بلکہ وہ خود ہے۔ تو پھر دیر کس بات کی؟ اٹھائیے اپنا بستہ، دل کی گہرائیوں میں عزم کا چراغ روشن کیجیے اور آگے بڑھئے کیونکہ اسکول کی گھنٹی صرف بجی نہیں ہے، یہ آپ کے خوابوں، صلاحیتوں اور روشن مستقبل کو آواز دے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK