ہر ماں اپنے بچوں کے مستقبل سے وابستہ بے شمار خواب آنکھوں میں سجائے رکھتی ہے۔ کوئی انہیں علم و ہنر کی بلندیوں پر دیکھنا چاہتی ہے، تو کوئی ان کے اچھے انسان اور باکردار شہری بننے کی تمنا کرتی ہے۔
EPAPER
Updated: June 15, 2026, 3:53 PM IST | Jasmine Shaukat | Mumbai
ہر ماں اپنے بچوں کے مستقبل سے وابستہ بے شمار خواب آنکھوں میں سجائے رکھتی ہے۔ کوئی انہیں علم و ہنر کی بلندیوں پر دیکھنا چاہتی ہے، تو کوئی ان کے اچھے انسان اور باکردار شہری بننے کی تمنا کرتی ہے۔
ہر ماں اپنے بچوں کے مستقبل سے وابستہ بے شمار خواب آنکھوں میں سجائے رکھتی ہے۔ کوئی انہیں علم و ہنر کی بلندیوں پر دیکھنا چاہتی ہے، تو کوئی ان کے اچھے انسان اور باکردار شہری بننے کی تمنا کرتی ہے۔ ان خوابوں کی تعبیر محض خواہشات سے نہیں، بلکہ مسلسل توجہ، بہتر تربیت اور مناسب رہنمائی سے ممکن ہوتی ہے۔ نئے تعلیمی سال کی آمد دراصل ان امیدوں کو تازہ کرنے اور نسل ِ نو کے روشن مستقبل کی بنیادوں کو مزید مستحکم کرنے کا ایک حسین موقع ہے۔
* نیا تعلیمی سال بچوں کے لئے نئی کتابوں، نئے اسباق اور نئی منزلوں کا پیغام لے کر آتا ہے، مگر اس سفر کی حقیقی تیاری صرف بازاروں سے بستے اور یونیفارم خرید لینے سے مکمل نہیں ہوتی۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ گھروں میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں علم کو عزت حاصل ہو، مطالعے کو اہمیت دی جائے اور بچوں کے اندر سیکھنے کا شوق پروان چڑھے۔
* یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ بچے کی شخصیت کی تعمیر میں گھر کا ماحول بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ بچے اپنے اردگرد کے رویوں، عادات اور اقدار سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ اسی لئے ماؤں کو چاہئے کہ وہ نئے تعلیمی سال کے آغاز سے ہی بچوں کے معمولات کو منظم کریں، ان کے وقت کی قدر پیدا کریں اور ان کے اندر احساسِ ذمہ داری بیدار کریں۔ محبت اور شفقت کے ساتھ کی گئی رہنمائی بچوں کے دلوں میں دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گرمی میں جِلد کے مسائل سے بچنے کے مؤثر طریقے
* موجودہ دور میں جہاں علم کے ذرائع بے شمار ہیں، وہیں توجہ بٹانے والے وسائل بھی کم نہیں۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے زندگی کو آسان ضرور بنایا ہے، لیکن ان کے بے جا استعمال سے بچوں کی یکسوئی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مائیں نگرانی اور اعتماد کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کریں، تاکہ بچے جدید سہولتوں سے فائدہ بھی اٹھائیں اور ان کے مضر اثرات سے بھی محفوظ رہ سکیں۔
* گھر کی بڑی بہنیں بھی اس تعلیمی سفر میں ایک اہم معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی رہنمائی کرکے، ان کی مشکلات کو سمجھ کر اور ان میں مطالعے کا ذوق پیدا کرکے ان کے لئے ایک بہترین نمونہ بن سکتی ہیں۔ گھر کا خوشگوار اور علمی ماحول بچوں میں اعتماد اور شوقِ تعلیم کو فروغ دیتا ہے۔
ز تعلیم کا مقصد صرف امتحانات میں کامیابی حاصل کرنا یا اعلیٰ ملازمت پانا نہیں، بلکہ ایک متوازن، باشعور اور بااخلاق شخصیت کی تشکیل بھی ہے۔ اگر علم کے ساتھ کردار، دیانت، احترامِ انسانیت اور احساسِ ذمہ داری شامل نہ ہوں، تو تعلیم اپنی حقیقی روح سے محروم ہو جاتی ہے۔ اس لئے بچوں کی ذہنی نشوونما کے ساتھ ان کی اخلاقی تربیت بھی وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بال گیلے ہوں تو یہ پانچ کام بالکل نہ کریں
* مطالعہ انسان کی فکر کو وسعت بخشتا اور شخصیت کو نکھارتا ہے۔ اگر گھروں میں کتاب دوستی کا ماحول پیدا ہو جائے اور بچوں کو مفید کتابوں، سیرتِ نبویؐ اور عظیم شخصیات کی زندگیوں سے روشناس کرایا جائے، تو ان کے اندر علم کے ساتھ اعلیٰ اقدار بھی پروان چڑھتی ہیں۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو انسان کو زندگی بھر فائدہ پہنچاتا ہے۔
* حقیقت یہ ہے کہ قوموں کی ترقی کا آغاز تعلیمی اداروں سے پہلے گھروں سے ہوتا ہے۔ جب مائیں اپنے بچوں کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی پر خصوصی توجہ دیتی ہیں، تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرہ پر مرتب ہوتے ہیں۔ ایک باشعور ماں اپنے خاندان ہی نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے بھی روشنی کا مینار ثابت ہوتی ہے۔
* نئے تعلیمی سال کی یہ دستک ماؤں اور بڑی بہنوں کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ وہ نسل ِ نو کے خوابوں کی حفاظت کریں، ان کے اندر علم و آگہی کا چراغ روشن کریں اور انہیں ایسی تربیت سے آراستہ کریں جو زندگی کے ہر میدان میں ان کے لئے کامیابی اور سربلندی کا ذریعہ بن سکے۔ کیونکہ درحقیقت قوموں کے مستقبل کی تعمیر اینٹ اور پتھروں سے نہیں، بلکہ ماؤں کی محبت، بصیرت اور بیدار نگاہوں سے ہوتی ہے۔